نلگنڈہ ایک ہی خاندان کے 4 افراد کی موت خودکشی نہیں قتل۔ حیدرآباد کے پرانے شہر کے روڈی شیٹرس نے موت کے گھاٹ اتارا۔ تحقیقات میں چونکا دینے والے حقائق کا انکشاف

نلگنڈہ: ریاست تلنگانہ نلگنڈہ ضلع مستقر کی تلنگانہ کالونی میں ایک ہی خاندان کے چار افراد کی مشتبہ موت کے معاملے میں اہم پیش رفت ہوئی ہے۔
باوثوق ذرائع کے مطابق شوہر بیوی محمد سلطان (45)، حسینہ (38)، بیٹا مزمل(20) اور بیٹی افسرہ (14) کو ملزمین نے بے دردی سے قتل کیا تھا۔
اطلاعات کے مطابق پولیس نے کرائے کے قاتلوں کی گینگ کے چھ ارکان کو حراست میں لے کر ایک خفیہ مقام پر تفتیش شروع کر دی ہے۔ ابتدائی تحقیقات میں خاندانی جھگڑوں اور جائیداد کے تنازعات کو قتل کی ممکنہ وجہ قرار دیا جا رہا ہے۔
یہ قتل 22 تاریخ کو کیا گیا تھا۔ اگرچہ جائے واردات سے کوئی واضح ثبوت نہیں ملا تھا تاہم پولیس نے سخت محنت اور تحقیقات کے بعد سپاری گینگ کو گرفتار کر لیا۔ پولیس کے مطابق فورنسک رپورٹ میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ مقتول افراد کو تیز دھار ہتھیار سے حملہ کر کے قتل کیا گیا تھا۔
سلطان شہر کے پرکاشم بازار میں بیاگ فروخت کرنے کا کاروبار کرتے تھے۔ بتایا جاتا ہے کہ گزشتہ کچھ دنوں سے میاں بیوی کے درمیان جھگڑے چل رہے تھے۔ مقامی افراد کے مطابق سلطان اکثر شراب نوشی کے بعد گھر آ کر جھگڑا کرتے تھے۔
ان کا بیٹا مزمل اے سی ٹیکنیشن کے طور پر کام کرتا تھا جبکہ حسینہ ایک خانگی اسکول میں ٹیچر تھیں۔ بیٹی اسی اسکول میں ساتویں جماعت کی طالبہ تھی۔
مقامی لوگوں کے مطابق سلطان کی پہلی بیوی کا انتقال ہو چکا تھا۔ بعد میں انہوں نے حسینہ سے دوسری شادی کی تھی جبکہ موجودہ دونوں بچے سلطان کی پہلی بیوی کی اولاد تھے۔
ذرائع کے مطابق قتل ہونے والی حسینہ کے پہلے شوہر کی بیٹی اور داماد نے مبینہ طور پر سپاری گینگ کے ذریعے یہ قتل کروایا۔
معلوم ہوا ہے کہ حسینہ کی ماضی میں دو شادیاں ہو چکی تھیں بعد ازاں انہوں نے نلگنڈہ کے محمد سلطان سے تیسری شادی کی۔ سلطان کی بھی اس سے قبل دو شادیاں ہو چکی تھیں۔ سلطان اپنی پہلی بیوی کے بچوں محمد مزمل اور افسرہ کے ساتھ نلگنڈہ میں رہ رہے تھے۔
حسینہ کے نام پر تقریباً ایک کروڑ روپے مالیت کی زمینیں اور مکانات موجود تھے۔ بتایا جاتا ہے کہ حسینہ نے کہا تھا کہ وہ اپنی جائیداد اپنے تیسرے شوہر سلطان کے بچوں کے نام کرنے والی ہیں وہ جائیداد اپنے پہلے شوہر کی بیٹی کو نہیں دیں گی۔ اسی بات پر رنجش پیدا ہوئی۔
ذرائع کے مطابق حسینہ کے پہلے شوہر کی بیٹی اور اس کے داماد نے مل کر حیدرآباد کے پرانے شہر سے تعلق رکھنے والے چار روڈی شیٹرس کے ذریعے یہ قتل کروایا۔
پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق محمد سلطان کے جسم پر چاقو کے 6 زخم پائے گئے جبکہ حسینہ کے جسم پر 7 زخم، بیٹی افسرہ کے جسم پر 9 زخم اور مزمل کے جسم پر 16 چاقو کے وار کے نشانات پائے گئے۔
پولیس نے ملزمین کو حراست میں لے کر تفتیش شروع کر دی ہے۔ مزید تفصیلات سامنے آنا ابھی باقی ہے۔



