مسلم جے اے سی نظام آباد کے قائدین کی عامتہ المسلمین سے لازمی طورپر ایس آئی آر میں نام درج کروانے کی اپیل

ایس آئی آرکے تحت ناموں کے عدم اندراج پر مسلمانوں کو ناقابل تلافی نقصان کا سامنا کرنا پڑے گا
مسلم جے اے سی نظام آباد قائدین کی عامتہ المسلمین سے لازمی طورپر نام درج کروانے کی اپیل

نظام آباد: 24 /جون(اردو لیکس)الیکشن کمیشن آ ف انڈیا کی جانب سے تلنگانہ ریاست بھر میں خصوصی طورپر فہرست ووٹر پر نظر ثانی SIRکے عملی طورپر 25/جون 2026ء سے آغاز کئے جانے کے پیش نظر مسلم جوائنٹ ایکشن کمیٹی نظام آباد کنوینر احمد عبدالعظیم، جوائنٹ کنوینر مولانا کریم الدین کمال، ذمہ داران جے اے سی محمد نصیر الدین، مولانا سید سمیع اللہ، مولانا حیدرقاسمی، مولانا عابد قاسمی نے لمرا گارڈ ن فنکشن ہال نظام آباد میں منعقدہ صحافتی کانفرنس کو مخاطب کرتے ہوئے عامتہ المسلمین کو خصوصی ووٹر لسٹ پر نظر ثانی SIRپر کئے جارہے گھرگھر سروے مہم میں لازمی طورپر حصہ لینے اور اپنے افراد خاندان کے جن کی عمر 18سال سے زائد ہو اور سال 2002ء کی ووٹر لسٹ میں نام بھی شامل ہو ان کے ناموں کو ہر حال میں SIRکے سلسلہ میں گھرگھرپہنچنے والے بی ایل اوز، بی ایل اے اور دیگر عہدیداروں کے ساتھ نہایت ہی بہتر انداز میں حسن سلوک سے پیش آتے ہوئے ایس آئی آر کے فارم میں خانہ پوری کرتے ہوئے ہر ممکن احتیاط کے ساتھ تفصیلات درج کروائیں
۔ جے اے سی قائدین نے کہاکہ ملک میں ملت اسلامیہ کے حالات انتہائی نازک دور سے گذررہے ہیں اور ملک کے دیگر ریاستوں میں ایس آئی آرکے نفاذ کے بعد اقلیتوں و مسلمانوں کے ناموں کو لاکھوں کی تعداد میں ہذف کئے جانے کے انکشافات بھی منظر عام پر آئے ہیں جس کے پیش نظر نظام آباد ضلع کے تمام مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ ایس آئی آر فارم کی خانہ پوری کرتے ہوئے اپنے دینی و ملی اور شہری فرائض کو بحسن و خوبی انجام دیں۔
انہوں نے کہاکہ خاندان کے ہر ایک 18سال سے زائد عمر کے فرد کو بی ایل اوز کی جانب سےSIRکے دو فارم دئیے جائیں گے جن میں 2عدد پاسپورٹ فوٹو (بیاک گراؤنڈ وائٹ) کے ساتھ ساتھ تفصیلات درج کروائیں۔ ان قائدین نے ایس آئی آر کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہاکہ اگر اس میں کسی قسم کی لاپرواہی، غفلت و تساہلی برتی جائے تو اس کا ناقابل بیان خمیازہ بھگتنا پڑے گا اور حکومت کی تمام حاصل ہونے والی فلاحی اسکیمات سے بھی محروم ہونا پڑے گا اس کے علاوہ جمہوری حق ووٹ سے بھی نام ہذف کردیاجائے گااور ان کی شہریت بھی خطرے منڈلاتے ہوئے مشکوک کردیاجائے گا
جس کے لئے ناقابل بیان مسائل ومشکلات سامنا کرنا پڑے گا۔ جے اے سی قائدین نے تمام دینی، ملی، فلاحی و مذہبی سیاسی و سماجی اور مساجد تنظیموں سے خواہش کرتے ہوئے کہاکہ SIRکے اس عمل کیلئے پہل کرتے ہوئے آگے آئیں اور تمام اپنے علاقے و حلقوں کے مسلمانوں کی مدد و تعاون کریں جس میں تعلیم یافتہ نوجوانوں لڑکے و لڑکیوں کو آگے آنے کی شدید ضرورت ہے۔ انہو ں نے واضح کیاکہ اگر کسی ووٹر کانام 2002ء کے ووٹر لسٹ میں شامل نہ ہونے پر بھی ایس آئی آر فارم کی خانہ پوری کرتے ہوئے تفصیلات درج کرواسکتا ہے
۔ اس کے علاوہ بیرو ن ممالک میں رہنے والے نوجوانوں کے نام بھی ایس آئی آر میں خاندان کے سرپرست بھی داخل کرسکتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ایس آئی آر کے تحت میپنگ کا پہلا مرحلہ مکمل ہوگیا ہے اور دوسرے مرحلے کے طورپر 25/جون تا 24/جولائی 2026ء تک مسلسل ایک ماہ تک SIRکا عمل جاری رہے گا۔ اس کے بعد الیکشن کمیشن آف انڈیا کی جانب سے خصوصی طورپر کی گئی ایس آئی آر کے ووٹر لسٹ کے مسودے کی تفصیلات کی جائے گی جس میں ایس آئی آر کے تحت داخل کئے گئے تفصیلات کی جانکاری اور نام کی شمولیت و اندراج کاہر ایک ووٹر کو حاصل کرنی ہوگی
۔ جے اے سی نظام آباد قائدین نے جمعہ کے موقع پر مساجد میں آئمہ مساجد اور کمیٹیوں کو جمعہ کے خطبہ سے قبل ایس آئی آر کی اہمیت اور اس سے غفلت و لاپرواہی برتنے سے ہونے والے ناقابل بیان نقصانات سے متعلق ملت اسلامیہ کو واقف کروانے کی درخواست کی ہے۔ اس صحافتی کانفرنس میں جے اے سی قائدین ارشد متین مظاہری، محمد فیروز علی، ادریس مرزا، عبداللہ و دیگر موجود تھے۔



