انٹر نیشنل

وینزویلا میں قیامت خیز زلزلہ.- بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصان کا خدشہ

ساوتھ امریکہ کے ملک وینزویلا  مسلسل دو طاقتور زلزلوں سے لرز اٹھا، جس کے نتیجے میں دارالحکومت سمیت کئی علاقوں میں شدید تباہی کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ زلزلوں کی شدت کے باعث متعدد کثیر منزلہ عمارتیں منہدم ہوگئیں جبکہ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ بڑی تعداد میں لوگ ملبے تلے دبے ہوئے ہیں، جس سے جانی نقصان میں نمایاں اضافے کا اندیشہ ہے۔

 

امریکی جیولوجیکل سروے  نے خبردار کیا ہے کہ ابتدائی زلزلوں کے بعد مزید شدید جھٹکے آ سکتے ہیں، جس کے نتیجے میں تباہی کی شدت بڑھ سکتی ہے۔ ادارے کے مطابق ہلاکتوں کی تعداد 10 ہزار سے لے کر ایک لاکھ تک پہنچنے کا امکان ہے جبکہ بڑے پیمانے پر مالی نقصان بھی متوقع ہے۔

 

تاحال وینزویلا کی حکومت نے ہلاکتوں کی سرکاری تعداد جاری نہیں کی ہے، تاہم مقامی حکام اور عینی شاہدین کے مطابق زخمیوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ حکومت نے زلزلہ متاثرہ علاقوں کے مکینوں کو گھروں سے باہر نکلنے اور محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایت دی ہے۔

 

احتیاطی تدابیر کے تحت بعض علاقوں میں گھروں کو پٹرولیم سپلائی عارضی طور پر منقطع کر دی گئی ہے تاکہ مزید حادثات اور نقصانات سے بچا جا سکے۔ حکام کا کہنا ہے کہ کئی عمارتوں کو نقصان پہنچا ہے اور صورتحال اب بھی تشویشناک ہے۔

 

 

24 جون وینزویلا میں قومی تعطیل کا دن تھا، جس کے باعث معمول کے مقابلے میں زیادہ تر لوگ اپنے گھروں میں موجود تھے۔ پہلا زلزلہ شام تقریباً 6 بجے آیا، جس کے بعد خوفزدہ شہری بڑی تعداد میں گھروں سے نکل کر سڑکوں پر آ گئے۔ حکام کے مطابق تعطیل کے باعث گھروں میں لوگوں کی موجودگی جانی نقصان میں اضافے کی ایک بڑی وجہ بن سکتی ہے۔

 

وینزویلا کی صدر ڈیلسی روڈریگز نے بھی اپنے پیغام میں کہا ہے کہ اس آفت کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد بہت زیادہ ہو سکتی ہے۔

 

دو بڑے زلزلوں کے بعد اب تک تقریباً 20 آفٹر شاکس ریکارڈ کئے گئے ہیں۔ صورتحال کی سنگینی کے پیش نظر قائم مقام صدر ڈیلسی روڈریگز نے ملک بھر میں ہنگامی حالت نافذ کرنے کا اعلان کیا ہے۔

 

زلزلے کے باعث میکویشیا بین الاقوامی ہوائی اڈے کو بھی نقصان پہنچا ہے، جس کے بعد اسے عارضی طور پر بند کر دیا گیا۔ امدادی اور ریسکیو ٹیمیں متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیوں میں مصروف ہیں جبکہ ملبے تلے دبے افراد کو نکالنے کی کوششیں جاری ہیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button