شاہ آباد قتل۔ ملزم نے نابالغ لڑکی اور اس کے گھر والوں کا جینا حرام کر رکھا تھا

حیدرآباد: جمعہ کی رات ضلع رنگا ریڈی شاہ آباد میں 6 افراد کو قتل کرنے کے واقعہ نے پوری ریاست میں سنسنی پھیلا دی۔ فرار ملزم کی گرفتاری کے لیے پولیس نے 10 خصوصی ٹیمیں تشکیل دی ہیں ۔
تفصیلات کے مطابق شاہ آباد منڈل کے گاؤں دیوالہ گوڑہ کا ا رہنے والا 29 سالہ پاروتی راج کمار آوارہ گردی کا عادی تھا اور جوئے و سٹے بازی کی وجہ سے بھاری قرض میں ڈوبا ہوا تھا۔ سال 2018 میں اس نے اپنے ہی گاؤں کی سریتا (35) سے محبت کی شادی کی تھی
جن کے دو بچے پرکشت (4) اور دیویکشت (2) ہیں۔ شادی کے بعد اس نے کچھ وقت ڈرائیور کے طور پر کام کیا۔ یہ دیکھ کر کہ راج کمار سدھر رہا ہے اس کے والدین نے اپنی زمین بیچ کر اس کا کچھ قرض ادا کیا اور شاہ آباد کے پی آر آر اسٹیڈیم کے پاس ایک گھر خرید کر دیا۔
راج کمار وہاں اپنی بیوی اور بچوں کے ساتھ رہنے لگا۔اسی دوران راج کمار نے اپنے پڑوس میں رہنے والی انٹر فرسٹ ایئر کی ایک 17 سالہ طالبہ پر بری نظر ڈالی۔ وہ اپنی ماں نانی اور 19 سالہ معذور بہن کے ساتھ رہتی تھی۔ راج کمار کالج آتے جاتے وقت لڑکی کا پیچھا کرتا اور فون کر کے ہراساں کرتا تھا۔
لڑکی کے گھر والوں نے راج کمار سے جھگڑا بھی کیا لیکن اس کے رویے میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ لڑکی کے شدید خوفزدہ ہونے پر اس کی ماں نے چھ ماہ قبل اس کا کالج چھڑوا دیا گیا۔ اس کے بعد لڑکی کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے کے لیے راج کمار نے اپنے گھر کے سامنے سی سی ٹی وی کیمرہ لگا دیا۔
اس بدتمیزی سے تنگ آکر لڑکی کے گھر والوں نے راجکمار کو اس کے آبائی گاؤں بھیج دیا جہاں وہ کچھ مہینوں سے اپنی بیوی اور بچوں کے ساتھ رہ رہا تھا۔ 16 مئی کو لڑکی کی ماں اسے انٹر کے امتحان کے لیے شمس آباد کے ایک کالج لے گئی۔
راج کمار نے پیچھا کرتے ہوئے کالج پہنچ کر امتحان کے بعد باہر نکلنے والی لڑکی کا ہاتھ پکڑ کر کھینچنے کی کوشش کی۔ جب ماں اپنی بیٹی کو لے کر بھاگنے لگی تو اس نے راستہ روک کر گالیاں دیں اور دھمکی دی کہ "جیسے تمہارے باپ کو مارا، ویسے ہی تم سب کو مار ڈالوں گا”۔
راج کمار کی دھمکیوں سے پریشان ہو کر لڑکی اور اس کی ماں نے 16 مئی کو شاہ آباد پولیس اسٹیشن میں شکایت درج کروائی جس پر راج کمار کے خلاف پوکسو (POCSO) ایکٹ کے تحت کیس درج کیا گیا۔
کیس درج ہونے کے بعد راجکمار فرار ہو گیا اور لڑکی کے رشتہ داروں کا الزام ہے کہ پولیس نے اسے پکڑنے میں لاپرواہی برتی۔ بعد میں راج کمار نے عدالت سے رجوع کر کے 12 جون کو پیشگی ضمانت حاصل کر لی۔
دوسری طرف، لڑکی کو ہراساں کرنے پر راج کمار کی بیوی سریتا بھی اس سے جھگڑا کرتی تھی، جس پر خاندانی بزرگوں کی موجودگی میں پنچایت بھی ہوئی۔
راج کمار اپنے خلاف پوکسو کیس درج کرانے پر لڑکی کے خاندان سے اور پنچایت بٹھانے پر اپنی بیوی سے شدید نفرت کرنے لگا۔ اس نے لڑکی اور اس کی ماں کو کئی بار دھمکی دی کہ وہ ان کے پورے خاندان کو ختم کر دے گا۔



