جنرل نیوز

کانگریس 2023 کے اقلیتی اعلامیہ پر اپنا موقف واضح کرے: ایس ڈی پی آئی تلنگانہ

 

حیدرآباد، 4 ستمبر: سوشیل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا (SDPI) تلنگانہ نے کانگریس کی زیرِ قیادت ریاستی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ 2023 کے اسمبلی انتخابات سے قبل جاری کردہ اقلیتی اعلامیہ میں کئے گئے وعدوں پر عمل درآمد کی جامع اور نکات وار رپورٹ عوام کے سامنے پیش کرے۔

 

پارٹی کے مطابق کانگریس نے اقلیتوں کی فلاح و بہبود، تعلیم، روزگار، معاشی خودمختاری اور سماجی تحفظ سے متعلق متعدد اہم وعدے کئے تھے۔ ان میں سالانہ 4,000 کروڑ روپے کا اقلیتی بہبود بجٹ، اقلیتی نوجوانوں اور خواتین کے لیے سبسڈی پر مبنی قرضوں کی خاطر سالانہ 1,000 کروڑ روپے، ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام تحفۂ تعلیم اسکیم، شادی کی امداد میں اضافہ، ائمہ، مؤذنین، خدام، پادریوں اور گرنتھیوں کے لیے مالی معاونت، اردو اساتذہ کے لیے خصوصی DSC، اقلیتی سب پلان، وقف جائیدادوں کا تحفظ و بازیابی اور معاشی طور پر کمزور اقلیتی خاندانوں کے لیے رہائشی سہولت جیسے وعدے شامل تھے۔

 

ایس ڈی پی آئی نے کہا کہ کانگریس حکومت کو تلنگانہ میں اقتدار سنبھالے تقریباً تین سال گزر چکے ہیں۔ ایسے میں اقلیتی برادری کو یہ جاننے کا پورا حق ہے کہ انتخابی اعلامیہ میں کئے گئے وعدوں میں سے کتنے عملی طور پر نافذ ہوئے، کتنی رقم مختص کی گئی، کتنی رقم خرچ ہوئی اور کتنے مستحقین کو اس کا فائدہ پہنچا۔

 

ایس ڈی پی آئی تلنگانہ کے ریاستی صدر سید منصور شاہ نے کہا کہ اقلیتی اعلامیہ عوام کے سامنے محض انتخابی نعرے کے طور پر نہیں بلکہ ایک عہد اور وعدے کے طور پر پیش کیا گیا تھا۔ اب حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ ہر وعدے کے بارے میں مکمل حقائق عوام کے سامنے رکھے۔

 

انہوں نے کہا کہ حکومت کو واضح کرنا چاہئے کہ ہر وعدے کے تحت کون سے سرکاری احکامات جاری کئے گئے، کتنی رقم مختص کی گئی، کتنی رقم خرچ ہوئی اور حقیقت میں کتنے اقلیتی افراد اس سے مستفید ہوئے۔

 

ایس ڈی پی آئی نے سالانہ 4,000 کروڑ روپے کے اقلیتی بہبود بجٹ کے حوالے سے حکومت سے سوال کیا کہ ہر سال کتنی رقم مختص کی گئی اور حقیقت میں کتنی رقم خرچ ہوئی۔ اسی طرح سالانہ 1,000 کروڑ روپے کے سبسڈی پر مبنی قرضوں کے تحت موصول ہونے والی درخواستوں، منظور شدہ درخواستوں اور مستحقین میں تقسیم کی گئی رقم کی تفصیلات بھی طلب کی گئی ہیں۔

 

پارٹی نے ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام تحفۂ تعلیم اسکیم، 1.60 لاکھ روپے کی شادی امداد، مذہبی عہدیداران کے اعزازیہ، اردو اساتذہ کے لیے خصوصی DSC، اقلیتی سب پلان، وقف جائیدادوں کی ڈیجیٹلائزیشن، حفاظت اور بازیابی، اقلیتی خاندانوں کے لیے رہائشی امداد اور اقلیتی طلبہ کی اسکالرشپس و فیس ری ایمبرسمنٹ کے بارے میں بھی تفصیلات جاری کرنے کا مطالبہ کیا۔

 

ایس ڈی پی آئی نے کہا کہ محض بجٹ میں رقم مختص کردینا کامیاب عمل درآمد نہیں سمجھا جاسکتا۔ حکومت کو ہر بڑے وعدے کے حوالے سے حقیقی اخراجات، مستفیدین کی تعداد اور قابلِ پیمائش نتائج بھی عوام کے سامنے پیش کرنے چاہئیں۔

 

پارٹی نے تلنگانہ حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ عوامی سطح پر ’’اقلیتی اعلامیے پر عمل درآمد کی رپورٹ‘‘ جاری کرے، تاکہ شہری 2023 میں کئے گئے ہر وعدے پر ہونے والی پیش رفت کا آزادانہ طور پر جائزہ لے سکیں۔

 

سید منصور شاہ نے کہا کہ اقلیتی بہبود کسی پر احسان یا سیاسی رعایت کا معاملہ نہیں بلکہ آئینی حقوق، مساوی مواقع، سماجی انصاف اور جواب دہ طرزِ حکمرانی کا مسئلہ ہے۔

 

انہوں نے کانگریس حکومت پر زور دیا کہ وہ محض اعلانات تک محدود نہ رہے بلکہ 2023 میں کئے گئے وعدوں پر عمل درآمد کا واضح، شفاف اور مکمل حساب اقلیتی برادری کے سامنے پیش کرے۔

 

انہوں نے کہا، ’’انتخابات سے قبل وعدے کئے گئے تھے، اب عوام ان وعدوں پر عمل درآمد کا حساب چاہتے ہیں۔‘‘

متعلقہ خبریں

Back to top button