نظام آباد میں اردو صحافیوں کا دہلی چیف منسٹر اور پولیس کے خلاف احتجاج

نظام آباد میں اردو صحافیوں کا دہلی چیف منسٹر اور پولیس کے خلاف احتجاج
نہروپارک تا گاندھی چوک کینڈل مارچ
6 /ستمبر کو دھرنا چوک پر احتجاجی دھرنے کا اعلان
نظام آباد:5/ ستمبر (اردو لیکس) دہلی میں خاتون صحافیوں کے ساتھ مبینہ پولیس بدسلوکی اور بربریت کے خلاف نظام آباد میں اردو صحافیوں کی جانب سے احتجاج کیا گیا۔ اس سلسلہ میں نہروپارک سے گاندھی چوک تک کینڈل مارچ (موم بتی ریالی) نکالی گئی، جس میں صحافیوں نے دہلی پولیس اور دہلی حکومت کے خلاف نعرے بلند کرتے ہوئے واقعہ پر شدید برہمی کا اظہار کیا۔
اس موقع پر اردو صحافیوں نے بتایا کہ ایک روز قبل دہلی میں وزیر اعلیٰ سے مبینہ اسکام سے متعلق سوال کرنے پر 4PM کی رپورٹرز شاہین خان اور نفیسہ خا ں کے ساتھ پولیس کی جانب سے مبینہ طور پر بدسلوکی اور زد و کوب کی گئی۔ صحافیوں نے اس واقعہ کی مذمت کرتے ہوئے اسے آزادی صحافت پر حملہ قرار دیا اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔احتجاج کے دوران صحافیوں نے اعلان کیا کہ 6/ ستمبر، بروز اتوار، دھرنا چوک نظام آباد پردوپہر 2 بجے تا شام 5 بجے تک احتجاجی دھرنا منظم کیا جائے گا
۔صحافیوں نے تمام سیاسی جماعتوں، سماجی و ملی تنظیموں اور مختلف طبقات سے احتجاج میں شرکت کرتے ہوئے اظہارِ یکجہتی کی اپیل کی۔ اس کے علاوہ ضلع بھر کے تمام صحافیوں سے بھی اپیل کی گئی کہ وہ بڑی تعداد میں شرکت کرتے ہوئے صحافیوں کے ساتھ ہونے والی مبینہ زیادتیوں کے خلاف اپنی آواز بلند کریں۔کینڈل مارچ میں اشفاق احمد خان المعروف پاپا خان، محمد یوسف الدین خان، ایم اے ماجد، محمد انور خان،سید عثمان علی شوکت، محمد خالد خان، محمد بلیغ احمد، عتیق احمدخان، محمد لطیف علیم الدین، سید یٰسین علی افسر، عقیل احمد، مرزا افسربیگ، سید قیصر، محمد امیر الدین، محمد فیروز خان، محمد غوث(نندی پیٹ)، سہیل خان، محمد شریف، محمد غفار احمد، ندیم احمد، سردار اکبرخان، محمد فہیم کے علاوہ دیگر صحافیوں نے شرکت کی
۔صحافیوں نے مطالبہ کیا کہ دہلی میں پیش آئے واقعہ کی غیر جانب دارانہ تحقیقات کرتے ہوئے صحافیوں کے ساتھ مبینہ بدسلوکی کے ذمہ دار اہلکاروں کے خلاف مناسب کارروائی کی جائے اور آزادی صحافت کا تحفظ یقینی بنایا جائے
۔علاوہ ازیں پریس کلب نظام آباد کی جانب سے جاری کردہ پریس نوٹ کے بموجب دہلی میں خواتین صحافیوں پر پولیس تشدد کے کیخلاف 11 بجے دن دھرنا چوک پر منظم کئے جانے والے احتجاج میں تمام ذرائع ابلاغ، بشمول سوشل میڈیا کے تمام صحافیوں سے شرکت کی اپیل کی گئی۔



