تلنگانہ اُردو اکیڈیمی قیام کے ”گولڈ ن جوبلی“ تقاریب میں ریاستی اُردو صحافتی نمائش کے انعقاد کا مطالبہ

تلنگانہ اُردو اکیڈیمی قیام کے ”گولڈ ن جوبلی“ تقاریب میں ریاستی اُردو صحافتی نمائش کے انعقاد کا مطالبہ
ریاستی سطح کے چھوٹے اُردو اخبارات کے ایڈیٹرس معہ سینئر صحافیوں کو خصوصی اعزازو تہنیت پیش کی جائے: رفیق شاہی
گولڈن جوبلی تقاریب کے ضمن میں چھوٹے اُردو اخبارات کو اشتہار جاری کرنے متعلقہ حکام پرزور

نظام آباد: 24/جولائی(ای میل) ملک کی 29ویں ریاست تلنگانہ کے 2/جون 2014ء کو قیام کے بعد تلنگانہ میں ترقیاتی اقدامات کوبڑے پیمانے پر ترجیح دی جارہی ہے۔ جاریہ ریاستی کانگریس حکومت چیف منسٹر ریونت ریڈی کی قیادت میں تعمیری و ترقیاتی اقدامات کو مزید تیز کرتے ہوئے اور اقلیتوں کی فلاح وبہبود کیلئے فنڈس مختص کئے جارہے ہیں۔
اس کے علاوہ ریاستی وزیراقلیتی بہبود جناب محمد اظہر الدین، حکومتی مشیر محمد علی شبیرکی قیادت میں اقلیتیں ترقی کی راہ پرگامزن ہے۔ اسی طرح ریاستی اردو اکیڈیمی میں جاریہ اُردو کی ترقی و پذیرائی کیلئے کئے جارہے اقدامات چیرمین تلنگانہ اردو اکیڈمی جناب طاہر بن حمدان و ڈائرکٹر /سکریٹری جناب اسد اللہ و اسسٹنٹ ڈائرکٹر جناب وی کرشنا کی کاوشوں سے ترقی کی سمت گامزن ہے۔ جناب طاہر بن حمدان چیرمین اردو اکیڈیمی کی خصوصی دلچسپی کے باعث تلنگانہ اردو اکیڈمی کی جانب سے صحافیوں، ادیبوں، شاعروں، مصنفین کے علاوہ محبان اردو کی فلاح و ترقی کیلئے مثبت اقدامات کئے جارہے ہیں
۔ تلنگانہ اُردو اکیڈمی حکام نے اُردو اکیڈیمی کے قیام کے 50سال مکمل ہونے پر ”گولڈن جوبلی“ تقاریب کا حیدرآباد کے علاوہ نظام آباد، محبوب نگر، کریم نگراور ورنگل کے علاوہ جیسے اہم اضلاع مستقروں پر آئندہ ماہ اگست کے دوران منعقد کرنے کے فیصلہ کا متحد ہ ضلع نظام آباد سے وابستہ کہنہ مشق صحافی و حکومت تلنگانہ کی جانب سے حاصل کردہ ”کارنامہ حیات ایوارڈ۔2023ء“ برائے شعبہ اُردو صحافت اور ایڈیٹر ان چیف ہفتہ وار للکار نظام آباد جناب رفیق شاہی کی جانب سے جاری کردہ ایک صحافتی اعلامیہ میں بتایاکہ ان منعقدہ مختلف تقاریب کے دوران ریاستی سطح پر کل ہند مشاعرہ، شام غزل، نعتیہ مشاعرہ، دکنی مزاحیہ مشاعرہ، ڈھولک کے گیت، ڈرامہ کے علاوہ قوالی، دکنی فوڈ فیسٹول اور اُردو کتب میلہ کے انعقاد کرنے کی یہاں اطلاعات ہے جس کے پیش نظر اگر ان منعقدہ مختلف تقاریب میں ریاستی اُردو صحافتی نمائش کو بھی شامل کیاجائے کیونکہ ملک کی آزادی سے قبل ریاست حیدرآباد (دکن) میں برسر اقتدار نظام حکومت سے ہی اُردو صحافت کا آغاز رہا ہے۔
بعد ازاں ملک کی آزادی کے بعد 1947ء تا 1956ء کے دوران ریاست حیدرآباد(دکن) کے حدود میں شہر حیدرآباد کے علاوہ نظام آباد مستقر سے کئی اُردو اخبارات کی اشاعت کا آغاز عمل میں آچکا تھا۔ جن میں سے بعض اُردو اخبارات اس وقت بند ہوچکے ہیں اور بعض اپناوجود برقرار رکھنے میں کامیاب ہوگئے ہیں اس کے باوجود موجودہ دور میں یہ اخبارات مالی مشکلات سے دوچار ہیں پھر بھی اُردو زبان کے فروغ کو جاری رکھنے کی غرض سے آج بھی یہ ریاستی سطح کے اُردو اخبارات بلاناغہ شائع ہورہے ہیں۔ یہ اقدام قابل ستائش کے مترادف کہلاتی ہے۔
اس جاریہ اقدام کے پیش نظر ریاستی سطح پر گذشتہ 50سال سے زائد عرصہ سے شائع ہونے والے روزنامہ، ہفتہ وار اور پندرہ روزہ اخبارات معہ ماہنامے، رسائل و جرائد کے علاوہ ریاستی وضلعی سطح پر اردو کاز کیلئے خدمات انجام دینے والے موجودہ روزنامے اور ہفتہ وار اخبارات سے وابستہ ایڈیٹرس و صحافیوں کو بھی خصوصی اعزازی انعامات کے ذریعہ ہمت افزائی و تہنیت پیش کرنے اور اس کے علاوہ ریاستی سطح کے چھوٹے اُردو روزنامہ و ہفتہ وار اخبارات کیلئے اشتہار جاری کرنے کا رفیق شاہی نے متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا۔
بتایاجاتا ہے کہ موجودہ تلنگانہ دوسری برسر اقتدار کانگریس حکومت کی جانب سے ان مختلف تقاریب کے انعقاد کیلئے (1.20) کروڑ روپئے خصوصی بجٹ کے طورپر منظور ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ واضح رہے کہ تلنگانہ اُردو اکیڈیمی کا قیام متحدہ ریاست آندھراپردیش میں 31/ڈسمبر1975ء کو عمل میں لایا گیا تھا۔



