گورنمنٹ ڈگری کالج برائے نسواں (خودمختار)، کریم نگر میں ڈیجیٹل اردو ٹولز پر دو روزہ قومی ورکشاپ کا آغاز

گورنمنٹ ڈگری کالج برائے نسواں (خودمختار)، کریم نگر میں ڈیجیٹل اردو ٹولز، کمپیوٹر کی مدد سے ترجمہ، اردو خوش خطی اور جدید اردو املا پر دو روزہ قومی ورکشاپ کا آغاز
شاتاواہنا یونیورسٹی کے "گورنمنٹ ڈگری کالجوں کے لیے علمی استحکام پروگرام (100 روزہ پروگرام )” کے تحت ایک مشترکہ علمی اقدام:
کریم نگر، 24/ جولائی( نثار احمد پروانہ)۔
شاتاواہنا یونیورسٹی کے "گورنمنٹ ڈگری کالجوں کے لیے علمی استحکام (100 روزہ پروگرام )” کے تحت "ڈیجیٹل اردو ٹولز، کمپیوٹر کی مدد سے ترجمہ، اردو خوش خطی اور جدید اردو املا” کے عنوان سے دو روزہ قومی ورکشاپ کا آغاز آج گورنمنٹ ڈگری کالج برائے نسواں (خودمختار)، کریم نگر کے آڈیٹوریم میں ہوا۔
اس ورکشاپ کا انعقاد شعبۂ اردو، ستواہنا یونیورسٹی، کریم نگر اور شعبۂ اردو، گورنمنٹ ڈگری کالج برائے نسواں (خودمختار)، کریم نگر کے باہمی اشتراک سے کیا جا رہا ہے۔
افتتاحی اجلاس کا آغاز تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا۔ ڈاکٹر نازیہ رحمن نے نہایت خوش اسلوبی کے ساتھ نظامت کے فرائض انجام دیے۔ تقریب کی صدارت انچارج پرنسپل محترمہ افسر عثمانی نے فرمائی، جبکہ ڈاکٹر ڈی۔ سریش، کنٹرولر آف ایگزامینیشنز، ستواہنا یونیورسٹی نے مہمانِ خصوصی کی حیثیت سے شرکت کی۔
اپنے خطاب میں ڈاکٹر ڈی۔ سریش نے کہا کہ ستواہنا یونیورسٹی ہمیشہ سے طلبہ کی علمی اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو فروغ دینے والی سرگرمیوں کی حوصلہ افزائی کرتی رہی ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ موجودہ دور میں ڈیجیٹل ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت (Artificial Intelligence) تعلیم اور امتحانی نظام کا لازمی حصہ بن چکے ہیں، اور اردو طلبہ کو جدید ڈیجیٹل مہارتوں سے آراستہ کرنے کی یونیورسٹی کی یہ کوشش نہایت قابلِ تحسین ہے۔
اپنے خطاب میں ڈاکٹر محمد ابرار الباقی، صدرِ شعبۂ اردو، شاتاواہنا یونیورسٹی، اور نائب پرنسپل، یونیورسٹی کالج آف آرٹس اینڈ سوشل سائنسز نے ڈیجیٹل خواندگی، مصنوعی ذہانت اور ٹیکنالوجی پر مبنی تدریس کی بڑھتی ہوئی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی کے 100 روزہ ایکشن پلان کا بنیادی مقصد اردو طلبہ کو ڈیجیٹل اردو ٹولز، کمپیوٹر کی مدد سے ترجمہ، اردو خوش خطی اور جدید اردو املا کی عملی تربیت فراہم کرنا ہے، تاکہ وہ قومی اور بین الاقوامی سطح پر مؤثر انداز میں مقابلہ کرنے کے قابل بن سکیں۔ انہوں نے ایم۔اے۔ اردو سالِ اول کے طلبہ اور میزبان کالج کے طلبہ و طالبات پر زور دیا کہ وہ اس قیمتی علمی موقع سے بھرپور استفادہ کریں۔
پہلی تکنیکی نشست مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی (MANUU)، حیدرآباد کے ممتاز ماہر پروفیسر ایم۔ عبدالسميع صدیقی نے "ڈیجیٹل اردو ٹولز اور مصنوعی ذہانت” کے موضوع پر منعقد کی۔ انہوں نے شرکاء کو ChatGPT، Gemini، Canva، NotebookLM اور دیگر مصنوعی ذہانت پر مبنی جدید ڈیجیٹل ٹولز کی عملی تربیت فراہم کی اور اردو تدریس، تحقیق، ترجمہ، علمی تحریر، پریزنٹیشن سازی اور تدریسی مواد کی تیاری میں ان کے مؤثر استعمال کا عملی مظاہرہ کیا۔
دوپہر کی تکنیکی نشست میں ڈاکٹر کلیم محی الدین، صدر شعبہ اردوگورنمنٹ ڈگری اینڈ پی جی کالج، سدی پیٹ نے کمپیوٹر کی مدد سے ادبی ترجمہ کے موضوع پر اظہارِ خیال کیا۔ انہوں نے جدید سافٹ ویئر اور ڈیجیٹل وسائل کے ذریعے انگریزی اور اردو کے مابین ترجمے کے اصول اور عملی طریقۂ کار کی وضاحت کی۔
اس سے قبل ڈاکٹر محمد جعفر جری، ایسوسی ایٹ پروفیسر، شعبۂ اردو، شاتا واہنا یونیورسٹی اور پروگرام کوآرڈینیٹر نے ورکشاپ کے اغراض و مقاصد اور پروگرام کی ساخت پر روشنی ڈالتے ہوئے ماہرینِ مضمون کا تعارف کرایا۔ ڈاکٹر مسرور سلطانہ، صدرِ شعبۂ اردو، گورنمنٹ ڈگری کالج برائے خواتین (خودمختار)، کریم نگر نے مہمانانِ گرامی، ماہرینِ مضمون اور شرکاء کا خیر مقدم کیا۔
ورکشاپ میں اساتذۂ کرام، ایم۔اے۔ اردو کے طلبہ و طالبات، ریسرچ اسکالرز اور مختلف کالجوں سے تعلق رکھنے والے شرکاء نے بھرپور جوش و خروش کے ساتھ شرکت کی، جن میں جناب ناظم الدین منور اور ڈاکٹر حمیرہ تسنیم بھی شامل تھے۔
پہلے دن کی کارروائی کے اختتام پر مہمانِ خصوصی، ماہرینِ مضمون اور دیگر معزز شخصیات کی شال پوشی اور گل پیشی کے ذریعے تہنیت کی گئی۔ بعد ازاں ڈاکٹر نازیہ رحمن نے اظہارِ تشکر پیش کرتے ہوئے مہمانِ خصوصی، صدرِ اجلاس، ماہرینِ مضمون، منتظمین، کالج انتظامیہ، اساتذۂ کرام، طلبہ و طالبات اور تمام شرکاء کا دلی شکریہ ادا کیا اور اس علمی پروگرام کو کامیاب بنانے میں سب کے تعاون کو سراہا۔



