آندھرپردیش میں ایس آئی آر کا عمل مکمل – 44.71 لاکھ ووٹرس کے نام حذف ہونے کا خدشہ

سَر عمل میں 44.71 لاکھ ووٹرز کے نام حذف ہونے کا خدشہ، 31 جولائی کو مسودہ فہرست جاری ہوگی
امراوتی: ووٹر لسٹ کی خصوصی جامع نظرثانی کے تحت 44,71,523 ووٹ (کل ووٹوں کا 10.75 فیصد) ایسے زمرے میں شامل کئے گئے ہیں جنہیں حذف کیے جانے کا امکان ہے۔ الیکشن کمیشن نے ان ووٹروں کو "اَن کلیکٹ ایبل” قرار دیا ہے، یعنی ایسے ووٹر جن کے اینیومریشن فارم دستیاب نہیں ہو سکے یا جن کی تفصیلات حاصل نہیں ہو سکیں۔
31 جولائی کو جاری ہونے والی مسودہ ووٹر فہرست میں ان ووٹروں کے نام شامل نہیں ہوں گے۔ تاہم ان کی تفصیلات الگ سے ASDD فہرست میں درج کی جائیں گی، جس میں A (غیر حاضر/سراغ نہ ملنے والے)، S (مستقل طور پر منتقل ہونے والے)، D (وفات یافتہ) اور D (دوہرا اندراج) شامل ہیں۔
31 جولائی سے 30 اگست تک متاثرہ ووٹر اپنے دعوے اور اعتراضات جمع کرا سکیں گے، جس کے بعد الیکشن کمیشن کے اہلکار زمینی سطح پر جانچ کریں گے۔ اگر ووٹر کی معلومات درست ثابت ہوئیں تو اس کا نام 3 اکتوبر کو جاری ہونے والی حتمی ووٹر فہرست میں شامل کر دیا جائے گا، جبکہ باقی نام حذف کر دیے جائیں گے۔
اگر ووٹر بروقت کارروائی نہ کریں تو وہ اپنے حقِ رائے دہی سے محروم ہو سکتے ہیں۔
ایس آئی آر عمل کے تحت اینیومریشن فارم کی تقسیم، ان کی وصولی اور ڈیجیٹائزیشن کا مرحلہ جمعہ کو مکمل ہو گیا۔ ریاست کے 4,16,27,694 رجسٹرڈ ووٹروں میں سے 3,71,56,171 (89.25 فیصد) ووٹروں کے فارم جمع کر کے ڈیجیٹائز کر دیے گئے۔
اس دوران 8,55,560 ووٹروں کو "نو میپنگ” زمرے میں رکھا گیا ہے۔ ان کے فارم میں غلط یا نامکمل معلومات ہونے کی وجہ سے ان کا ریکارڈ میاپ نہیں ہو سکا۔ مسودہ فہرست جاری ہونے کے بعد ان ووٹروں کو نوٹس جاری کئے جائیں گے۔
انہیں درست معلومات یا الیکشن کمیشن کی جانب سے مقرر کردہ 11 میں سے کسی ایک قابل قبول دستاویز کے ذریعہ اپنی تفصیلات کی تصدیق کرانی ہوگی، بصورت دیگر ان کے نام بھی ووٹر لسٹ سے خارج کر دیے جائیں گے۔
اہم تاریخیں:
31 جولائی: مسودہ ووٹر فہرست کی اشاعت
31 جولائی تا 30 اگست: دعوے اور اعتراضات کی وصولی
31 اگست تا 28 ستمبر: نوٹس، سماعت اور دعووں و اعتراضات کا ازالہ
3 اکتوبر: حتمی ووٹر فہرست کی اشاعت




