جرائم و حادثات

اسلم خان قتل کیس سوتیلی ماں ہی نکلی قاتل ۔ ناجائز تعلقات کا انکشاف، ناندیڑ کے کرایہ کے قاتلوں سے نرمل میں کروایا قتل

سوتیلی ماں سے ناجائز تعلق، شادی کا فیصلہ جان لیوا ثابت ہوا؛ نرمل سپاری قتل کیس میں چونکا دینے والا انکشاف

 

حیدرآباد: تلنگانہ کے ضلع نرمل میں پیش آئے اسلم خان سنسنی خیز قتل کیس میں پولیس نے حیران کن انکشافات کرتے ہوئے بتایا کہ مقتول کی سپاری دے کر قتل کرانے کی سازش خود اس کی سوتیلی ماں نے رچی تھی۔

 

پولیس نے مرکزی ملزمہ انوری بیگم سوتیلی ماں کے ساتھ مہاراشٹر سے تعلق رکھنے والے بین الریاستی سپاری گینگ کے ارکان کو گرفتار کر لیا ہے۔پولیس کے مطابق مقتول اسلم خان کا اپنی سوتیلی ماں انوری بیگم کے ساتھ کافی عرصے سے ناجائز تعلق تھا۔

 

بعد ازاں اسلم خان نے عام لوگوں کی طرح باعزت زندگی گزارنے اور شادی کرکے نئی زندگی شروع کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس نے اپنے اس ارادے سے انوری بیگم کو بھی آگاہ کیا، لیکن وہ اس فیصلے کی سخت مخالف تھی۔ اس نے اسلم پر دباؤ ڈالا کہ وہ شادی نہ کرے اور ان دونوں کا ناجائز تعلق اسی طرح جاری رہے۔ انوری بیگم نے مالی مدد کی پیشکش بھی کی اور دھمکی دی کہ اگر اس نے شادی کی تو اسے قتل کروا دے گی۔

 

اسلم خان نے اس کی بات ماننے سے انکار کر دیا اور پورا معاملہ اپنے گھر والوں کو بتا دیا، جس کے بعد یہ راز کھل گیا۔ بعد ازاں اسلم خان گھر چھوڑ کر قریب میں واقع اپنے چاچا کے گھر منتقل ہوگیا. اس بات پر انوری بیگم شدید برہم ہو گئی۔

 

اسے اپنی بدنامی کا خوف تھا اور یہ بھی برداشت نہ تھا کہ اسلم اسے چھوڑ کر کسی دوسری لڑکی سے شادی کرے۔ اسی رنجش میں اس نے اسلم کو راستے سے ہٹانے کا منصوبہ بنایا۔

 

پولیس کے مطابق انوری بیگم نے مہاراشٹر کے مقیت نامی شخص سے 6 لاکھ روپے میں اسلم کے قتل کا معاہدہ کیا اور 50 ہزار روپے پیشگی ادا کئے۔ اس نے قاتلوں کو اسلم کی تصاویر، روزانہ کی نقل و حرکت اور دیگر معلومات مسلسل فراہم کیں۔ اس سازش میں اس نے اپنے بھائی شیخ محمد کو بھی شامل کیا۔تحقیقات میں سامنے آیا کہ سپاری گینگ نے یکم جولائی کو مقامی اسپتال کے قریب اسلم کو قتل کرنے کی پہلی کوشش کی، لیکن وہ ناکام رہی۔

 

بعد ازاں 15 جولائی کو دوبارہ منصوبہ بندی کی گئی۔ قاتل مہاراشٹر سے اسکارپیو گاڑی میں نرمل پہنچے اور پولیس سے بچنے کے لیے گاڑی کی نمبر پلیٹ کے آخری ہندسے "6” کو ہٹا دیا۔ انہوں نے وائی ایس آر کالونی کے ایڈن گارڈن کے قریب گھات لگا لی۔اسی دوران انوری بیگم فون کے ذریعے مسلسل قاتلوں کو اسلم کی نقل و حرکت سے آگاہ کرتی رہی۔

 

اس نے بتایا کہ اسلم جس آٹو میں آ رہا ہے اس پر سیاہ جھنڈے لگے ہیں اور اس نے سیاہ رنگ کی قمیص پہن رکھی ہے۔جونہی اسلم خان آٹو میں وہاں پہنچا، سپاری قاتلوں نے سڑک کے بیچ اس کا راستہ روک کر چاقوؤں سے اندھا دھند حملہ کر دیا۔ شدید زخمی اسلم خان کو اسپتال منتقل کیا گیا،

 

جہاں علاج کے دوران اس کی موت ہو گئی۔واقعہ کے بعد ضلع نرمل کی ایس پی ڈاکٹر جی جانکی شرمیلا، آئی پی ایس کی ہدایت پر چار خصوصی تحقیقاتی ٹیمیں تشکیل دی گئیں۔ بھینسہ کے اے ایس پی سائی کرن، نرمل ایس ڈی پی او پی سرینواس، سی آئی ایم کرشنا اور دیگر پولیس اہلکاروں نے سی سی ٹی وی فوٹیج اور تکنیکی شواہد کی مدد سے تیز رفتار تحقیقات کرتے ہوئے ناندیڑ کے راستے ملزمین کا سراغ لگا لیا

 

۔پولیس نے مرکزی ملزمہ انوری بیگم سمیت سپاری گینگ کے تمام ارکان کو گرفتار کر لیا۔ ملزمین کے قبضے سے ایک اسکارپیو گاڑی، ایک موٹر سائیکل، دو چاقو اور پانچ موبائل فون ضبط کئے گئے۔ انوری بیگم کو عدالتی ریمانڈ پر بھیج دیا گیا جبکہ دیگر ملزمین کو عدالت میں پیش کیا گیا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button