جرائم و حادثات

"یہاں کیوں آئے ہو پوچھنے پر قتل” اذاں نامی لڑکے کے قاتل گرفتار

حیدرآباد ۔‌کالا پتھر پولیس نے 17 سالہ فیض محمد عرف اذان کے سنسنی خیز قتل کیس کو محض چند دنوں میں حل کرتے ہوئے تین ملزمین کو گرفتار کر لیا۔ پولیس نے قتل میں استعمال ہونے والے دو خون آلود تیز دھار ہتھیار، خون سے آلودہ کپڑے، ایک ایکٹیوا اور تین موبائل فون بھی ضبط کر لیے ہیں۔

 

فلک نما ڈویژن کے اسسٹنٹ کمشنر آف پولیس ایم اے جاوید کے مطابق محمد ابرار، محمد اسماعیل عرف فرحت اور محمد اشفاق  کو گرفتار کیا گیا ہے۔

"یہاں کیوں آئے ہو پوچھنے قتل” حیدرآباد کے پرانے شہر سے اذاں نامی لڑکے کے قاتل گرفتار

 

پولیس کے مطابق 19 جولائی کی شب تقریباً 2:30 بجے تینوں ملزمین بریانی شاہ ٹیکری علاقے میں ایک شخص کی تلاش میں پہنچے تھے۔ اسی دوران وہاں موجود فیض محمد عرف اذان (17 سال) نے ان سے وہاں آنے کی وجہ پوچھی جس پر تلخ کلامی ہوگئی۔ مشتعل ہو کر دو ملزمان نے تیز دھار خنجروں سے نوجوان پر حملہ کر دیا جبکہ تیسرے ملزم نے بھی تشدد میں حصہ لیا۔

 

شدید زخموں کے باعث فیض محمد موقع پر ہی دم توڑ گیا جبکہ ملزمان ایکٹیوا اسکوٹر پر فرار ہو گئے۔واقعے کے بعد کالا پتھر پولیس نے مقدمہ درج کر کے عینی شاہدین کے بیانات، سی سی ٹی وی فوٹیج، تکنیکی شواہد اور سائنسی سراغوں کی مدد سے تفتیش شروع کی۔

 

باوثوق ذرائع کی اطلاع پر 27 جولائی کو چندرائن گٹہ کے علاقے سے تینوں ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا۔دورانِ تفتیش ملزمان نے اپنے جرم کا اعتراف کر لیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ تحقیقات کے دوران یہ بھی سامنے آیا کہ گرفتار تینوں ملزمان کا ماضی میں بھی مجرمانہ ریکارڈ رہا ہے۔

 

اس کیس کو کامیابی سے حل کرنے پر اے سی پی ایم اے جاوید نے کالا پتھر پولیس اسٹیشن کے انسپکٹر محمد خلیل پاشا، سب انسپکٹر بی شیوا کمار ریڈی اور پولیس ٹیم کی کارکردگی کی ستائش کی۔

متعلقہ خبریں

Back to top button