عمران خان کی رہائی کا مطالبہ پاکستان میں زبردست احتجاج۔ پولیس کا لاٹھی چارج اور آنسو گیس کا استعمال

نئی دہلی: پاکستان کے سابق وزیرِ اعظم اور عمران خان کی گرفتاری کو تین سال مکمل ہونے پر ملک بھر میں ایک بار پھر ان کی رہائی کے مطالبے کے ساتھ احتجاجی مظاہرے کیے گئے۔
ان مظاہروں کے دوران ہونے والی جھڑپوں میں 100 سے زائد افراد کو گرفتار کر لیا گیا۔یہ احتجاج بنیادی طور پر خیبر پختونخوا میں شروع ہوئے۔ بعد ازاں لاہور راولپنڈی، کراچی سمیت مختلف شہروں میں عمران خان کے حامیوں نے ان کے سیاسی و آئینی حقوق کی بحالی کے مطالبے کے ساتھ بڑے پیمانے پر ریلیاں نکالیں۔
مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے پولیس نے لاٹھی چارج کیا اور آنسو گیس کے شیل بھی فائر کیے۔اس موقع پر خیبر پختونخوا کے وزیرِ اعلیٰ اور پی ٹی آئی رہنما محمد سہیل آفریدی نے پاکستانی حکومت کو 27 ستمبر تک کی مہلت دیتے ہوئے مطالبہ کیا کہ
عمران خان اور ان کی اہلیہ کے خلاف درج مقدمات کی منصفانہ عدالتی سماعت کروائی جائے جبکہ سابق وزیرِ اعظم کو اپنے وکلا اور طبی عملے سے ملاقات کی اجازت بھی دی جائے۔ انہوں نے پشاور میں پارٹی کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے
خبردار کیا کہ اگر عمران خان کو انصاف نہ ملا تو 27 ستمبر کو پاکستان بھر سے عوام اسلام آباد کی جانب مارچ کریں گے۔دوسری جانب عمران خان کے ارکان خاندان اور پی ٹی آئی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ جیل میں انہیں مناسب طبی سہولیات فراہم نہیں کی جا رہیں
اور ان کی بینائی بھی متاثر ہو رہی ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیم نے بھی الزام عائد کیا ہے کہ گزشتہ تین برسوں سے عمران خان کو منصفانہ عدالتی کارروائی کے حق سے محروم رکھا گیا ہے اور طویل عرصے تک تنہائی میں قید رکھا گیا۔



