نیشنل

تمام دستاویز دکھانے کے باوجود ممبئی کی خاتون کو بنگلہ دیش بھیج دیا گیا، شوہر اور بچے ممبئ میں مقیم۔خاندان نے سنائی اپنی دکھ بھری آپ بیتی

ممبئی: ممبئی میں حراست میں لی گئی مغربی بنگال کی ایک خاتون کو درانداز ہونے کے شبہ میں بنگلہ دیش بھیج دیا گیا۔ مغربی بنگال کی رہنے والی شاہدہ گزشتہ 20 برس سے اپنے خاندان کے ساتھ نوی ممبئی میں مقیم تھیں۔

 

پولیس نے انہیں 18 جولائی کو درانداز ہونے کے شبہ میں حراست میں لیا اور بالآخر بنگلہ دیش بھیج دیا۔40 سالہ شاہدہ اپنے 45 سالہ شوہر جُمّن جو ایک ہاؤسنگ سوسائٹی میں کیئر ٹیکر ہیں اور اپنے چھوٹے بیٹے کے ساتھ نوی ممبئی کے سن پاڑہ علاقے میں رہتی تھیں۔

 

ان کا چھوٹا بیٹا ساتویں جماعت میں زیرِ تعلیم ہے۔ یہ جوڑا مغربی بنگال کے شمالی 24 پرگنہ ضلع کے سوروپ نگر کا رہنے والا ہے جہاں ان کا بڑا بیٹا موبائل فون ریپئر ٹیکنیشن کے طور پر کام کرتا ہے۔جُمّن نے میڈیا کو بتایا، ’’18 جولائی کو وہ بازار گئی تھیں جہاں پولیس نے انہیں پکڑ لیا اور ان کا موبائل فون ضبط کر لیا

 

جب ہمیں اس بارے میں اطلاع ملی تو ہم ان کے تمام دستاویزات لے کر چیمبور کے حراستی مرکز گئے تاکہ پولیس کو حقیقت سے آگاہ کر سکیں۔‘‘انہوں نے مزید کہا، ’’ہم نے ان کا پیدائش کا سرٹیفکیٹ، اسکول کا سرٹیفکیٹ، ان کے والدین کی زمین کے کاغذات اور دیگر شناختی دستاویزات دکھائے۔

 

اس کے باوجود تین دن بعد ہمیں بتایا گیا کہ انہیں بنگلہ دیش بھیج دیا گیا ہے۔ ہمارے دونوں خاندان سوروپ نگر کے رہنے والے ہیں۔ ہم بھارتی شہری ہیں اور دو دہائیوں سے ممبئی میں رہ رہے ہیں لیکن اس سے پہلے ہمیں کبھی ایسی پریشانی کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔‘‘

 

ذرائع کے مطابق شاہدہ کو آسام لے جایا گیا اور پھر ایک گروپ کے ساتھ بنگلہ دیش بھیج دیا گیا۔ وہ بنگلہ دیش کے ستکھیرا میں ایک گھر میں پناہ لینے میں کامیاب ہوئیں جہاں سے انہوں نے اپنے خاندان سے رابطہ کیا۔شاہدہ نے اپنی آپ بیتی سنائی

 

انہوں نے بتایا، ’’انہوں نے مجھے آسام کی سرحد سے رات تقریباً ایک بجے بنگلہ دیش میں دھکیل دیا۔ میں کیچڑ بھرے کھیتوں سے گزرتے ہوئے آٹھ گھنٹے پیدل چل کر مرکزی سڑک تک پہنچی۔ میری حالت دیکھ کر مقامی لوگوں نے میری مدد کی پیشکش کی۔

 

ایک خاندان نے مجھے پناہ، کپڑے اور کھانا فراہم کیا۔ مقامی پولیس اس گھر کی نگرانی کرتی ہے لیکن ہم غریب لوگ ہیں میں آخر کب تک اس طرح رہ سکتی ہوں؟‘‘شاہدہ نے کہا ’’میں بھارتی شہری ہوں اور صرف اپنے گھر واپس جانا چاہتی ہوں۔ میرا بیٹا ساتویں جماعت میں پڑھتا ہے اس کی دیکھ بھال کون کرے گا؟‘‘

 

شاہدہ کے خاندان نے کہا ہے کہ وہ کلکتہ ہائی کورٹ میں درخواست دائر کرنے کی تیاری کر رہے ہیں۔ان کے شوہر جُمّن نے کہا، ’’میرے چچا اور خاندان کے دیگر افراد اس معاملے کو لے کر ہائی کورٹ میں درخواست دائر کریں گے۔ ہم انہیں واپس لانے کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں۔‘‘

 

شاہدہ کے مطابق ان کے خاندان نے مغربی بنگال میں ایس آئی آر کے عمل میں بھی حصہ لیا تھا۔ انہوں نے کہا ’’ہم تین بہنیں اور چار بھائی ہیں۔ ہمیں سماعت کے لیے بلایا گیا تھا اور ہم نے اپنے تمام دستاویزات جمع کرعائے تھے۔

 

میرے دو بھائیوں اور ایک بہن کا نام ووٹر لسٹ میں موجود ہے لیکن میری بڑی بہن اور میرا نام فی الحال ٹریبونل کے سامنے زیرِ غور ہے۔‘‘ مغربی بنگال مائیگرنٹ ورکر ایکتا منچ نے 8 اگست کو وزارتِ خارجہ کو خط لکھ کر شاہدہ کے دستاویزات کی تصدیق اور ان کی واپسی کے لیے فوری سفارتی مداخلت کا مطالبہ کیا ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button