مساجد اور مدارس کے ذمہ داران کیلئے اہم اطلاع۔ چوکس ہوجائیں ورنہ ہوسکتا ہے بینک اکاونٹ خالی

حیدر آباد۔ سائبر دھوکہ بازوں نے اب مدارس اور مساجد کے ذمہ داران کو اپنا نشانہ بنانا شروع کر دیا ہے۔ اس وقت سائبر دھو کہ بازوں کی ایک ٹولی بالخصوص حیدر آباد ریاست کے اضلاع میں سرگرم ہے۔
حالیہ دنوں میں شہر حیدر آباد اور جگتیال میں تین افراد کو دھو کہ دیا گیا جبکہ عادل آباد میں بھی دھوکہ دینے کی کوشش کی گئی جو ناکام ثابت ہوئی ۔ تفصیلات کے مطابق شہر کے عیدی بازار علاقہ کی ایک مسجد کے موذن صاحب سے اس ہفتہ سا بھر دھو کہ باز نے رابطہ قائم کیا اس نے اپنا تعلق آسٹریلیا یا کناڈا سے بتایااور کہا کہ وہ مسجد کی تعمیراتی سرگرمیوں میں حصہ لینا چاہتا ہے
اس نے مدد کی پیشکش کی جس پر سادہ لوح موذن نے سائبر دھوکہ باز کی باتوں پر یقین کر لیا اس نے مختلف بہانے بناتے ہوئے انہیں بتایا کہ ملیکی وجوہات کی بنا پر پہلے موذن صاحب کو 3 ٹرانزیکشن اس کے اکاونٹ میں کرنے ہوں گے جس کے بعد وہ ان کی رقم کے ساتھ امدادی رقم بھی روانہ کرے گا۔
مسجد کی تعمیر کے لئے بھی رقم روانہ کرے گا۔انہوں نے اس کی بات پر یقین کر لیا اور مرحلہ داری طور پر تین مرتبہ جملہ تم 7 ہزار روپے واپس نہ روانہ کئے جس کے بعد اس نے اندرون 10 منٹ رقم بھیجوانے کا وعدہ کیا لیکن رقم نہیں بھجوائی جس پر موذن صاحب کو تشویش ہوئی اور انہوں نے فوری طور پر اندرون ایک گھنٹہ سائبر کرائم ہیلپ لائن 1930 پر شکایت درج کروائی پولیس نے سائبر دھوکہ باز کے بینک اکاو نٹس منجمد کر دیئے گئے
جس کے بعد اس نے رقم واپس کر دی اور شکایت واپس نہ لینے پر دھمکیاں دیں ساتھ ہی اس نے اکاونٹ بحال کرنے کیلئے شکایت کنندہ پر دباؤ بھی ڈالا ۔ اسی طرح ضلع عادل آباد میں بھی سائبر پھر دھوکہ بازوں نے ٹھگ لینے کی کوشش کی۔ انہوں نے دار الانصار ویلفیر سوسائٹی کے تقریبا 5 ذمہ داران سے الگ الگ رابطہ قائم کرتے ہوئے زکوۃ کی رقم بھجوانے کا وعدہ کیا اور ان سے کہا کہ وہ غریب افرادکی مدد کرنا چاہتا ہے
اس کا تعلق بیرون ملک سے ہے۔ اس نے تقریبا ایک تا دیڑھ لاکھ روپے بھجوانے کا وعدہ کیا اور اس کے بعد کوئی عذر پیش کرتے ہوئے ابتدا میں اس کے اکاونٹ میں ٹرانزیکشن کی خواہش کی۔ سوسائٹی کے معتمد صحافی خضر احمد یافعی نے بتایا کہ وہ چوکسی کے باعث وہ رقم سے محروم ہونے سے محفوظ رہ گئے اور حاضر دماغی کے نتیجہ میں سائبر دھو کہ باز نا کام ہو گیا ۔
واضح رہے کہ دو روز قبل جگتیال کی مسجد زہرہ کے امام و خطیب مولا نا ماجد علی ندوی کے ساتھ اسی طرح کا واقعہ پیش آیا ۔ سائبر دھو کہ باز نے ان سے رابطہ قائم کرتے ہوئے زکوۃ کی رقم مستحقین تک پہنچانے کی پیشکش کی اور اس نے یہ بہانہ بنایا کہ مولانا کے اکاونٹ میں زیادہ رقم نہیں ہے جس کی وجہ سے رقم روانہ کرنے پر فیس لگے گی اس نے بہانہ بناتے ہوئے مولانا مرحلہ واری طور پر 48 ہزار روپئے آن لائن وصول کئے اور 85 ہزار روپے بھجوانے کا وعدہ کیا لیکن ایسی کوئی رقم ان کے اکاونٹ میں جمع نہیں ہوئی جس پر وہ پولیس سے رجوع ہوئے۔
تازہ طورپر حیدرآباد کے ایک اور شخص کو اسی طرح 48 ہزار کا دھوکہ دیا گیا۔ شاطر دھوکہ باز نے ان کے فون پر 80 ہزار روپئے جمع کروانے کا جھوٹا پیغام روانہ کیا اور 50 ہزار واپس اس کے اکاونٹ میں ڈالنے کو کہا ، سادہ لوح شخص نے اس کی باتوں پر یقین کرلیا اور اس کے اکاونٹ میں رقم منتقل کردی جس کے بعد انھوں نے بیلنس چیک کا تو معلوم ہوا کہ اس نے رقم جمع ہی نہیں کروائی الٹا ان سے رقم وصول کرلی ۔
سائبر دھوکہ بازوں کی اس ٹولی سے دھو کہ دہی کا شکار ہونے والے افراد نے بتایا کہ شاطر دھو کہ باز ابتدا میں جس شخص کو بھی نشانہ بنا رہا ہے اس کے آس پاس کے لوگوں اور دوستوں کی فہرست شائکہ سوشل میڈیا سے حاصل کرتا ہے اور پھر ان سے متاثر کن انداز میں مذہبی باتیں کرتے ہوئے انہیں اپنے -اعتماد میں لے کر دھو کہ دیا کرتا ہے۔



