نیشنل

ہندوتوا نظریہ ساز ساورکر کے خلاف ریمارک،راہل گاندھی کو سپریم کورٹ سے ملی راحت

نئی دہلی: کانگریس کے سینئر لیڈر اور لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی کو سپریم کورٹ سے بڑی راحت ملی ہے۔ ساورکر کے خلاف نامناسب تبصرے کرنے کے الزام میں ان کے خلاف درج مجرمانہ ہتکِ عزت کے مقدمے اور لکھنؤ کی عدالت کی جانب سے جاری کیے گئے سمن کو سپریم کورٹ نے منسوخ کر دیا ہے۔

 

تفصیلات کے مطابق 2022 میں مہاراشٹرا میں منعقدہ ایک میڈیا کانفرنس کے دوران راہل گاندھی نے مبینہ طور پر کہا تھا کہ ویر ساورکر برطانوی حکومت کے خادم تھے اور انہیں برطانویوں کی جانب سے پنشن بھی ملتی تھی۔

 

ان تبصروں کو آزادی کے مجاہد کی توہین اور معاشرے میں نفرت پھیلانے والا قرار دیتے ہوئے اتر پردیش سے تعلق رکھنے والے ایک وکیل نے عدالت میں شکایت دائر کی تھی۔اس شکایت کی بنیاد پر لکھنؤ کی عدالت نے راہل گاندھی کو سمن جاری کیے تھے۔

 

راہل گاندھی نے ان سمن کو چیلنج کرتے ہوئے سپریم کورٹ سے رجوع کیا۔اس عرضی کی سماعت کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے نوٹ کیا کہ قانون کے مطابق اس معاملے کی سماعت کے لیے ضروری سرکاری منظوری موجود نہیں تھی۔

 

اس تکنیکی بنیاد کو مدنظر رکھتے ہوئے عدالت نے راہل گاندھی کے خلاف مقدمہ اور جاری کیے گئے سمن دونوں کو منسوخ کرنے کا حکم دیا۔یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ گزشتہ سماعتوں کے دوران سپریم کورٹ نے راہل گاندھی کو آزادی کے مجاہدین کے بارے میں غیر ذمہ دارانہ بیانات دینے سے خبردار کیا تھا۔

 

عدالت نے کہا تھا کہ ساورکر جیسے رہنماؤں کو مہاراشٹرا کے لوگ بہت عزت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اس لیے ایسی شخصیات کا مذاق اڑانے والے تبصرے مناسب نہیں ہیں۔بہرحال تازہ فیصلے میں تکنیکی قانونی بنیادوں پر راہل گاندھی کو اس مقدمے سے راحت مل گئی ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button