نیشنل

نلسار یونیوسٹی کانوکیشن تقریب میں چیف جسٹس آف انڈیا کو مہمانِ خصوصی بنانے پر اعتراض کا معاملہ ایک نئے موڑ پر پہنچ گیا

حیدرآباد: نلسار نیشنل اکیڈمی آف لیگل اسٹڈیز اینڈ ریسرچ یونیورسٹی کا تنازع ایک بار پھر شدت اختیار کرگیا ہے۔ نلسار کے 2026 بیچ کے طلبہ کی وکلا کی حیثیت سے رجسٹریشن نہ کرنے کے لیے تمام ریاستی بار کونسلوں کو بار کونسل آف انڈیا کی جانب سے دی گئی ہدایت اور پھر اسے واپس لیے جانے کے معاملے پر نلسار اسٹوڈنٹ بار کونسل نے سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔

 

طلبہ نمائندوں نے بار کونسل آف انڈیا کے چیئرمین منہر کمار مشرا سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ طلبہ اور اساتذہ کے بارے میں کیے گئے مبینہ نامناسب تبصروں پر فوری اور غیر مشروط معافی مانگیں۔نلسار طلبہ تنظیم نے واضح کیا کہ ایک آئینی جمہوری نظام میں سپریم کورٹ یا چیف جسٹس آف انڈیا سمیت کوئی بھی ادارہ تنقید سے بالاتر نہیں ہے۔

 

نلسار یونیورسٹی میں ہر سال ہونے والی کانوکیشن تقریب میں چیف جسٹس آف انڈیا کو مہمانِ خصوصی کے طور پر مدعو کرنا ایک روایت رہی ہے۔تاہم اس سال چیف جسٹس کو مہمانِ خصوصی بنائے جانے پر نلسار کے تقریباً 1,400 طلبہ میں سے 450 سے زائد طلبہ نے اعتراض کیا۔

 

طلبہ کے اس احتجاج پر بار کونسل آف انڈیا نے سخت موقف اختیار کرتے ہوئے جمعرات کو تمام ریاستی بار کونسلوں کو ہدایت دی کہ نالسار یونیورسٹی کے 2026 کے گریجویٹس کو اگلے حکم تک وکلا کے طور پر رجسٹر نہ کیا جائے۔اس فیصلے پر ملک بھر میں شدید تنقید ہوئی جس کے بعد بی سی آئی کے چیئرمین منہر کمار مشرا نے یہ حکم فوری طور پر واپس لے لیا۔

 

بی سی آئی کے اس فیصلے پر چیف جسٹس آف انڈیا جسٹس سوریہ کانت نے بھی جمعہ کو سخت اعتراض کیا۔ایسا سمجھا جارہا تھا کہ چیف جسٹس کے اس ردعمل کے بعد تنازع ختم ہوجائے گا لیکن اب نلسار کی اسٹوڈنٹ باڈی نے بی سی آئی سے معافی مانگنے کا مطالبہ کیا ہے۔

 

اس مطالبے کے بعد نالسار یونیورسٹی کا یہ معاملہ ایک بار پھر نئے تنازع اور نئے موڑ میں داخل ہوگیا ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button