"جنگِ آزادی میں مسلم رہنماؤں کا عظیم کردار آج کی مسلم نوجوان نسل کے نام ایک پیغام”
مضمون نگار
محمد انور خان
مدیر روزنامہ ہلچل تلنگانہ نظام آباد
15 اگست صرف ایک قومی تہوار نہیں بلکہ لاکھوں شہداء کی قربانیوں، ایثار، صبر، استقامت اور بے مثال جدوجہد کی یادگار ہے۔ ہندوستان کی آزادی کسی ایک مذہب، طبقے یا جماعت کی مرہونِ منت نہیں بلکہ اس سرزمین کے ہندو، مسلمان، سکھ، عیسائی اور دیگر تمام طبقات نے متحد ہو کر انگریز سامراج کے خلاف جدوجہد کی۔
بدقسمتی سے آج آزادی کی تاریخ کا مطالعہ محدود ہو گیا ہے اور نئی نسل کے سامنے صرف چند نام پیش کیے جاتے ہیں، جبکہ ہندوستان کی آزادی میں مسلمانوں کی بے مثال خدمات اور عظیم قربانیوں کو وہ مقام نہیں مل سکا جس کے وہ مستحق ہیں۔ ہزاروں علماء، دانشور، مجاہدین اور عوام نے اپنی جانیں، مال، جائیداد، عزت، صلاحیتیں اور مستقبل وطن کی آزادی پر قربان کر دیا۔
یہ مضمون خصوصاً مسلم نوجوانوں کے لیے ہے تاکہ وہ اپنے روشن ماضی سے واقف ہوں اور اپنے اسلاف کی قربانیوں پر فخر کرتے ہوئے ملک کی تعمیر و ترقی میں مثبت کردار ادا کریں۔
مولانا ابوالکلام آزادؒ — علم، سیاست اور قومی اتحاد کے معمار
مولانا ابوالکلام آزاد صرف ایک عظیم عالمِ دین ہی نہیں بلکہ آزادی کی تحریک کے ممتاز قائد تھے۔ انہوں نے نوجوانی ہی سے انگریز حکومت کے خلاف قلم اور زبان دونوں کے ذریعے جدوجہد کی۔
ان کے اخبارات "الہلال” اور "البلاغ” نے پورے ہندوستان میں آزادی کی روح بیدار کی۔ وہ متعدد مرتبہ جیل گئے مگر کبھی اپنے نظریات سے پیچھے نہیں ہٹے۔
مولانا آزاد متحدہ ہندوستان کے سب سے بڑے علمبردار تھے۔ ان کا یقین تھا کہ ہندوستان کی طاقت اس کی مذہبی اور ثقافتی ہم آہنگی میں ہے۔ آزادی کے بعد وہ آزاد ہندوستان کے پہلے وزیرِ تعلیم بنے اور جدید تعلیمی نظام کی بنیاد رکھی۔
اشفاق اللہ خانؒ — وطن کے لیے ہنستے ہوئے پھانسی قبول کرنے والے مجاہد
اشفاق اللہ خان کا نام ہندوستان کی تاریخ میں سنہری حروف سے لکھا جاتا ہے۔
کاکوری تحریک میں ان کا کردار انتہائی اہم تھا۔ گرفتاری کے بعد ان پر ہر قسم کا دباؤ ڈالا گیا کہ اپنے ساتھیوں کے خلاف گواہی دیں، مگر انہوں نے انکار کر دیا۔
19 دسمبر 1927 کو جب انہیں پھانسی دی گئی تو وہ قرآن کریم کی تلاوت کرتے ہوئے مسکراتے ہوئے تختۂ دار پر چڑھ گئے۔ انہوں نے ثابت کر دیا کہ وطن کی آزادی ایمان، غیرت اور قربانی کا تقاضا کرتی ہے۔
مولانا حسرت موہانیؒ — "انقلاب زندہ باد” کے خالق
مولانا حسرت موہانی عظیم شاعر، صحافی، عالمِ دین اور انقلابی رہنما تھے۔
انہوں نے سب سے پہلے مکمل آزادی (Complete Independence) کا مطالبہ کیا، جب کہ اس وقت اکثر رہنما محدود اختیارات کی بات کر رہے تھے۔
"انقلاب زندہ باد” کا نعرہ انہی کی زبان سے نکلا جو بعد میں پورے ملک کی آواز بن گیا۔ انہوں نے کئی برس جیلوں میں گزارے لیکن آزادی کی جدوجہد ترک نہیں کی۔
ریشمی رومال تحریک — علماء کی خفیہ انقلابی تحریک
ریشمی رومال تحریک ہندوستان کی آزادی کی ایک منفرد اور جرات مندانہ تحریک تھی۔
اس کی قیادت شیخ الہند مولانا محمود حسنؒ اور ان کے رفقاء نے کی۔ انگریزوں سے آزادی کے منصوبے ریشمی کپڑے پر تحریر کر کے ایک دوسرے تک پہنچائے جاتے تھے تاکہ راز محفوظ رہے۔
جب یہ تحریک بے نقاب ہوئی تو متعدد علماء گرفتار ہوئے، قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں، لیکن آزادی کی جدوجہد جاری رکھی۔
علی برادران — خلافت تحریک سے آزادی کی تحریک تک
مولانا محمد علی جوہر اور مولانا شوکت علی، جنہیں علی برادران کہا جاتا ہے، تحریکِ آزادی کے عظیم رہنما تھے۔
انہوں نے خلافت تحریک اور عدم تعاون تحریک کے ذریعے لاکھوں مسلمانوں کو آزادی کی جدوجہد سے جوڑا۔ ان کی ولولہ انگیز تقاریر نے پورے ملک میں آزادی کا جذبہ پیدا کیا۔
انہوں نے جیلیں کاٹیں، مالی مشکلات برداشت کیں مگر کبھی انگریز حکومت کے سامنے سر نہیں جھکایا۔
دیگر عظیم مسلم مجاہدین آزادی
ہندوستان کی آزادی میں بے شمار مسلم شخصیات نے ناقابلِ فراموش خدمات انجام دیں، جن میں خصوصاً:
بہادر شاہ ظفر
ٹیپو سلطان
بیگم حضرت محل
مولانا عبیداللہ سندھی
مولانا احمد سعید دہلوی
ڈاکٹر مختار احمد انصاری
حکیم اجمل خان
خان عبدالغفار خان
مولانا عبدالباری فرنگی محلی
مولانا حسین احمد مدنی
ان تمام شخصیات نے اپنی جان، مال، وقت، علم اور صلاحیتیں ملک کی آزادی کے لیے وقف کر دیں۔
مسلم نوجوانوں کے نام پیغام
آج ہمارے لیے ضروری ہے کہ ہم آزادی کی تاریخ کو صحیح تناظر میں پڑھیں اور اپنے اسلاف کی قربانیوں کو یاد رکھیں۔
قومیں صرف ماضی پر فخر کرنے سے ترقی نہیں کرتیں بلکہ اپنے بزرگوں کے کردار کو اپنا کر آگے بڑھتی ہیں۔ آج کی مسلم نوجوان نسل کو چاہیے کہ:
تعلیم کو اپنی پہلی ترجیح بنائے۔
ملک کی ترقی میں مثبت کردار ادا کرے۔
آئینِ ہند اور قومی یکجہتی کا احترام کرے۔
نفرت کے بجائے محبت، بھائی چارے اور خدمتِ خلق کو فروغ دے۔
اپنے اسلاف کی قربانیوں کو نئی نسل تک پہنچائے۔
اختتامیہ
15 اگست ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ آزادی ہمیں مفت میں نہیں ملی بلکہ لاکھوں جانوں کی قربانی، بے شمار آنسوؤں، جیلوں، اذیتوں اور مسلسل جدوجہد کا نتیجہ ہے۔
ہندوستان کی آزادی کی تاریخ مسلم رہنماؤں، علماء، مجاہدین اور عوام کی لازوال قربانیوں سے روشن ہے۔ ان کے کارناموں کو فراموش کرنا تاریخ کے ساتھ ناانصافی ہوگی۔
آئیے اس یومِ آزادی پر عہد کریں کہ ہم اپنے عظیم مجاہدینِ آزادی کی قربانیوں کو یاد رکھیں گے، ملک کی سالمیت، ترقی، قومی اتحاد اور بھائی چارے کے لیے اپنا بھرپور کردار ادا کریں گے۔
جئے ہند — وطن زندہ باد



