تلنگانہ

ایس آئی آر۔ تقریباً 93 لاکھ افراد کو نوٹس، 7 دن کے اندر دینا ہوگا جواب۔ عمر میں فرق کی بھی ہورہی ہے جانچ

حیدرآباد: ریاست تلنگانہ میں جامع ووٹر نظرثانی کے تحت تیار کی گئی مسودہ ووٹر لسٹ آج جاری کی جائے گی۔ پولنگ اسٹیشن اور منڈل کی سطح پر مسودہ ووٹر لسٹ شائع کی جائے گی۔ اس مسودہ فہرست پر اعتراضات 16 ستمبر تک قبول کیے جائیں گے جبکہ نوٹس جاری کرنے اور ان کے جوابات وصول کرنے کا عمل 15 اکتوبر تک جاری رہے گا۔

 

ریاست میں مجموعی طور پر 3 کروڑ 38 لاکھ 26 ہزار 448 ووٹرس ہیں ان میں سے 78.30 فیصد یعنی 2 کروڑ 64 لاکھ 87 ہزار 214 ووٹرس نے اپنے انیومریشن فارم جمع کروائے ہیں جبکہ 21.70 فیصد یعنی 73 لاکھ 39 ہزار 234 ووٹرس نے فارم جمع نہیں کروائے ان میں 9.22 لاکھ افراد فوت ہوچکے ہیں

 

11.25 لاکھ افراد غیر حاضر یا ناقابلِ تلاش ہیں، 45.18 لاکھ افراد مستقل طور پر دوسری جگہ منتقل ہوچکے ہیں، 6.70 لاکھ افراد کے ووٹ پہلے ہی کسی دوسری جگہ موجود ہیں جبکہ دیگر زمروں میں تقریباً 1.02 لاکھ افراد شامل ہیں۔ان تمام افراد کی تفصیلات پولنگ اسٹیشن کی سطح پر شائع کی جائیں گی۔

 

اس کے علاوہ ریاست میں 2.64 کروڑ ووٹرز نے اپنے انیومریشن فارم جمع کروائے ہیں لیکن ان میں سے تقریباً 32 لاکھ ووٹرس کے ووٹ میپ نہیں ہو سکے۔ ان افراد نے 2002 کی ووٹر لسٹ میں اپنے، اپنے والدین یا خاندان کے افراد کے ووٹوں سے متعلق تفصیلات جمع نہیں کرائی ہیں۔

 

الیکشن حکام منگل سے ان ووٹرد کو نوٹس جاری کریں گے جن کے ووٹ میپ نہیں ہو سکے ہیں۔ اگر یہ افراد مرکزی الیکشن کمیشن کی جانب سے تجویز کردہ 11 قسم کے دستاویزات میں سے کوئی ایک دستاویز پیش کردیں گے تو ان کا ووٹ برقرار رکھا جائے گا بصورتِ دیگر ان کا نام ووٹر لسٹ سے حذف کیا جاسکتا ہے۔

 

ریاست بھر میں ایسے تقریباً 32 لاکھ افراد ہیں۔ انہیں نوٹس جاری کرنے کا عمل الیکٹورل رجسٹریشن افسران، اسسٹنٹ الیکٹورل رجسٹریشن افسران اور بوتھ لیول افسران (BLOs) کے ذریعے انجام دیا جائے گا۔اس کے ساتھ ہی ریاست میں تقریباً 61 لاکھ ووٹرز کے ناموں میں 2002 کی ووٹر لسٹ اور 2025 کی ووٹر لسٹ کے درمیان فرق پایا گیا ہے۔

 

ناموں اور دیگر تفصیلات میں تقریباً 11 مختلف قسم کی غلطیاں یا تضادات سامنے آئے ہیں۔ ان 61 لاکھ ووٹرز کو بھی نوٹس جاری کیے جائیں گے۔نوٹس ملنے کے سات دن کے اندر جواب دینا ہوگا۔ ووٹرد کی جانب سے پیش کیے جانے والے دستاویزات کی جانچ کے بعد فیصلہ کیا جائے گا کہ ان کا ووٹ برقرار رکھا جائے یا نہیں۔

 

حکام نے کچھ خاندانوں میں عمر سے متعلق بھی کئی تضادات کی نشاندہی کی ہے۔ مثال کے طور پر ایک ہی گھر میں بھائیوں یا بہنوں کی عمروں میں 9 ماہ سے بھی کم کا فرق، والد اور بیٹے یا والدہ اور بیٹے کی عمروں میں غیر معمولی فرق، اور بعض صورتوں میں والدین اور بچوں کی عمر میں 15 سال سے کم یا 50 سال سے زیادہ کا فرق پایا گیا ہے۔

 

اسی طرح کچھ معاملات میں دادا، دادی اور پوتے یا نواسے کی عمر میں 40 سال سے بھی کم کا فرق پایا گیا ہے۔ ماضی میں کی گئی ایس آئی آر اور موجودہ ووٹر لسٹ میں درج عمروں کے درمیان نمایاں فرق کو بھی مختلف وجوہات کی بنا پر اناملی لسٹ میں شامل کیا گیا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ عمر درج کرتے وقت کسی غلطی کی وجہ سے ایسا ہوا ہوسکتا ہے۔ ایسی صورت میں پیدائش کا سرٹیفکیٹ پیش کرنا کافی ہوگا۔ضلع واری سطح پر دیکھا جائے تو سب سے زیادہ تقریباً 11 لاکھ ناموں اور عمروں میں تضادات رنگاریڈی ضلع میں پائے گئے ہیں

 

اس کے بعد حیدرآباد اور میڈچل اضلاع میں تقریباً 8،8 لاکھ، نظام آباد میں 5.10 لاکھ اور نلگنڈہ میں 4 لاکھ ووٹرز کے ناموں میں اختلافات پائے گئے ہیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button