بائیک خراب ہونے پر دوستوں کی ہراسانی۔ حیدرآباد میں نوجوان کی خودکشی، ملزمین گرفتار
حیدرآباد: موٹر سائیکل کی مرمت کے معاملے میں شدید دباؤ اور ہراساں کرنے کی وجہ سے ایک نوجوان کی خودکشی کا سبب بننے والے پانچ ملزمین کو مانصاحب ٹینک پولیس نے گرفتار کرلیا۔
پولیس کے مطابق چنچل گوڑہ کے رہنے والے 24 سالہ میر صفیان علی عرف عادل نے تقریباً چار ماہ قبل اپنے دوستوں محمد حمزہ پاشااور اسحاق الدین کی رائل اینفیلڈ بائیک لی تھی۔ وہ گاڑی روڈ حادثے میں خراب ہو گئی تھی
جس پر مذکورہ دونوں نواجوان پچھلے کچھ عرصے سے عادل پر مسلسل دباؤ ڈال رہے تھے کہ وہ یا تو اسے مکمل طور پر درست کروا کر دے یا پھر معاوضہ ادا کرے۔ عادل نے انہیں واضح کیا تھا کہ مالی مشکلات کی وجہ سے اس کے پاس پیسے نہیں ہیں۔
اسی سلسلے میں 19 اگست کی نصف شب مانصاحب ٹینک کے فرسٹ لانسر میں واقع ماروا لبرٹی اپارٹمنٹ کی ساتویں منزل کی چھت پر ملزمین حمزہ پاشا، اسحاق الدین، مصطفیٰ خان، محمد نواز اور عمران خان پارٹی کر رہے تھے۔ رات دو بجے کے قریب ملزمین نے فون کرکے عادل کو اپارٹمنٹ پر بلایا۔
عادل اپنے دوست شاہ رخ کے ساتھ وہاں گیا۔ چھت پر موجود پانچوں ملزمین نے عادل پر بائیک کی مرمت کرنے کے لیے سخت دباؤ ڈالا۔ عادل کے یہ کہنے کے باوجود کہ وہ پیسے ادا نہیں کر سکتا اور اگر اس پر دباؤ ڈالا گیا تو وہ خودکشی کر لے گا ملزمین نے اسے یہ کہہ کر شدید ذلیل کیا کہ "تمہاری جان جائے تب بھی ہمیں کوئی پرواہ نہیں، بائیک کی مرمت کر کے دینی ہی ہوگی۔”
ملزمین کے ظلم و ستم اور دباؤ سے تنگ آ کر عادل نے اپارٹمنٹ کی ساتویں منزل کی چھت سے نیچے چھلانگ لگا دی۔ شدید زخمی حالت میں اسے عثمانیہ اسپتال منتقل کیا گیا جہاں علاج کے دوران وہ 20 اگست کی دوپہر اس کی موت ہوگئی۔
متوفی کے والد کی شکایت پر پولیس نے خودکشی کے لیے اکسانے (مجبور کرنے) کا مقدمہ درج کر کے پانچوں ملزمین کو جمعہ کے روز گرفتار کر لیا۔




