عادل آباد میں بین ریاستی سائبر جرائم پیشہ گروہ گرفتار، 3.5 کروڑ کی دھوکہ دہی کا انکشاف – نیشنل فرٹیلائزرز کے نام پر فرنچائز دینے کا جھانسہ

بین ریاستی سائبر جرائم پیشہ گروہ گرفتار، 3.5 کروڑ کی دھوکہ دہی کا انکشاف
نیشنل فرٹیلائزرز کے نام پر فرنچائز دینے کا جھانسہ دے کر لاکھوں کی دھوکہ دہی — پانچ ملزمین گرفتار، 10 موبائل فون اور 70 ہزار روپے نقد ضبط ۔ ضلع ایس پی اکھل مہاجن آئی پی ایس کی پریس کانفرنس
عادل آباد،21/ اگست (اردو لیکس) ملک بھر میں سائبر جرائم کے ذریعے عوام کو کروڑوں روپے کا دھوکہ دینے والے بین ریاستی سائبر جرائم پیشہ گروہ کے پانچ ارکان کو عادل آباد سائبر کرائم پولیس نے گرفتار کرکے ریمانڈ پر بھیج دیا۔
اس بات کا انکشاف ضلع ایس پی اکھل مہاجن، آئی پی ایس نے جمعہ کو اے آر ہیڈکوارٹرس میں منعقدہ پریس کانفرنس میں کیا۔ایس پی نے بتایا کہ گرفتار ملزمین کا تعلق ریاست بہار سے ہے اور وہ ملک کی مختلف ریاستوں میں عام شہریوں کو سائبر فراڈ کا نشانہ بناتے ہوئے تقریباً 3.5 کروڑ روپے ہڑپ کرچکے ہیں۔ ملزمین کے خلاف ملک بھر میں تقریباً 498 سائبر جرائم کی شکایات سامنے آئی ہیں،
جبکہ صرف تلنگانہ میں ہی 90 سائبر کرائم کی شکایات درج ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ ضلع ایس پی کے مطابق ملزمین نے National Fertilizers Pvt. Ltd. کے نام سے جعلی ویب سائٹ تیار کرکے ملک بھر میں فرنچائز دینے کا جھانسہ دیا۔ ویب سائٹ پر درخواست کے ذریعے متاثرین سے آدھار، پین کارڈ، بینک کھاتوں اور دیگر ذاتی معلومات حاصل کی جاتیں، بعد ازاں رجسٹریشن فیس، لائسنس فیس، فرنچائز فیس، سروس چارجز اور دیگر اخراجات کے نام پر مرحلہ وار لاکھوں روپے وصول کیے جاتے تھے۔
اسی طرح ملزمین ’’بجاج لون‘‘ کے نام سے آن لائن قرض کی تلاش کرنے والے افراد کو بھی نشانہ بناتے تھے۔ درخواست کے ذریعے ان کی ذاتی معلومات حاصل کرکے مختلف فیس کے نام پر رقم وصول کی جاتی اور متعدد افراد کو دھوکہ دیا جاتا تھا۔ جئنتھ پولیس اسٹیشن میں درج کیس: بھورج منڈل کے مانڈاگڑہ گاؤں سے تعلق رکھنے والے اکونورو گنیش کو نیشنل فرٹیلائزرز کے نام سے جعلی اشتہار کے ذریعے فرنچائز دینے کا جھانسہ دے کر 3,85,725 روپے کا دھوکہ دیا گیا۔ سائبر جرائم پیشوں نے فون، واٹس ایپ اور ای میل کے ذریعے گنیش سے رابطہ کیا اور رجسٹریشن کے نام پر پہلے 50 ہزار روپے وصول کیے۔ بعد ازاں لائسنس، فرنچائز رجسٹریشن اور دیگر اضافی چارجز کے نام پر بار بار رقم ادا کرنے کے لیے دباؤ ڈالا گیا۔ متاثرہ شخص نے مختلف بینک کھاتوں، یو پی آئی اور این ای ایف ٹی کے ذریعے مجموعی طور پر 3,85,725 روپے منتقل کیے۔ رقم وصول کرنے کے بعد ملزمین نے فون کالز اور واٹس ایپ پیغامات کا جواب دینا بند کردیا،
جس پر متاثرہ شخص نے سائبر کرائم پولیس سے رجوع کیا۔ پولیس نے تکنیکی شواہد کی بنیاد پر تحقیقات کرتے ہوئے بہار سے تعلق رکھنے والے پانچ ملزمین کی شناخت کرکے انہیں گرفتار کرلیا۔
گرفتار ملزمین:
1. ابھشیک کمار عرف سورَو (24)
2. آشوتوش کمار عرف ببلو (33)
3. نشو کمار (25)
4. ریتیش کمار (24)
5. ابھیناش کمار (24)
تمام ملزمین کا تعلق بہار کے نوادہ اور نالندہ اضلاع سے بتایا گیا ہے۔ انہیں عدالت میں پیش کرنے کے بعد عدالتی تحویل میں بھیج دیا گیا۔ پولیس نے ملزمین کے قبضے سے 10 موبائل فون اور 70 ہزار روپے نقد ضبط کیے۔ تحقیقات میں یہ بھی سامنے آیا کہ سائبر فراڈ کے ذریعے حاصل کردہ رقم میں سے تقریباً 8 لاکھ روپے بینک کھاتوں اور اسٹاک مارکیٹ کے شیئرس میں سرمایہ کاری کیے گئے تھے،
جنہیں پولیس نے ضبط کرلیا ہے۔ ایس پی اکھل مہاجن نے عوام کو مشورہ دیا کہ آن لائن دستیاب فرنچائز، ملازمت، سرمایہ کاری اور لائسنس سے متعلق اشتہارات کی مکمل تصدیق کے بغیر کسی کو رقم ادا نہ کریں۔ انہوں نے جعلی ویب سائٹس، مشتبہ لنکس، بینک کھاتوں اور یو پی آئی تفصیلات کے ذریعے رقم منتقل کرنے سے بھی خبردار کیا
۔انہوں نے کہا کہ سائبر فراڈ کا شکار ہونے کی صورت میں فوری طور پر 1930 سائبر کرائم ہیلپ لائن پر اطلاع دیں اور قریبی پولیس اسٹیشن سے رجوع کریں۔ بین ریاستی سائبر جرائم پیشوں کا سراغ لگا کر انہیں گرفتار کرنے والی سائبر کرائم پولیس ٹیم کو ایس پی اکھل مہاجن نے مبارکباد دی۔
پریس کانفرنس میں ڈی ایس پی عادل آباد ایل۔ جیون ریڈی، جئنتھ سی آئی جی شراون، ایس آئی پیر سنگھ، گوتم، گوپی کرشنا اور پولیس کے دیگر عہدیدار و ملازمین موجود تھے۔




