تلنگانہ

جس کے پاس دماغ ہو وہ انٹرمیڈیٹ تعلیم ختم کرنے کی بات نہیں کرتا: کلواکنٹلہ کویتا

جس کے پاس دماغ ہو وہ انٹرمیڈیٹ تعلیم ختم کرنے کی بات نہیں کرتا: کلواکنٹلہ کویتا

انٹرمیڈیٹ تعلیم مضبوط نظام ہے، اسے ختم کرنے کے بجائے مزید مستحکم کیا جائے

وزیر اعلیٰ ریونت ریڈی کے اعلانات دیکھ کر تغلق بھی شرما جائے

حکومت اپنا واضح موقف پیش کرے۔’سیو انٹر ایجوکیشن‘ کانفرنس سے صدر ٹی آر ایس کا خطاب

 

حیدرآباد: تلنگانہ رکشنا سینا کی چیف کلواکنٹلہ کویتا نے انٹرمیڈیٹ تعلیم کو ختم کرنے کی حکومت کی مبینہ تجویز کی سخت مخالفت کی اور کہا کہ انٹرمیڈیٹ تعلیم تلنگانہ اور تلگو ریاستوں میں ایک مضبوط اور کامیاب نظام ہےجسے ختم کرنے کی نہیں بلکہ مزید مستحکم کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ وزیراعلیٰ اسمبلی کے اجلاس میں واضح اعلان کریں کہ انٹرمیڈیٹ تعلیم ختم نہیں کی جائے گی۔ نامپلی میں تلنگانہ انٹرمیڈیٹ ایجوکیشن جے اے سی کے زیر اہتمام منعقدہ ’سیو انٹر ایجوکیشن‘ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کلواکنٹلہ کویتا نے کہا کہ انٹرمیڈیٹ تعلیم سے انہیں خود بھی بہت فائدہ حاصل ہوا ہے اور ہمارے تعلیمی نظام میں آنے والی مثبت تبدیلیوں کے نتیجہ میں انٹرمیڈیٹ تعلیم کا نظام وجود میں آیا۔ تلگو ریاستوں میں انٹرمیڈیٹ تعلیم کا معیار کافی بہتر ہے اور اسی نظام کے ذریعہ دنیا کی بڑی بڑی کمپنیوں میں بہترین انجینئرس ہماری ریاستوں سے تعلق رکھتے ہیں۔کویتا نے کہا کہ انٹرمیڈیٹ تعلیم میں بعض خامیاں ہوسکتی ہیں لیکن اس نظام کو ختم کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ انہوں نے حکومت کو خبردار کیا کہ جب کوئی مسئلہ موجود ہی نہیں ہے تو اسے بلاوجہ ایک مسئلہ نہ بنایا جائے اگر حکومت نے انٹرمیڈیٹ تعلیم ختم کرنے کا فیصلہ کیا تو یہ اپنے ہی سر پر مصیبت مول لینے کے مترادف ہوگا۔ انہوں نے واضح کیا کہ تلنگانہ رکشنا سینا اس فیصلہ کی بھرپور مخالفت کرے گی اور حکومت جب تک اپنا فیصلہ واپس نہیں لیتی، جدوجہد جاری رکھی جائے گی۔

وزیراعلیٰ کے حالیہ بیانات پر تنقید کرتے ہوئے کویتا نے کہا کہ کبھی وزیراعلیٰ وائٹ کالر ملازمتیں چھوڑ کر بلیو کالر ملازمتیں تلاش کرنے کی بات کرتے ہیں، کبھی انجینئرنگ کو بے کار قرار دیتے ہیں اور کبھی آئی ٹی آئی اور پالی ٹیکنک تعلیم ختم کرنے کی بات کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بیرون ملک بلیو کالر ملازمتوں کے نام پر مزدوری کی ملازمتیں تلاش کرنے کا مشورہ دینا مناسب نہیں۔ حکومتوں کے عزائم ہمالیہ سے بھی بلند ہونے چاہئیں، پاتال جتنے پست نہیں۔ ہمیں ایسے کاروباری افراد تیار کرنے چاہئیں جو دوسروں کو روزگار فراہم کریں نہ کہ صرف روزگار تلاش کرنے والے نوجوان تیار ہوں۔

کویتانے کہا کہ انٹرمیڈیٹ تعلیم کے تحفظ کے لئے جدوجہد کرنے والے مدھوسدھن ریڈی کو سابق حکومت نے بھی کافی مشکلات سے دوچار کیا، لیکن انہوں نے ہمت نہیں ہاری اور جدوجہد جاری رکھی۔ انہوں نے کہا کہ وہ بھی ان کے ساتھ اس تحریک میں کام کرچکی ہیں اور آج ایک تعلیمی نظام کو بچانے کے مقصد سے یہاں آئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب انہیں یقین ہوجاتا ہے کہ کسی کام سے عوام کو فائدہ ہوگا تو وہ پوری مضبوطی کے ساتھ جدوجہد کرتی ہیں۔ انہوں نے خود کو ’مضبوط ارادے والی‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ عوام کی بھلائی کے معاملہ میں وہ پیچھے ہٹنے والی نہیں ہیں۔کلواکنٹلہ کویتا نے وزیراعلیٰ کے بیانات پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ ان کے اعلانات دیکھ کر تو تغلق بھی شرما جائے گا۔ ایک اجلاس میں اچانک انٹرمیڈیٹ میں داخلے نہ لینے کی بات کی جاتی ہے اور صرف دو دن بعد انٹرمیڈیٹ بورڈ کی جانب سے داخلوں سے متعلق اعلامیہ جاری کردیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں غیر دانشمندانہ فیصلے کرنے والے حکمران کو تغلق کہا جاتا تھا، لیکن موجودہ صورتحال کو دیکھتے ہوئے اب لوگ ریونت ریڈی کا نام لینے پر مجبور ہوجائیں گے۔ وزیراعلیٰ کے عہدہ کا اپنا ایک وقار ہوتا ہے اور اس وقار کو برقرار رکھنا ضروری ہے۔انہوں نے کہا کہ تعلیمی پالیسی سے متعلق اہم فیصلے کرنے سے پہلے ماہرین تعلیم اور متعلقہ شعبوں کے ماہرین سے مشاورت ضروری ہے، ورنہ ایسے فیصلے برعکس نتائج پیدا کرتے ہیں۔ انٹرمیڈیٹ تعلیم ختم کرنے سے خاص طور پر طالبات کی تعلیم متاثر ہوگی اور وہ تعلیم سے دور ہوسکتی ہیں۔ فیس ری ایمبرسمنٹ کے بقایاجات کی عدم ادائیگی کی وجہ سے بھی طالبات کی تعلیم متاثر ہورہی ہے۔ طالبات کی تعلیم کے معاملے میں ہر مسئلہ ایک دوسرے سے جڑا ہوا ہے، حتیٰ کہ مناسب بس سہولت نہ ہونے کی صورت میں بھی لڑکیوں کو تعلیم سے محروم ہونا پڑتا ہے۔ حکومت کو چاہئے کہ فیس ری ایمبرسمنٹ کی رقم فوری جاری کرے اور تعلیم کے معاملے میں ایسے فیصلے نہ کرے جن سے طالبات کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑے۔

کویتا نے کہا کہ وہ آندھرا اور تلنگانہ کے مفادات کے معاملے میں واضح موقف رکھتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب حکومت نے تعلیمی کمیشن کے چیئرمین کے طور پر آندھرا سے تعلق رکھنے والے آکنوری مرلی کو مقرر کیا تھا، اسی وقت انہیں تشویش ہوئی تھی، لیکن چونکہ یہ تعلیم سے متعلق کمیشن تھا، اس لئے انہوں نے اس کا احترام کیا۔ تاہم ان کے مطابق کمیشن نے تین سال کا وقت ضائع کرنے کے بعد صرف تین سفارشات پیش کیں۔ انٹرمیڈیٹ میں کامیابی کی شرح 45 فیصد مقرر کرنے کی سفارش پر سوال اٹھاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر یہی اصول سیاسی حکومت پر لاگو کیا جائے تو موجودہ حکومت بھی 39 فیصد ووٹوں کے ساتھ اقتدار میں آئی ہے، لہٰذا اس اصول کے مطابق وزیراعلیٰ کو بھی عہدہ پر نہیں رہنا چاہئے۔انہوں نے کہا کہ کمیشن نے انٹرمیڈیٹ فرسٹ ایئر امتحان ختم کرنے کی سفارش کی لیکن ہر طالب علم کی تعلیمی پیش رفت جانچنے کے لئے ایک چیک پوائنٹ ضروری ہے۔ اسی طرح انٹرمیڈیٹ میں ویٹیج سے متعلق سفارشات بھی قابل قبول نہیں ہیں۔ انہوں نے سوال کیا کہ اگر حکومت کو کمیشن کی سفارشات ہی قبول نہیں کرنی تھیں تو کمیشن تشکیل دینے اور تین سال کا وقت ضائع کرنے کی ضرورت کیا تھی؟ انہوں نے کہا کہ اب دوبارہ کے کے کمیشن کی بات کی جارہی ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ یہ کمیشن رپورٹ کب پیش کرے گا اور حکومت اسے کب نافذ کرے گی؟کویتا نے کہا کہ تلنگانہ کا انٹرمیڈیٹ تعلیمی نظام ملک میں بہترین نظاموں میں شمار ہوتا ہے اور اسے مزید مضبوط کیا جانا چاہئے۔ انہوں نے طنز کرتے ہوئے کہا کہ اچھے نظام کو تبدیل کرنا کوئی دانشمندانہ فیصلہ نہیں ہے اور حکومت کے فیصلوں کو دیکھ کر عوام یہ سوچنے پر مجبور ہیں کہ ریاست میں حکومت چل رہی ہے یا سرکس۔

انہوں نے مفت تعلیم کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ تلنگانہ میں مفت تعلیم اور مفت علاج فراہم کیا جاسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بعض لوگ سوال کرتے ہیں کہ اس کے لئے بجٹ کہاں سے آئے گا۔ ریاست کو سالانہ تقریباً دو لاکھ کروڑ روپئے کی آمدنی حاصل ہوتی ہے اور اس میں سے ایک لاکھ کروڑ روپئے تعلیم اور طب کے شعبوں کے لئے مختص کئے جاسکتے ہیں۔ دنیا کے مختلف حصوں کے دوروں اور متعدد کمیٹیوں میں کام کرنے کے تجربے کی بنیاد پر وہ یہ بات کہہ رہی ہیں کہ مفت تعلیم اور مفت علاج ممکن ہے، اس کے لئے صرف سیاسی ارادے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوام اپنی آمدنی کا تقریباً 70 فیصد تعلیم اور علاج پر خرچ کررہے ہیں، اگر حکومت یہ سہولتیں مفت فراہم کرے تو عوام کی زندگیوں میں نمایاں بہتری آسکتی ہے۔

کلواکنٹلہ کویتا نے خبردار کیا کہ اگر حکومت انٹرمیڈیٹ تعلیم ختم کرنے کی کوشش کرے گی تو طلبہ اور ان کے والدین اسے قبول نہیں کریں گے اور حکومت کے خلاف سخت ردعمل سامنے آئے گا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت فی الحال انٹرمیڈیٹ تعلیم ختم کرنے کے فیصلے کو اس سال کے لئے ملتوی کرنے کی بات کررہی ہے، لیکن صرف التوا کافی نہیں ہے۔ موجودہ اسمبلی اجلاس میں ہی وزیراعلیٰ کو واضح طور پر یقین دہانی کرانی چاہئے کہ انٹرمیڈیٹ تعلیم ختم نہیں کی جائے گی بصورت دیگر تلنگانہ رکشنا سینا خاموش نہیں رہے گی۔حکومت کے فیصلہ سے دستبرداری تک اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔

متعلقہ خبریں

Back to top button