حیدرآباد: محبوب نامی شخص کے قتل کا معمہ حل۔کالا جادو کے شبہ میں قتل کا انکشاف ملزمین قتل گرفتار

حیدرآباد: توہم پرستی کے باعث ایک شخص کو بے رحمی سے تلواروں اور خنجروں سے وار کرکے قتل کرنے کے معاملے میں فلک نما پولیس نے سات رکنی گروہ کو گرفتار کرلیا۔ راجندر نگر زون کے فلک نما پولیس اسٹیشن کی حدود میں پیش آنے والے اس سنسنی خیز واقعے میں رئیل اسٹیٹ تاجر محمد محبوب علی کے قتل کا معمہ پولیس نے حل کرلیا ہے۔
پولیس نے اس معاملے میں چھ ملزمین کے علاوہ ایک نابالغ کو بھی حراست میں لیا ہے۔ گرفتار افراد کے قبضے سے واردات میں استعمال کی گئی دو ایکٹیوا موٹر سائیکلیں خنجر اور تین موبائل فون برآمد کیے گئے۔پولیس کے مطابق فلک نما کے وٹے پلی میں واقع فاطمہ نگر کے رہنے والے محمد محبوب علی (53) رئیل اسٹیٹ کا کاروبار کرتے تھے۔
30 اگست 2026 کی رات تقریباً ساڑھے 9 بجے وٹے پلی میں واقع الماس ہوٹل کے سامنے بعض افراد نے ان وحشیانہ حملہ کردیا۔ شدید زخمی محبوب علی کو فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا جہاں دورانِ علاج ان کی موت ہوگئی۔مقتول کے بیٹے محمد شاہنواز کی شکایت پر فلک نما پولیس اسٹیشن میں کرائم نمبر 439/2026 کے تحت بی این ایس کی دفعات 103(1)، 61(2) معہ 3(5) اور آرمس ایکٹ کی دفعہ 27(2) کے تحت مقدمہ درج کرکے تحقیقات شروع کی گئیں۔
تفتیش کے دوران حاصل ہونے والی مصدقہ اطلاع کی بنیاد پر 3 ستمبر 2026 کو فلک نما پولیس نے چھ ملزمین کو گرفتارکرلیا اور ایک نابالغ لڑکے کو بھی پکڑ لیاگیا۔ پولیس کے مطابق اس معاملے کے مرکزی ملزم A1 مرزا محسن بیگ کو پختہ یقین تھا کہ مقتول محمد محبوب علی نے اس کی والدہ طاہرہ بیگم پر جادو ٹونا کیا تھا
جس کی وجہ سے وہ طویل عرصے سے بیمار تھیں۔ اسے یہ شبہ بھی تھا کہ اس کے ماموں محمد خلیل کی موت بھی محبوب علی کی جانب سے کیے گئے مبینہ جادو ٹونے کے سبب ہوئی تھی۔اسی دوران بیگ نے اپنے بہنوئی A2 محمد عمران احمد کو اس بارے میں بتایا۔ عمران نے اس کا ساتھ دینے اور قتل کے بعد ضمانت کروانے کا وعدہ کیا۔
اس کے بعد تمام ملزمین نے مل کر محبوب علی کو قتل کرنے کی سازش تیار کی۔ 30 اگست کو جب ملزمین کو اطلاع ملی کہ محبوب علی الماس ہوٹل کے قریب موجود ہے تو وہ سب ایان دربار ہوٹل کے پاس جمع ہوئے اور خنجر حاصل کیے۔ اس کے بعد دو ایکٹیوا موٹر سائیکلوں پر سوار ہوکر الماس ہوٹل کے سامنے پہنچے
اور محبوب علی کو گھیر کر ان کے سر، سینے اور ہاتھوں پر تیز دھار ہتھیاروں سے متعدد وار کیے جس کے نتیجے میں وہ شدید زخمی ہوگئے بعد ازاں ان کی موت ہوگئی۔ گرفتار ملزمین کو عدالت میں پیش کرکے عدالتی تحویل میں بھیج دیا گیا۔راجندر نگر زون کے ڈی سی پی نے عوام سے اپیل کی کہ جادو ٹونا
محض توہم پرستی ہے اور اس کا کوئی سائنسی ثبوت موجود نہیں۔ انہوں نے کہا کہ سائنس اور ٹیکنالوجی کی ترقی کے موجودہ دور میں بھی اس طرح کی توہم پرستی کی بنیاد پر تشدد کا ارتکاب انتہائی افسوسناک ہے۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ ایسے توہمات پر یقین نہ کریں
اور کسی بھی مسئلے کی صورت میں قانون ہاتھ میں لینے کے بجائے پولیس سے رجوع کریں۔اس کیس کو حل کرنے میں نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرنے پر راجندر نگر زون کے ڈی سی پی ایس۔ سرینواس اور فلک نما اے سی پی ایم۔ اے۔ جاوید نے فلک نما انسپکٹر ایم۔ اپّلا نائیڈو، ڈیٹیکٹو انسپکٹر ذاکر حسین اور کرائم ٹیم کی ستائش کی۔



