جنرل نیوز

دہلی میں دو مسلم خواتین صحافیوں پر مبینہ تشدد آزادیٔ صحافت پر سنگین سوالیہ نشان: تنویرِ صحافت محمد محسن پاشاہ قادری اسٹیٹ سیکریٹری ٹی یو ڈبلیو جے یو

نئی دہلی میں دو مسلم خاتون صحافیوں ، شاہین خان اور نفیسہ خان کے ساتھ دہلی پولیس کی جانب سے مبینہ طور پر بدسلوکی ، حراست اور تشدد کا واقعہ نہایت افسوسناک اور تشویشناک ہے ۔ اطلاعات کے مطابق دونوں صحافی 3 ستمبر کو ایک نجی اسپتال میں منعقدہ تقریب کی کوریج کے لئے پہنچی تھیں ، جہاں مرکزی وزیرِ داخلہ اور دہلی کی وزیرِ اعلیٰ بھی موجود تھیں ۔

 

شاہین خان کے مطابق وہ وزیرِ اعلیٰ سے سوال کرنے کی کوشش کر رہی تھیں کہ اسی دوران انہیں پولیس نے پکڑ کر ساکیت پولیس اسٹیشن منتقل کیا ، جہاں ان کے ساتھ مبینہ طور پر بدسلوکی مارپیٹ اور انسانیت کو شرمسار کرنے کی مذموم و مسموم حرکت کی گئی ۔ بھارت سیوا رتن ایوارڈ یافتہ اسدالعلماء تنویرِ صحافت مولانا محمد محسن پاشاہ انصاری قادری نقشبندی مجددی ریاستی سیکریٹری تلنگانہ اردو ورکنگ جرنلسٹس یونین ( TUWJU ) نے اس واقعہ پر شدید مذمت اور تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جمہوری نظام میں صحافت کا بنیادی فریضہ ہی یہ ہے کہ اقتدار سے سوال کیا جائے جبکہ ہمارے ملک کے وزیر اعظم شری نریندر موذی جی بیٹی پڑھاؤ بیٹی بچاؤ کا نعرہ دیتے تھکتے نہیں ہیں ، صحافیوں کا کام عوامی مسائل کو اجاگر کیا جائے اور حکمرانوں سے جواب طلب کیا جائے وہ بھی مرد صحافیوں کے علاوہ خاتون صحافیوں کی جانب سے اگر حکمرانوں سے سوال کئے جائیں تو کوئی دہشت گردانہ سوالات ہرگز ہرگز نہیں ہوسکتے ۔ اگر کسی صحافی کو محض سوال کرنے کی پاداش میں حراست ، دھمکی یا تشدد کا سامنا کرنا پڑے تو یہ صرف ایک فرد کے ساتھ زیادتی نہیں بلکہ آزادیٔ صحافت اور جمہوری اقدار کے لئے سنگین خطرے کی گھنٹی ہے ۔

 

انہوں نے کہا کہ معاملہ اس وقت مزید سنگین ہوجاتا ہے جب متاثرہ صحافیوں کی جانب سے یہ الزام سامنے آئے کہ ان کی مذہبی شناخت معلوم ہونے کے بعد مبینہ تشدد میں شدت پیدا ہوئی ۔ تاہم ان الزامات کی مکمل اور غیر جانب دارانہ تحقیقات ضروری ہیں ۔ دہلی پولیس نے دوسری جانب الزام کو مسترد کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ دونوں خواتین نے وی آئی پی روٹ میں رکاوٹ پیدا کی تھی اور پولیس کے مطابق اسی وجہ سے انہیں تھانے لے جایا گیا؛ پولیس نے سوال پوچھنے پر تشدد کے الزام کو بے بنیاد قرار دیا ہے جو سراسر گمراہی پر دال ہے ۔ بعد ازاں پولیس کی جانب سے جاری ایک وضاحت کے حذف کئے جانے کی بھی رپورٹ سامنے آئی ہے ۔

 

مولانا محمد محسن پاشاہ انصاری نقشبندی نے کہا کہ ملکی سطح کے سپریم کورٹ کو از خود نوٹ لیتے ہوئےالزام اور جواب دونوں کو قانون کے دائرے میں پرکھا جانا چاہیئے ۔ پولیس کے پاس اگر وی آئی پی روٹ میں رکاوٹ ڈالنے کے شواہد ہیں تو قانون کے مطابق کارروائی کی جائے نا کہ خواتین کیساتھ بدسلوکی و بے جا مارپیٹ ، لیکن کسی بھی صورت میں جسمانی تشدد ، مذہبی بنیاد پر امتیازی سلوک یا صحافیوں کو ان کے پیشہ ورانہ فرائض کی ادائیگی سے روکنے کی اجازت ہرگز بھارت میں نہیں دی جاسکتی ۔

 

انہوں نے مزید کہا کہ پریس کلب آف انڈیا ، انڈین ویمنز پریس کور ، دہلی یونین آف جرنلسٹس ، پریس ایسوسی ایشن اور کیرالا یونین آف ورکنگ جرنلسٹس سمیت مختلف صحافتی تنظیموں نے بھی واقعہ کی آزادانہ و منصفانہ تحقیقات اور ذمہ دار اہلکاروں کے خلاف کارروائی کا پر زور مطالبہ کیا ہے ۔تنویرِ صحافت نے مطالبہ کیا کہ واقعہ کی مکمل سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کی جائے ، متاثرہ صحافیوں کا میڈیکو لیگل معائنہ کرایا جائے ، تمام متعلقہ پولیس اہلکاروں کے بیانات قلم بند کئے جائیں اور کسی دباؤ کے بغیر غیر جانب دارانہ تحقیقات مکمل کی جائیں ۔

 

انہوں نے کہا کہ ’’حکومت سے سوال کرنا غداری نہیں بلکہ صحافت ہے ؛ اور صحافی سے اختلاف کا جواب دلیل ہونا چاہیئے، ڈنڈا نہیں۔‘‘ جمہوریت میں سوال کرنے والے صحافی کا تحفظ دراصل عوام کے سوال کرنے کے حق کا تحفظ ہے۔ دہلی حکومت اور مرکزی وزارتِ داخلہ کو اس واقعہ کا سنجیدگی سے نوٹس لیتے ہوئے عوام اور صحافتی برادری کو واضح جواب دینا چاہیئے کہ آخر دو خاتون صحافیوں کے ساتھ کیا ہوا اور اس کے ذمہ دار کون ہیں ۔انہوں نے کہا کہ انصاف صرف ہونا ہی نہیں چاہیے بلکہ ہوتا ہوا نظر بھی آنا چاہیئے ، تاکہ ملک میں آزادیٔ صحافت ، قانون کی بالادستی اور خواتین کے وقار پر عوام کا اعتماد برقرار رہے۔

 

ورنہ بصورت دیگرے سارے ملک میں صحافی برادریوں اور تنظیموں کی جانب سے ملک گیر احتجاجی دھرنے اور بی جے پی اسکے اتحادی حکومتوں کے وزراء اور عہدیداروں کا گھیراؤ کیا جائے گا تاکہ ملکی سطح پر ایسے واقعات کا اعادہ نہ ہوسکے –

متعلقہ خبریں

Back to top button