نیشنل

اترپردیش سرکٹ ہاؤس میں نماز پڑھنے پر سماجوادی پارٹی کے رہنما حاجی محمد عثمان کے خلاف کیس درج

مرادآباد: اترپردیش کے مرادآباد میں سرکٹ ہاؤس کے احاطے میں سماجوادی پارٹی (ایس پی) کے ضلع نائب صدر اور سابق ضلع صدر حاجی محمد عثمان کے نماز ادا کرنے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد تنازع کھڑا ہوگیا ہے۔

 

راشٹریہ بجرنگ دل سمیت کئی ہندو تنظیموں نے سرکاری احاطے میں مذہبی سرگرمی پر سخت اعتراض کیا ہے۔یہ معاملہ 3 ستمبر کا بتایا جارہا ہے۔ اترپردیش قانون ساز کونسل میں قائد اپوزیشن لال بہاری یادو مرادآباد کے سرکٹ ہاؤس میں قیام پذیر تھے

 

جہاں انہوں نے ایس پی کارکنوں اور رہنماؤں کے ساتھ ایک جائزہ اجلاس کیا تھا۔ اجلاس ختم ہونے کے بعد رکن اسمبلی محمد فہیم عرفان کے چچا اور ایس پی رہنما حاجی محمد عثمان نے سرکٹ ہاؤس کے لان کے قریب کھڑی ایک گاڑی کے پاس نماز ادا کی۔

 

اس معاملے میں پی ڈبلیو ڈی محکمہ کے سرکٹ ہاؤس انچارج اور اسسٹنٹ انجینئر انیت کمار کی شکایت پر پولیس نے حاجی محمد عثمان کے خلاف بی این ایس کی دفعات 285 اور 292 کے تحت نامزد مقدمہ درج کیا ہے۔

 

حاجی محمد عثمان کے نماز ادا کرنے کی ویڈیو خود سماجوادی پارٹی کے کارکنوں نے بنائی تھی جو بعد میں سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی اور معاملہ مزید بڑھ گیا۔ ویڈیو وائرل ہونے کے بعد راشٹریہ بجرنگ دل کے ریاستی صدر روہن سکسینہ نے انتظامیہ کی جانب سے دی گئی اجازت پر سوال اٹھائے۔

 

بجرنگ دل کے رہنما نے کہا کہ انتظامیہ کو واضح کرنا چاہیے کہ سرکاری احاطے میں نماز ادا کرنے کی اجازت کس ضابطے کے تحت دی گئی۔ انہوں نے یہ بھی سوال کیا کہ ایس پی رہنما کو سرکٹ ہاؤس کے احاطے میں کس حیثیت سے جگہ دی گئی اور کیا کسی رکن اسمبلی کے رشتہ دار کو سرکاری عمارت میں اس طرح نماز ادا کرنے کی اجازت دینے کا کوئی ضابطہ موجود ہے؟

 

اگر ایسا کوئی اصول نہیں ہے تو سخت کارروائی کی جانی چاہیے۔نماز پڑھنے پر تنازع بڑھنے کے بعد ایس پی رہنما حاجی محمد عثمان نے وضاحت پیش کرتے ہوئے کہا کہ انہیں معلوم نہیں کہ یہ ویڈیو کب ریکارڈ کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ جب وہ اکثر کہیں باہر ہوتے ہیں اور نماز کا وقت ہوجاتا ہے تو وہ وہیں نماز ادا کرلیتے ہیں

 

ممکن ہے کہ انہوں نے بھی کسی ایسے ہی موقع پر نماز پڑھی ہو۔حاجی محمد عثمان نے کہا کہ ملک میں تعلیمی پروگراموں سے قبل سرسوتی وندنا اور سرکاری تعمیراتی کاموں سے پہلے بھومی پوجن کی روایت رہی ہے اس لیے ایسے معاملات میں دوہرا معیار نہیں ہونا چاہیے۔

 

ان کے مطابق یہ عبادت کا معاملہ ہے ان کے نماز پڑھنے سے نہ کوئی راستہ بند ہوا اور نہ ہی کسی کو کوئی تکلیف ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے کوئی گناہ نہیں کیا۔

Oplus_131072

 

متعلقہ خبریں

Back to top button