ضلع نرمل میں بیسٹ ٹیچر ایوارڈز میں اقلیتی اساتذہ کے ساتھ سوتیلا سلوک

ضلع نرمل میں بیسٹ ٹیچر ایوارڈز میں اقلیتی اساتذہ کے ساتھ سوتیلا سلوک
نرمل، 5 ستمبر (ایم۔اے۔وحید): یومِ اساتذہ کے موقع پر ضلع نرمل میں محکمۂ تعلیمات کی جانب سے دیے گئے ضلع بیسٹ ٹیچر ایوارڈز–2026 کے انتخابی عمل پر میوا و ٹی ایس پی ٹی اے نے شدید اعتراضات ظاہر کرتے ہوئے اسے غیر شفاف، امتیازی اور قواعد کے منافی قرار دیا ہے۔
مائناریٹی ایمپلائز ویلفیئر ایسوسی ایشن (MEWA) و ٹی ایس پی ٹی اے کے صدر شیخ شبیر علی اور تلنگانہ اسٹیٹ پرائمری ٹیچرز ایسوسی ایشن (TSPTA) کے جنرل سیکرٹری ڈاکٹر ساجد معراج نے مشترکہ پریس بیان میں الزام عائد کیا کہ ایوارڈز کی تقسیم میں شفافیت، مساوات اور انصاف کے بنیادی اصولوں کو نظر انداز کیا گیا، اس کے ساتھ ہی اقلیتی اور اردو اساتذہ کے ساتھ سوتیلا سلوک روا رکھا گیا۔
انہوں نے کہا کہ ضلع بھر میں سینکڑوں اردو میڈیم سیکنڈری گریڈ ٹیچرز (SGTs) اور اسکول اسسٹنٹس خدمات انجام دے رہے ہیں، تاہم ان دونوں زمروں سے صرف ایک ایس جی ٹی اور ایک اردو اسکول اسسٹنٹ کو ہی بیسٹ ٹیچر ایوارڈ سے نوازا گیا، جبکہ طویل عرصے سے مثالی خدمات انجام دینے والے متعدد مستحق، باصلاحیت اور سینئر اساتذہ کو مکمل طور پر نظر انداز کر دیا گیا۔
قائدین نے مزید کہا کہ جاریہ سال ریٹائر ہونے والے کئی اساتذہ نے تقریباً 25تا 30 برس دیانت داری، لگن اور خلوص کے ساتھ محکمۂ تعلیمات میں خدمت انجام دی، مگر ان کی عمر بھر کی خدمات کے اعتراف میں بھی انہیں کوئی اعزاز نہیں دیا گیا۔ دوسری جانب بعض اساتذہ کو ایک سے زائد مرتبہ بیسٹ ٹیچر ایوارڈ سے نوازا جانا انتخابی عمل کی غیر جانبداری پر سنگین سوالات کھڑے کرتا ہے۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ محکمہ کے مقررہ قواعد کے مطابق بیسٹ ٹیچر ایوارڈز کے لیے اساتذہ کے انتخاب کی غرض سے جیوری کمیٹی تشکیل دی جانی چاہیے تھی، لیکن ضلع مہتممِ تعلیمات (DEO) نے قواعد کو نظر انداز کرتے ہوئے من مانی طریقے سے امیدواروں کا انتخاب کیا۔
انہوں نے بتایا کہ ڈی ای او کی جانب سے جاری کردہ رہنما اصولوں میں واضح طور پر کم از کم 10 سالہ تدریسی خدمات کو لازمی اہلیت قرار دیا گیا تھا، تاہم انہی قواعد کی خلاف ورزی کرتے ہوئے سال 2019 اور 2024 میں تقرر پانے والے اساتذہ کو بیسٹ ٹیچر ایوارڈ کے لئے منتخب کر لیا گیا، جبکہ کئی دہائیوں سے خدمات انجام دینے والے مستحق اور سینئر اساتذہ محروم رہ گئے۔ ان کے مطابق یہ عمل اردو زبان، اقلیتی اساتذہ اور ریٹائرمنٹ کے قریب پہنچنے والے اساتذہ کے ساتھ کھلی ناانصافی کی جیتی جاگتی مثال ہے۔
شیخ شبیر علی اور ڈاکٹر ساجد معراج نے ضلع مہتممِ تعلیمات سے مطالبہ کیا کہ اردو اور اقلیتی اساتذہ کے ساتھ انصاف کرتے ہوئے بیسٹ ٹیچر ایوارڈز کے انتخابی عمل کا ازسرِنو جائزہ لیا جائے، بصورتِ دیگر وہ اس معاملے کو اعلیٰ حکام کے نوٹس میں لے جائیں گے۔
انہوں نے ضلع کلکٹر کو تحریری شکایت پیش کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ بیسٹ ٹیچر ایوارڈز کے انتخابی عمل میں مبینہ بے ضابطگیوں اور دھاندلیوں کی جامع تحقیقات کرائی جائیں اور قواعد کی خلاف ورزی کے ذمہ دار عہدیداروں کے خلاف سخت قانونی و محکمہ جاتی کارروائی عمل میں لائی جائے۔



