محترمہ نشاط فاطمہ ضلع پریشد اپر پرائمری اسکول، اردو میڈیم، پداپلی کو قومی اردو زبان ایوارڈ دینے کا اعلان
محترمہ نشاط فاطمہ کو قومی اردو زبان ایوارڈ دینے کا اعلان
کریم نگر، 5 ستمبر (نثار احمد پروانہ): ضلع پریشد اپر پرائمری اسکول، اردو میڈیم، پداپلی میں برسرِ خدمت معلمہ محترمہ نشاط فاطمہ کو اردو ادب کے فروغ اور جدید اختراعی، تکنیکی، فنی و اقتصادی مہارتوں کے شعبوں میں نمایاں کارکردگی پر ’’قومی اردو شکشک کرم چاری سنگھ انڈیا‘‘ کی جانب سے قومی اردو زبان ایوارڈ دینے کا اعلان کیا گیا ہے۔
محترمہ نشاط فاطمہ گزشتہ 24 برس سے محکمہ تعلیمات میں درس و تدریس کی خدمات انجام دے رہی ہیں۔ سال 2024-25 میں صدر معلمہ کی حیثیت سے اپر پرائمری امر نگر، پداپلی اسکول میں انہوں نے 100 سے زائد طلبہ کے داخلے کرواتے ہوئے ضلع پداپلی میں نمایاں مقام حاصل کیا۔
وہ اسکول کے مختلف پروگراموں اور سرگرمیوں، جن میں ایف ایل این، ایف آر ایس، آپار اور ایکو کلب شامل ہیں، میں بھی بہترین خدمات انجام دے رہی ہیں۔ اس کے علاوہ وہ اردو ڈی آر پی پداپلی کی حیثیت سے خدمات انجام دینے کے ساتھ ریاستی اور قومی سطح کی تربیتی پروگراموں میں بھی اہم کردار ادا کررہی ہیں۔
محترمہ نشاط فاطمہ نے اردو ادب کے ساتھ ساتھ جدید فنی، تکنیکی، اختراعی اور اقتصادی مہارتوں میں بھی اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا ہے۔ حال ہی میں انہوں نے نئی دہلی میں خصوصی تربیت بھی حاصل کی۔
ان کی ان نمایاں خدمات اور بہترین کارکردگی کے اعتراف میں 14 ستمبر کو ’’یوم قومی ہندی‘‘ کے موقع پر غالب انسٹی ٹیوٹ آڈیٹوریم، ایوان غالب مارگ، منڈی ہاؤس، نئی دہلی میں منعقدہ تقریب میں انہیں قومی اردو زبان ایوارڈ سے نوازا جائے گا۔
اس اعزاز کے اعلان کے بعد ان کے ساتھی اساتذہ، طلبہ و طالبات، اولیائے طلبہ، عزیز و اقارب اور رشتہ داروں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے اور انہیں مبارکباد دینے کا سلسلہ جاری ہے۔
محترمہ نشاط فاطمہ نے نمائندے سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ وہ 14 ستمبر کو نئی دہلی پہنچ کر یہ اعزاز حاصل کریں گی۔ انہوں نے بتایا کہ ان کے خاندان کا تعلق بھی درس و تدریس سے رہا ہے۔ وہ اس سے قبل ریاستی اردو اکیڈمی کی جانب سے ’’بیسٹ ٹیچر‘‘ ایوارڈ بھی حاصل کرچکی ہیں۔
اپنے انتخاب پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہوئے محترمہ نشاط فاطمہ نے جذباتی انداز میں کہا کہ جو قومیں اپنی زبان کو فراموش کردیتی ہیں، وہ رفتہ رفتہ اپنی زبان کی انفرادیت اور شناخت بھی کھو دیتی ہیں۔ اس لئے ضروری ہے کہ ہم اپنی مادری زبان اردو کی ترقی، ترویج، بقا اور عام چلن کے لئے متحد ہوکر کوشش کریں، ورنہ اردو زبان آہستہ آہستہ کمزور ہوتی چلی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ اردو زبان کی حفاظت اور اس کے فروغ کی ذمہ داری اردو داں طبقے پر عائد ہوتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ تاریخ گواہ ہے کہ جن قوموں نے ترقی کی، انہوں نے سب سے پہلے اپنی مادری زبان پر عبور حاصل کیا اور اس کے بعد دیگر زبانوں میں بھی مہارت حاصل کی۔



