تلنگانہ ایس آئی آر : مزید 25 لاکھ ووٹ حذف ہونے کا خدشہ، جانیں کیا ہے وجہہ؟

حیدرآباد: تلنگانہ میں جاری ایس آئی آر (خصوصی نظرثانی) کے عمل کے دوران مزید تقریباً 25 لاکھ ووٹ حذف ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ ریاست میں 92 لاکھ ووٹروں کو نوٹس جاری کیے جانے تھے تاہم اب تک صرف 47 لاکھ ووٹروں کو نوٹس موصول ہوئے ہیں۔
ان میں سے بھی صرف 9 لاکھ ووٹروں نے نوٹس کا جواب دیا ہے۔انتخابی عہدیداروں کے مطابق بعض علاقوں میں ووٹر نوٹس کا جواب دینے کے لیے آگے نہیں آ رہے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ووٹر اس عمل میں دلچسپی نہیں دکھا رہے۔ نوٹس جاری کرنے کا عمل رواں ماہ کی 16 تاریخ کو مکمل ہونا ہے تاہم موجودہ صورتحال کے پیش نظر نوٹس کی تقسیم اور ان کے جوابات حاصل کرنے میں مشکلات کو دیکھتے ہوئے مزید وقت دینے کے لیے الیکشن کمیشن سے درخواست کی گئی ہے۔
نوٹس سے پریشان بعض ووٹرز کا کہنا ہے کہ ووٹ کا حق برقرار رہے یا نہ رہے لیکن ووٹ کے لیے بار بار اتنی دور آنا کیوں ضروری ہے؟ روزگار اور ملازمت کے لیے دور دراز علاقوں میں مقیم افراد کو سینکڑوں اور ہزاروں روپے خرچ کرکے واپس آنا پڑ رہا ہے۔ کاروبار یا ملازمت سے ایک دن کی چھٹی لینی پڑ رہی ہے جس کے باعث لوگ نوٹس کا جواب دینے کے لیے آگے نہیں آ رہے ہیں۔
مرکزی الیکشن کمیشن کی جانب سے دی گئی سہولت کے تحت اگر کوئی ووٹر عہدیدار کی جانب سے جاری کردہ نوٹس کا جواب نہیں دے پاتا تو انتخابی عہدیدار اسے دوسری تاریخ دینے کا اختیار رکھتے ہیں تاہم حکام کو خدشہ ہے کہ دوسری مرتبہ نوٹس جاری کرنے کے باوجود ووٹر جواب دینے کے لیے آئیں گے یا نہیں۔ اس سے قبل بھی ووٹروں کو اینومریشن فارم بی ایل او سے حاصل کرنے اسے پُر کرنے اور دوبارہ جمع کرانے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تھا۔
اب ایک مرتبہ پھر نوٹس کے نام پر خود حاضر ہونے کی ہدایت سے ووٹرس میں ناراضگی پیدا ہو رہی ہے۔ابھی مزید 45 لاکھ ووٹروں کو نوٹس جاری کیے جانے باقی ہیں۔ پہلے ہی 47 لاکھ ووٹروں کو جاری کیے گئے نوٹس میں سے صرف 9 لاکھ افراد جواب دینے کے لیے سامنے آئے ہیں جس سے انتخابی حکام میں تشویش پیدا ہوگئی ہے۔حکام کے مطابق ریاست میں پہلے ہی تقریباً 72 لاکھ ووٹ حذف ہوچکے ہیں۔ نوٹس کا جواب نہ دینے والوں کی تعداد تقریباً 25 سے 30 لاکھ تک ہوسکتی ہے۔ اگر نوٹس حاصل کرنے والے ووٹر خود حاضر ہوکر جواب نہیں دیتے تو ان کے ووٹ بھی حذف کیے جاسکتے ہیں۔
اس طرح ریاست میں مجموعی طور پر ایک کروڑ تک ووٹ حذف ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔اتنی بڑی تعداد میں ووٹ حذف ہونے کے امکان پر سیاسی جماعتوں نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔ جماعتوں نے نوٹس جاری کرنے کے طریقۂ کار پر بھی اعتراض کیا ہے اور الیکشن کمیشن سے مطالبہ کیا ہے کہ ووٹر کا خود حاضر ہونا لازمی قرار دینے کی شرط ختم کی جائے۔سیاسی جماعتوں نے سوال اٹھایا ہے کہ اگر ووٹر خود حاضر نہ ہو تو اس کا ووٹ حذف کرنے کی بات کیوں کی جا رہی ہے۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ بزرگوں، معذور افراد اور این آر آئی ووٹروں کو دی گئی سہولت تمام طبقات کو بھی فراہم کی جائے۔ خاندان کے کسی بھی فرد کے ذریعے نوٹس کا جواب دینے کو ووٹر کا جواب تصور کرنے کی اجازت دی جائے۔تلنگانہ میں ایس آئی آر کے عمل کی مدت میں توسیع کرنے کے لیے ریاست کے چیف الیکٹورل آفیسر سدرشن ریڈی نے مرکزی الیکشن کمیشن سے درخواست کی ہے۔ اس سلسلے میں انہوں نے ایک خط بھی روانہ کیا ہے۔
انہوں نے کم از کم تین ہفتوں کی مزید مہلت دینے کی درخواست کی ہے۔ خط میں کہا گیا ہے کہ تلنگانہ میں 92 لاکھ ووٹروں کو نوٹس جاری کیے جانے ہیں اور انہیں جواب بھی دینا ہے، اس لیے موجودہ صورتحال میں مدت میں توسیع ناگزیر ہے۔انہوں نے بتایا کہ اب تک 47 لاکھ ووٹروں میں سے صرف 9 لاکھ نے نوٹس کا جواب دیا ہے۔ ریاست کی کئی سیاسی جماعتوں کے ساتھ ساتھ وزیرِ اعلیٰ ریونتھ ریڈی نے بھی الیکشن کمیشن سے مدت بڑھانے کی درخواست کی ہے۔
سی ای او سدرشن ریڈی نے کہا کہ حقیقی ووٹر اپنے حقِ رائے دہی سے محروم نہ ہوں اس لیے مزید مہلت دی جانی چاہیے۔ ریاست میں اضافی اے ای آر اوز تعینات کیے جانے کے باوجود نوٹس سے متعلق دستاویزات کی جانچ میں وقت لگے گا۔ اسی لیے انہوں نے مزید تین ہفتوں کی مہلت دینے کی درخواست کی ہے۔
اب سی ای او کے خط پر مرکزی الیکشن کمیشن کے جواب کا انتظار ہے۔



