ڈرگس کے کیس میں مصر کی ٹی وی پریزینٹر سارا خلیفہ کو سزائے موت

منشیات کیس میں مصر کی ٹی وی پریزینٹر سارا خلیفہ کو سزائے موت سنا دی گئی۔ مصری عدالت نے ان کے ساتھ مزید 11 ملزمین کو بھی سزائے موت دینے کا حکم دیا ہے۔ اسی کیس میں 9 دیگر افراد کو عمر قید کی سزا سنائی گئی، جبکہ 7 افراد کو عدالت نے بری کردیا۔ عدالت نے یہ فیصلہ بڑے پیمانے پر منشیات تیار کرنے اور غیر قانونی طور پر اسمگل کرنے کے الزامات ثابت ہونے کے بعد سنایا۔
39 سالہ سارا خلیفہ مصر میں ٹیلی ویژن پریزینٹر کے طور پر معروف ہیں۔ وہ سکیورٹی اور جرائم سے متعلق موضوعات پر نشر ہونے والے پروگرام ’میشن امپاسیبل‘ کی اینکر تھیں۔ مصری میڈیا رپورٹس کے مطابق وہ ایک کاسمیٹک سرجری کلینک کے علاوہ پارٹیوں اور دیگر تقریبات کے انعقاد سے متعلق ایک پروڈکشن کمپنی بھی چلاتی تھیں۔
پراسیکیوشن کے مطابق سارا خلیفہ اور دیگر ملزمین نے ایک گروہ تشکیل دیا تھا اور بیرونِ ملک سے منشیات کی تیاری کے لیے درکار خام مال درآمد کیا تھا۔ الزام ہے کہ گروہ کے ارکان نے اس خام مال سے مصنوعی منشیات تیار کرکے فروخت کرنے کے لیے الگ الگ ذمہ داریاں سنبھال رکھی تھیں۔
پولیس کی تحقیقات کے دوران حکام نے 750 کلوگرام سے زائد منشیات اور منشیات کی تیاری میں استعمال ہونے والے مواد کو ضبط کیا۔ حکام نے دو ایسے اپارٹمنٹس کا بھی پتہ لگایا جنہیں مبینہ طور پر منشیات کی لیبارٹریوں کے طور پر استعمال کیا جارہا تھا۔ وہاں سے غیر قانونی طور پر رکھے گئے ہتھیار اور گولہ بارود بھی برآمد کیا گیا۔
تاہم سارا خلیفہ نے ابتدا ہی سے اپنے خلاف عائد الزامات کی تردید کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ منشیات سے ان کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ اطلاعات کے مطابق گزشتہ سال ستمبر میں سماعت کے دوران انہوں نے جج کو بتایا تھا کہ انہوں نے منشیات کبھی نہیں دیکھی تھیں، یہاں تک کہ مصری انسدادِ منشیات حکام کے دفتر میں منشیات کے ساتھ ان کی تصاویر لی گئیں۔ مصری میڈیا کے مطابق انہوں نے تفتیشی افسران سے یہ بھی کہا تھا کہ انہوں نے زندگی میں کبھی سگریٹ تک نہیں پی۔
عدالت میں سارا خلیفہ رو پڑیں اور عدالت سے انہیں معاف کرنے کی درخواست کی۔ عدالت کی جانب سے سزائے موت سنائے جانے کے بعد ان کے وکیل نے کہا ہے کہ وہ اس فیصلے کو چیلنج کرتے ہوئے اپیل دائر کریں گے۔




