نیشنل

وزیراعظم مودی کےخلاف ریمارکس،بمبئی ہائی کورٹ سے راہل گاندھی کو لگا جھٹکا

ممبئی: بمبئی ہائی کورٹ نے منگل کو کانگریس رکن پارلیمنٹ راہل گاندھی کے خلاف دائر فوجداری ہتکِ عزت کے مقدمے کو ختم کرنے سے انکار کردیا۔

 

یہ معاملہ وزیراعظم نریندر مودی کے بارے میں مبینہ طور پر انہیں ’’چوروں کا سردار‘‘ اور ’’چوروں کا کمانڈر‘‘ قرار دینے والے راہل گاندھی کے تبصرے سے متعلق ہے۔راہل گاندھی نے اس معاملے میں مجسٹریٹ عدالت کی جانب سے جاری سمن کو ہائی کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔

 

ان کا مؤقف تھا کہ بی جے پی کارکن کی جانب سے دائر کی گئی شکایت قابلِ سماعت نہیں ہے کیونکہ انہوں نے اپنی تقریر میں پارٹی کا نام نہیں لیا تھا اور نہ ہی کسی قابلِ شناخت یا متعین طبقے کو نشانہ بنایا تھا۔ ان کے مطابق ایسے میں کوئی مخصوص فرد یا گروہ متاثرہ فریق نہیں ہے جو ہتکِ عزت کا مقدمہ دائر کرنے کا حق رکھتا ہو۔

 

لائیو لا کی رپورٹ کے مطابق جسٹس نتن بورکر نے راہل گاندھی کی اس دلیل کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ایک رجسٹرڈ قومی سیاسی جماعت ہونے کی حیثیت سے بی جے پی ایک واضح طور پر قابلِ شناخت ادارہ ہے۔

 

جسٹس نتن بورکر نے کہا کہ شکایت کنندہ کا دعویٰ ہے کہ وہ گزشتہ دو دہائیوں سے بی جے پی کے سرگرم رکن ہیں۔ وزیراعظم کو ’’چوروں کا کمانڈر‘‘ قرار دینے والے بیان کو ابتدائی طور پر دیکھنے سے اس مرحلے پر یہ نہیں کہا جاسکتا کہ متنازعہ تبصرہ صرف پارٹی کی اعلیٰ قیادت تک محدود تھا۔

 

عدالت نے کہا کہ الزامات میں کتنی حقیقت ہے اور ان بیانات کا پارٹی ارکان پر کیا اثر پڑا اس کا فیصلہ مقدمے کی سماعت کے دوران کیا جائے گا۔ لہٰذا عدالت کو مجسٹریٹ کی جانب سے جاری حکم میں کوئی غیر قانونی بات نظر نہیں آتی۔بھارتیہ جنتا پارٹی کے ایک کارکن نے ممبئی کی گرگاؤں مجسٹریٹ عدالت میں راہل گاندھی کے خلاف ہتکِ عزت کا مقدمہ دائر کیا تھا

 

جس کے بعد عدالت نے انہیں سمن جاری کیا تھا۔شکایت کنندہ کا کہنا تھا کہ راہل گاندھی کے یہ تبصرے وزیراعظم کے ساتھ ساتھ حکمراں جماعت اور اس کے ارکان کو براہِ راست نشانہ بناتے ہیں اور ان سے ان کی ساکھ کو نقصان پہنچا ہے۔بی جے پی کارکن نے مؤقف اختیار کیا کہ نریندر مودی کو ’’چوروں کا سردار‘‘ قرار دینے کا مطلب دراصل

 

بی جے پی کے ارکان کو چور کہنا ہے اس لیے پارٹی کارکنوں کو ہتکِ عزت کا مقدمہ دائر کرنے کا حق حاصل ہے۔ راہل گاندھی نے سمن اور مقدمے کی کارروائی جاری رکھنے کو ہائی کورٹ میں چیلنج کرتے ہوئے شکایت کو ناقابلِ سماعت قرار دینے کی درخواست کی تھی۔

متعلقہ خبریں

Back to top button