خواتین ارکانِ اسمبلی سے پولیس کا رویہ قابلِ مذمت گمپا گووردھن کی قیادت میں کاماریڈی میں بی آر ایس کا احتجاج

خواتین ارکانِ اسمبلی سے پولیس کا رویہ قابلِ مذمت
گمپا گووردھن کی قیادت میں کاماریڈی میں بی آر ایس کا احتجاج
کاماریڈی (سید کوثر علی کی رپورٹ)
اسمبلی کے قریب خواتین ارکانِ اسمبلی کے ساتھ پولیس کے مبینہ ناروا سلوک کے خلاف بی آر ایس کی جانب سے کاماریڈی میں احتجاج کیا گیا۔ سابق رکن اسمبلی گمپ گووردھن نے احتجاج کی قیادت کرتے ہوئے حکومت پر شدید تنقید کی
۔کاماریڈی شہر کے ریلوے کمان کے قریب ڈاکٹر بی آر امبیڈکر کے مجسمہ پر پہلے پارٹی پرچم لہرایا گیا اور بعد ازاں امبیڈکر کے مجسمہ کو یادداشت پیش کی گئی۔ بعد میں گمپا گووردھن ریلوے کمان پر چڑھ کر بیٹھ گئے اور حکومت کے خلاف نعرے لگاتے ہوئے احتجاج کیا۔ تقریباً 20 منٹ تک احتجاج جاری رہنے کے باعث ٹریفک متاثر ہوئی، جس پر پولیس نے گاڑیوں کا رخ موڑ دیا۔
احتجاج ختم نہ ہونے پر پولیس نے گمپ گووردھن کو وہاں سے اٹھا کر ان کی کار میں بٹھا کر گھر بھیجنے کی کوشش کی، تاہم بی آر ایس کارکنوں نے اس کی مخالفت کرتے ہوئے کار کے سامنے بیٹھ کر احتجاج کیا۔ بعد ازاں پولیس نے کارکنوں کو ہٹا کر کار کو وہاں سے روانہ کردیا۔اس موقع پر گمپا گووردھن نے الزام عائد کیا کہ ریاست میں ’’آمرانہ طرز کی حکمرانی‘‘ جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسمبلی میں مبینہ طور پر خواتین ارکان کے ساتھ بدسلوکی انتہائی افسوسناک ہے۔ انہوں نے ذمہ دار پولیس اہلکاروں کے خلاف فوری کارروائی اور گرفتاری کا مطالبہ کیا۔
احتجاج میں بی آر ایس کے سابق ضلعی صدر مجیب الدین، میونسپل وائس چیئرپرسن کاسرلا گوداوری سوامی، سابق زیڈ پی وائس چیئرمین پریم کمار سمیت دیگر قائدین و کارکنان نے شرکت کی



