جنرل نیوز

کاماریڈی میں آر او بی ضروری، مگر تعمیر سے 300 خاندان بے گھر ہونے کا خدشہ

کاماریڈی میں آر او بی ضروری لیکن ترقی کے نام پرریلوے اوور برج کی تعمیر سے 300 متوسط طبقہ بے گھر، اور انکے خاندانوں کی زندگی سڑکوں پر آنے،اور مکانات، دکانات وپلاٹس متاثر ہونے کا خدشہ، متبادل مقام پر تعمیر کا مطالبہ

 

کاماریڈی12/ستمبر(سیدکوثرعلی کی رپورٹ) کاماریڈی شہر کے ریلوے گیٹ 209/A پر مجوزہ ریلوے اوور برج (آر او بی) کی تعمیر نے اطراف کی کالونیوں کے تقریباً 300 غریب اور متوسط طبقہ خاندانوں میں تشویش پیدا کردی ہے۔ اشوک نگر، سنیہا پوری اور کے پی آر کالونی کے مکینوں کا کہنا ہے کہ برج کی تعمیر سے ان کے مکانات، پلاٹس اور اراضی متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ریلوے حکام کی جانب سے اشوک نگر روڈ کے دونوں جانب اراضی کے حصول کے لیے نشانات لگائے جانے کے بعد متاثرین میں بے چینی مزید بڑھ گئی ہے۔ گیٹ سے اشوک نگر، اندرا نگر روڈ اور کے پی آر کالونی کی سمت بھی بڑے پیمانے پر نقصانات کا اندیشہ ظاہر کیا جارہا ہے۔متاثرین کے مطابق پہلے سنیہ پوری، وکاس نگر، قدیم راجَم پیٹ یا ٹیکسٹائل پارک کے قریب آر او بی تعمیر کیے جانے کی توقع تھی، تاہم اب آبادی کے درمیان برج تعمیر کرنے کی تجویز سے وہ سخت فکرمند ہیں۔انہوں نے کہا کہ ریلوے کی دوہری لائن کے کام بھی جلد شروع ہونے والے ہیں اور آر او بی کی تعمیر پر تقریباً 200 کروڑ روپے خرچ ہونے کا اندازہ ہے۔ تاہم عوام کے گھروں کو نقصان پہنچانے کے بجائے خالی اراضی یا کم نقصان والے متبادل مقام کا انتخاب کیا جائے جو تھوڑا آگے ہے جس سے رہائشی مکانات کو کم نقصان ہو سکتا ہے ۔متاثرہ کالونیوں کے مکینوں نے مجوزہ آر او بی کی مخالفت میں حکومتی مشیر محمد علی شبیر، ضلع انچارج کلکٹر مسٹر گیری کے علاوہ ظہیرآباد کے رکن پارلیمنٹ سریش شٹکراور کاماریڈی کے رکن اسمبلی کاٹی پلی وینکٹ رمنا ریڈی سے بھی مسئلہ رجوع کیا اس سلسلہ میں متاثرین نے اتوار کی شب ہنگامی اجلاس منعقد کرتے ہوئے آئندہ کی حکمت عملی پر غور کرنے کے بعد میمورنڈم تیار کئے اور ان درخواست کی نقولات رکن پارلیمنٹ سریش شیٹکر، کاماریڈی کے رکن اسمبلی کٹی پلی وینکٹ رمنا ریڈی، حکومتی مشیر محمد علی شبیر، ریونیو ڈویژنل آفیسر، تحصیلدار، میونسپل کمشنر، ساؤتھ سنٹرل ریلوے کے جنرل منیجر اور ریلوے اسٹیشن ماسٹر سمیت دیگر متعلقہ حکام کو روانہ کی گئیں۔

 

اس موقع پر توٹا ناگراجو، محمد نذیر احمد، توٹا سریش، توٹا راجیشور راؤ، ٹیکولا کرناکر، محمد الیاس، محمد مولانا، محمد مقذوم، ایم اے رحمن، ایم اے غفار، شاد اللہ پاشا، سی ایچ لکشمی نارائنا، سنگدا پرکاش سمیت 58 کالونی کے مکینوں نے دستخط کرتے ہوئے درخواست پیش کی

 

متاثرین نے سوال کیا کہ ریلوے مسئلہ کے حل کے لیے برج ضروری ہے، لیکن اس کی تعمیر کے نام پر 300 خاندانوں کو بے گھر کرنا کہاں تک انصاف ہے؟ انہوں نے حکام سے مطالبہ کیا کہ متبادل راستوں کا جائزہ لے کر عوام کو کم سے کم نقصان پہنچنے والی جگہ پر آر او بی تعمیر کیا جائے

متعلقہ خبریں

Back to top button