ریونت ریڈی بلیک میلروں کی انجمن کے صدر ہیں: کلواکنٹلہ کویتا

ریونت ریڈی بلیک میلروں کی انجمن کے صدر ہیں: کلواکنٹلہ کویتا
کوڑنگل میں 20 ستمبر کو پنچا جنیم سنکلپ سبھا، چیف منسٹر کے گناہوں کی فہرست عوام کے سامنے لانے کا اعلان
حیدرآباد: تلنگانہ رکشنا سینا کی چیف کلواکنٹلہ کویتا نے چیف منسٹر ریونت ریڈی کو ’بدعنوانی کا سامراج‘ اور ’بلیک میلروں کی انجمن کا صدر‘ قرار دیتے ہوئے سنگین الزامات عائد کئے ہیں۔ آج اپنے ویڈیو پیغام میں کویتا نے کہا کہ ریونت ریڈی اپنے خاندان، دوستوں اور بدعنوانی میں ماہر وزراء کے ساتھ مل کر ریاست کو لوٹ رہے ہیں جبکہ اسمبلی میں ’مجھے کمیشن کیوں ملیں گے؟‘ کہہ کر کمل ہاسن کی طرح شخصی اداکاری کر رہے ہیں
، جسے دیکھ کر ریاست کے عوام ہنس رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آر ٹی آئی قانون کے مبینہ غلط استعمال کے ذریعہ رئیل اسٹیٹ تاجروں کو دھمکانے کی تاریخ کو عوام فراموش نہیں کریں گے۔کویتا نے الزام عائد کیا کہ اگر ریاست میں بلیک میلروں کی انجمن قائم کی جائے تو اس کے صدر ریونت ریڈی ہی ہوں گے۔ انہوں نے سوال کیا کہ ماضی میں تلنگانہ حکومت کو غیر مستحکم کرنے کے لئے آندھرا کے افراد کے ساتھ مل کر مبینہ ’کیش ڈیل‘ میں پکڑے جانے والا شخص کون تھا؟ انہوں نے کہا کہ اقتدار سے قبل ہی بلیک میلنگ اور مبینہ غیر قانونی سرگرمیوں کے الزام کے حامل ریونت ریڈی آج اقتدار میں آکر بدعنوان وزراء کے ساتھ ایک ’بدعنوانی کی سلطنت‘ قائم کئے ہیں۔
کویتا نے طنزیہ انداز میں کہا کہ بھگوان نے ریوَنت ریڈی کو لوٹ مار کے لئے ایک ’دوست منڈلی‘ ’خوفناک خاندان‘ اور بدعنوانی میں ماہر وزراء دیئے ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ 22 اے کے معاملات پونگولیٹی ، آبپاشی کے منصوبے اتم کمار ریڈی کو اور ریت کے معاملات سیتکا کو دے کر ان کے ذریعہ کمیشن حاصل کئے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ موسیٰ ندی سے لے کر ریت تک ہر معاملے میں بدعنوانی کے الزامات ہیں اور اسمبلی میں خود کو صاف و شفاف ثابت کرنے کی کوشش کامیاب نہیں ہوگی۔ کلواکنٹلہ کویتا نے الزام عائد کیا کہ چیف منسٹر اپنی مبینہ بدعنوانیوں کے لئے ایک طرف بی آر ایس اور دوسری طرف بی جے پی سے دوستی کر رہے ہیں۔
خاص طور پر انہوں نے ’گوپہ مستری‘ اور ’گُنٹہ نَکّہ‘ کے درمیان مبینہ ملی بھگت کا الزام عائد کیا۔ کویتا کے مطابق بی آر ایس کے دور حکومت میں سدّی پیٹ میں ممنوعہ فہرست میں شامل 100 ایکڑ اراضی کو ہریش راؤ نے اپنے والد کے نام پر رجسٹر کروایا۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملہ سے متعلق تمام ثبوت وہ فراہم کریں گی۔ اگر واقعی دونوں کے درمیان کوئی ملی بھگت نہیں ہے تو کارروائی کی جائے۔ انہوں نے چیف منسٹر ریونت ریڈی اور وزیر پونگولیٹی سرینواس ریڈی کو چیلنج کرتے ہوئے کہا کہ اگر ان میں ہمت ہے تو اس معاملہ میں کارروائی کریں۔
کویتا نے بی آر ایس پر بھی شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ دس سال اقتدار میں رہنے کے دوران اس جماعت نے کانگریس سے بھی زیادہ عوام کو لوٹا۔ انہوں نے سوال کیا کہ جب چیف منسٹر اسمبلی کو اپنی تشہیر کے لئے استعمال کرتے ہوئے اپنے کارنامے بیان کر رہے تھے تو بی آر ایس نے ان کا مؤثر جواب کیوں نہیں دیا؟ انہوں نے کہا کہ اسمبلی سے بی آر ایس ارکان کو معطل کیا گیا تو کونسل میں حکومت سے سوال کیوں نہیں کیا گیا اور واک آؤٹ کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ عوام نے بی آر ایس کو ووٹ کیوں دیا، اس پر پارٹی کو خود احتسابی کرنا چاہئے۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا بی آر ایس صرف اقتدار میں رہنے کی صورت میں ہی اسمبلی میں آئے گی؟ کویتا نے کہا کہ اسمبلی میں حالیہ واقعات انتہائی افسوسناک ہیں۔ عوامی مسائل پر بحث کے بجائے حکمراں اور اپوزیشن جماعتوں نے ایک دوسرے پر الزامات اور نازیبا الفاظ کے تبادلے کے لئے اسمبلی کو میدان بنا دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر حکومت اور اپوزیشن صرف دس منٹ بھی مل کر کام کریں تو لاکھوں عوام کے مسائل حل کئے جاسکتے ہیں لیکن اس احساس کو فراموش کرتے ہوئے عوامی پیسہ اور اسمبلی کا قیمتی وقت ضائع کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی کے ارکان بھی عوامی مسائل کو نظرانداز کرتے ہوئے کچھ کانگریس اور کچھ بی آر ایس کی حمایت کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔ عوام کانگریس، بی آر ایس اور بی جے پی تینوں کے رویہ کو دیکھ رہے ہیں۔
کلواکنٹلہ کویتا نے اعلان کیا کہ چیف منسٹر ریونت ریڈی کی مبینہ بدعنوانیوں کی مکمل فہرست کوڑنگل کے پلیٹ فارم سے عوام کے سامنے رکھی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ 20 ستمبر کو کوڑنگل میں پنچا جنیم سنکلپ سبھا منعقد کی جا رہی ہے اور اسی موقع پر چیف منسٹر کی مبینہ بدعنوانیوں اور حکومت کی کارکردگی کو عوام کے سامنے پیش کیا جائے گا۔



