اگلے زمانے میں کوئی میر بھی تھا

خداے سخن کی برسی پر یاسر اللہ شکیل کی خصوصی تحریر

دلی ہر دور میں مختلف وجوہات کی جانب سے اپنے وجود کا احساس دلاتی رہی ۔ اس خوبصورت شہر کو کئی بار خون سے رنگا گیا ۔ لاکھوں لوگ اسی سرزمین پر حملہ آوروں کا نشانہ بنے ۔ 18 ویں صدی میں اسی سرزمین پر میر تقی میر کا جنم ہوتا ہے اور کہتے ہیں کہ 18 ویں صدی میر تقی میر کی صدی تھی ۔ دلی کی سرزمین پر جو خون ریزی ہوئی اس سرزمین پر میر تقی میر نے اپنی شاعری کے ذریعہ لوگوں کے دلوں میں اپنی جگہ بنائی ۔ لیکن جب دلی کے حالات مسلسل حالات بگڑتے گئے میر کو بھی ہجرت کرنی پڑی ۔ لیکن شاعر کا دل تھا اور دلی سے ان کا لگاو ان کے اشعار میں جھلکتا ہے ۔ لکھنو میں میر کو پذیرائی تو ملی لیکن اجنبیت کا احساس بھی ہوا ۔ کچھ لوگ ان کے حلیہ اور ماضی کو لے کر طنز کیا کرتے تھے اور جب میر سے ان کے شہر کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا
کیا بود و باش ۔ پوچھو ہو پوربھ کے ساکنوں
ہم کو غریب جانکے ۔ ہنس ہنس پکار کے
دلی جو ایک شہرتھا ۔ عالم میں انتخاب
رہتے تھے منتخب ہی ۔ جہاں روزگار کے
اُس کو فلک نے لوٹ کے ویران کردیا
ہم رہنے والے ہیں اُسی اجڑے دیار کے
دلی کی یاد کبھی دل سے نہیں گئی لیکن اس شہر کے حالات اور ماضی کو دیکھ کر میر یہ کہا کرتے تھے
دلی میں آج بھیک بھی ملتی نہیں انہیں
تھا کل تلک دماغ جنہیں۔ تاج و تخت کا
دلی کے نہ تھے کوچے اوراق مصور تھے
جو شکل نظر آئی تصویر نظر آئی
میر کی شاعری نے ہر نسل کے نوجوان کو متاثر کیا ۔ آج میر تقی میر کو گزرے تقریباً 300 سال سے زیادہ کا عرصہ گزرچکا ہے لیکن میر کی شاعری ہردور کی نسل کیلئے پسندیدہ رہی ۔ میر کی شاعری نے عشق کو لے کر نوجوانوں کو متاثر کیا ۔ تو کہیں معاشرہ کو لے کر بھی ان کے اشعار نے ذہنوں کو جھنجھوڑ دیا ۔ میر سے منسوب ایک شعر کہا جاتا ہے جو میر نے اپنی بیٹی کی موت پر کہا تھا۔
کہتے ہیں کہ اپنی بیٹی کی شادی کیلئے میر نے اپنا گھر فروخت کردیا تھا اور جب بیٹی کو پتہ چلا تو وہ صدمہ برداشت نہیں کرپائی اور کچھ دنوں میں چل بسی ۔ اسی واقعہ کے پس منظر میں کہا جاتا ہے
اب آیا ہے خیال ۔ اے آرام جاں ۔ اس نامرادی میں
کفن دینا تمہیں بھولے تھے ہم اسباب شادی میں
میر ہر دور کا شاعر تھا ۔ میر کے ہر شعر میں ایک پیام ضرور تھا ۔ میر کا یہ شعر ان کی لکھنو میں یادگار پر بھی تحریر ہے
مت سہل ہمیں جانو ۔ پھرتا فلک برسوں
تب خاک کے پردہ سے انسان نکلتے ہیں
میر کی شاعری تقریباً 70 سال سے زیادہ تک پورے ملک میں گونجتی رہی ۔ کہتے ہیں کہ میر نے ڈھائی ہزار غزلیں لکھیں اور میر کے دور کا کوئی ہم عصر شاعر ان کے مقابل میں نہیں آیا ۔ میر کے بعد مرزا غالب آئے ۔ آج بھی لوگ میر اور غالب کا تقابل کرتے ہیں لیکن خود مرزا غالب نے اس بحث کو یہ کہہ کر ختم کردیا
ریختہ کے تم ہی استاد نہیں ہو غالب
کہتے ہیں کہ اگلے زمانے میں کوئی میر بھی تھا
میر کی شاعری نے اردو کو اپنے عروج پر پہنچایا ۔ کہتے ہیں کہ اگر میر تقی میر نہ ہوتے تو غزل و اردو کو وہ مقام نہیں مل پاتا ۔ میر کا یہ شعر دلوں کو چھولیتا ہے اور انسان کے حسن کی تعریف کے الفاظ اس سے بہتر کوئی دوسرا شاعر بیان نہیں کرپاتا ۔
نازکی اس کے لب کی کیا کہئے
پنکھڑی ایک گلاب کی سی ہے
آج میر ہم میں نہیں ہے ۔ لیکن ان کی غزلیں اور ان کے اشعار 300 سال کے بعد بھی گنگنائے جاتے ہیں ۔ ہندوستان کی کچھ فلموں میں میر کی غزلوں کو بھی فلمایا گیا جن میں یہ غزل
دکھائی دیئے یوں کہ بے خود کیا
ہمیں آپ سے پھر جداکر چلے
آج بھی سنتے ہیں تو دل چاہتا ہے کہ سنتے ہی رہیں
آج میر کی برسی ہے ۔ ہندوستان کی کوئی اردو اکیڈیمی ہو یا اردو ادب کا ادارہ میر کو فراموش کرچکا ہے ۔ لیکن اس عظیم شاعر کو یاد کرنا اردو دانوں اور اردو کے چاہنے والوں کی ذمہ داری بھی ہوتی ہے۔
اب تو جاتے ہیں بُت کدے سے میر
پھر ملیں گے اگر خدا لایا تو



