نظام آباد میں ہری بابو سنسنی خیز قتل کیس کا مرکزی ملزم گرفتار

نظام آباد: تلنگانہ کے نظام آباد شہر میں پیش آئے ہری بابو سنسنی خیز قتل کیس میں پولیس نے اہم پیش رفت کرتے ہوئے اے-1 ملزم سنتوش کو گرفتار کرلیا۔ پولیس کمشنر پی سائی چیتنیہ، آئی پی ایس نے بتایا کہ مقتول کی والدہ چتاری لکشمی کی شکایت پر 17 ستمبر کو نظام آباد ٹو ٹاؤن پولیس اسٹیشن میں قتل کا مقدمہ درج کیا گیا تھا۔
مقدمہ درج ہوتے ہی پولیس کمشنر کی نگرانی میں خصوصی ٹیمیں تشکیل دی گئیں۔ پولیس نے تکنیکی شواہد اور سی سی ٹی وی فوٹیج کی مدد سے تحقیقات تیز کرتے ہوئے ملزم کی شناخت کی۔
پولیس کے مطابق 17 مارچ 2026 کو ہری بابو کی اہلیہ یوٹیوبر ویشنوئی کے قتل کا مقدمہ کورٹلہ پولیس اسٹیشن میں درج ہوا تھا۔ اس معاملے میں ہری بابو، اس کی والدہ چتاری لکشمی اور اس کے دو بھائی گرفتار ہوکر کریم نگر جیل گئے تھے، تاہم بعد میں ضمانت پر رہا ہوگئے
۔ رہائی کے بعد ہری بابو اور اس کی والدہ کو ویشنوئی کے خاندان کی جانب سے جان کا خطرہ محسوس ہوا، جس کے باعث دونوں نظام آباد منتقل ہوگئے اور سائی نگر میں رہنے لگے تھے۔ وہ آر آر چوراہے کے قریب مکئی کے بھٹے فروخت کرکے روزگار چلا رہے تھے۔
پولیس کی تحقیقات میں انکشاف ہوا کہ ویشنوئی کے قتل کا بدلہ لینے کی نیت سے اے-1 سنتوش نے مبینہ طور پر پہلے سے منصوبہ بنایا۔ وہ اپنی والدہ گندھم رانی، پھوپھی کے بیٹوں چرن، رنجیت اور دیگر افراد خاندان کی مدد سے 17 ستمبر کو شام تقریباً 5 بجے سفید رنگ کی سوئفٹ ڈیزائر کار نمبر TS-36A-4843 میں کورٹلہ سے نظام آباد پہنچا۔
آر آر چوراہے کے قریب گِری راج کمپلیکس کے سامنے ایک پانی پوری کے ٹھیلے پر ہری بابو پانی لے رہا تھا۔ اسی دوران سنتوش کار کے پچھلے دائیں دروازے سے باہر نکلا اور مبینہ طور پر چاقو سے ہری بابو کے سر، چہرے اور گردن پر کئی وار کیے۔ اس کے بعد وہ اسی کار میں فرار ہوگیا۔ پولیس کے مطابق عینی شاہدین کے بیانات اور تکنیکی شواہد سے یہ بات سامنے آئی ہے۔
ملزمین کی گرفتاری کے لئے چار خصوصی پولیس ٹیموں نے تلاش شروع کی۔ قابل اعتماد اطلاع ملنے پر پولیس کو معلوم ہوا کہ اے-1 سنتوش نظام آباد آؤٹر بائی پاس کے علاقے میں موجود ہے۔
19 ستمبر کو پولیس نے اسے پکڑنے کی کوشش کی تو اس نے فرار ہونے کی کوشش کی، تاہم پولیس نے اسے قابو کرلیا۔ پوچھ گچھ کے دوران اس سے کیس سے متعلق اہم معلومات حاصل ہوئیں۔ پولیس کے مطابق وہ کار کو ایک مقام پر چھوڑ کر اپنی ساس کے آبائی شہر وشاکھاپٹنم جانے کے لیے نظام آباد ریلوے اسٹیشن پہنچنے کی کوشش کر رہا تھا کہ گرفتار کرلیا گیا۔
ملزم کی فراہم کردہ معلومات کی بنیاد پر قتل میں استعمال کیا گیا چاقو، سفید رنگ کی سوئفٹ ڈیزائر کار، کار میں موجود مزید دو چاقو اور دو لاٹھیاں بھی ضبط کرلی گئیں۔
پولیس نے بتایا کہ ملزم کو عدالت میں پیش کرکے عدالتی تحویل میں بھیجا جارہا ہے۔ ابتدائی تحقیقات میں چار افراد کے ملوث ہونے کا پتہ چلا ہے۔ دیگر ملزمین کے کردار کی بھی تحقیقات جاری ہیں۔ پولیس نے کہا کہ تحقیقات کے دوران جس کسی کا بھی جرم میں ملوث ہونا ثابت ہوگا، اس کے خلاف قانونی کارروائی کرتے ہوئے اسے گرفتار کیا جائے گا۔ فرار دیگر ملزمین کو بھی جلد گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔
پولیس کمشنر پی سائی چیتنیہ، آئی پی ایس نے قتل کے تقریباً ڈیڑھ دن کے اندر مرکزی ملزم کو گرفتار کرنے پر اے سی پی پرکاش، سرکل انسپکٹر سرینواس راج، ایس آئی یادگیری گوڑ اور دیگر پولیس اہلکاروں کو مبارکباد دی۔
انہوں نے افسران کو ہدایت دی کہ کیس کی تمام پہلوؤں سے مکمل تحقیقات کرتے ہوئے ملزمان کو عدالت سے سزا دلانے کے لئے مضبوط شواہد پیش کئے جائیں۔



