جنرل نیوز

تلنگانہ یونیورسٹی کے 29 اسسٹنٹ پروفیسروں کو ترقی کے احکامات جاری

نظام آباد 22/ ستمبر (اردو لیکس) تلنگانہ یونیورسٹی میں سال 2014 میں تقرر پانے والے 29 اسسٹنٹ پروفیسروں کا تقریباً آٹھ برس سے جاری ترقیوں کا انتظار بالآخر ختم ہوگیا۔ ہائی کورٹ کی ڈیویژن بنچ کی ہدایات، تلنگانہ اسٹیٹ ایڈوکیٹ جنرل کی قانونی مشاورتی رپورٹ اور یونیورسٹی ایگزیکٹیو کونسل کی متفقہ قرارداد کی بنیاد پر متعلقہ فیکلٹی ارکان کو ترقی کے احکامات جاری کر دیے گئے

 

۔تفصیلات کے مطابق گزشتہ ماہ 24 تاریخ کو تلنگانہ سیکریٹریٹ میں منعقدہ تلنگانہ یونیورسٹی کی مکمل ایگزیکٹیو کونسل کی پہلی میٹنگ میں اس اہم معاملے پر تفصیلی غور کیا گیا۔ اجلاس میں ایڈوکیٹ جنرل کی قانونی رائے پیش کیے جانے کے بعد 2014 بیاچ کے اہل اسسٹنٹ پروفیسروں کو ترقی دینے کی تجویز متفقہ طور پر منظور کی گئی۔ایگزیکٹیو کونسل کی قرارداد کے مطابق 17 ستمبر کو 29 اسسٹنٹ پروفیسروں کی درکار سرٹیفیکیٹس کی جانچ پڑتال اسکریننگ سے متعلق سفارشات پیش کی گئیں۔

 

اجلاس میں کلاس ون ایگزیکٹیو ممبران، ریاستی محکمہ اعلیٰ تعلیم کی سیکریٹری ڈاکٹر یوگیتا رانا، محکمہ فینانس کے سیکریٹری سکتا پٹنائک اور کمشنر آف کالجیٹ ایجوکیشن دیوسینا نے شرکت کی۔ اس کے علاوہ کلاس ٹو ایگزیکٹیو ممبران پروفیسر سی ایچ انجنیولو، ڈاکٹر سدھاکر گوڈ، ڈاکٹر مدن موہن، جینت، لاونیا، غازی، سنجیوا راؤ، ڈاکٹر ڈنڈو سوامی اور رجنی کانت نے بھی اس تجویز کی منظوری دی۔

 

بعد ازاں وائس چانسلر پروفیسر ٹی یادگیری راؤ کی ہدایت پر رجسٹرار پروفیسر ایم یادگیری نے ترقی کے احکامات متعلقہ فیکلٹی ممبران کے حوالے کیے۔ ترقی کے احکامات جاری ہونے پر یونیورسٹی کے اساتذہ میں خوشی و مسرت کی لہر دوڑ گئی،

 

جبکہ فیکلٹی ممبران نے اسے طویل عرصے سے زیر التواء جائز مطالبہ کی تکمیل اور یونیورسٹی کی تعلیمی و انتظامی پیش رفت کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا۔ یہ پیش رفت تلنگانہ یونیورسٹی میں تدریسی عملے کی ترقی، شفاف انتظامی فیصلوں اور عدالتی ہدایات پر عمل درآمد کے حوالے سے ایک اہم سنگ میل سمجھی جا رہی ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button