دو روزہ حضرت سلطان المحبوبین شاہ محمد مظہر الدین چشتی و قادریؒ کا 55واں عرس تزک و احتشام کے ساتھ منعقد ہوا

حیدرآباد، 5 نومبر (پریس ریلیز):اولیائے کرام کی حیاتِ مبارکہ عشقِ الٰہی، اتباعِ سنت، اصلاحِ نفس اور خدمتِ خلق کا وہ روشن باب ہے جو ہر دور میں اہلِ ایمان کے لیے سرچشمۂ ہدایت و رہنمائی ثابت ہوتا ہے۔ ان برگزیدہ ہستیوں کی یاد منانا دراصل ان کے روحانی فیوض و برکات، تعلیمات اور دینی و اصلاحی خدمات سے وابستگی کا اظہار ہے۔ اسی سلسلے کی ایک بابرکت تقریب حضرت سلطان المحبوبین، زبدۃ العارفین، مرشدی و مولائی سیدنا شاہ الحاج محمد مظہر الدین صاحب چشتی و قادری قدس سرہ العزیز کے عرس مبارک کی گلستانِ مظہریہ، لنگم پلی (کاچی گوڑہ)، حیدرآباد میں نہایت تزک و احتشام اور عقیدت و احترام کے ساتھ منعقد ہوئی۔
یہ دو روزہ عرس مبارک 22 جمادی الاول 1448ھ، مطابق 3 نومبر 2026ء بروز منگل، اور 23 جمادی الاول 1448ھ، مطابق 4 نومبر 2026ء بروز چہارشنبہ منعقد ہوا۔ اس موقع پر زیرِ سرپرستی حضرت مولانا الحاج شاہ محمد خلیل الدین خالد مظہری چشتی و قادری، جانشین حضرت ممدوح، مختلف مذہبی و روحانی مراسم انجام دیے گئے، جن میں کثیر تعداد میں مریدین، معتقدین اور عقیدت مندوں نے شرکت کرتے ہوئے اپنی والہانہ وابستگی اور روحانی عقیدت کا اظہار کیا۔
عرس کے موقع پر مراسمِ صندل مالی، پیشکشیِ چادر، گل و غلاف، سماع، مبارک، سلام بحضور خیرالانام ﷺ اور تقسیمِ تبرکات جیسے روح پرور اجتماعات کا اہتمام کیا گیا۔ ان روحانی محافل میں ذکر و عقیدت کی فضا قائم رہی اور حاضرین نے فیوض و برکات سے استفادہ کیا۔
عرس کے انتظامات کی نگرانی مولانا شاہ محمد مظہر الدین چشتی قادری، نبیرہ فاضل جامعہ نظامیہ حضرت ممدوح نے انجام دی۔ اس موقع پر خطیب و امام مسجد تلنگانہ اسٹیٹ حج ہاؤز، نامپلی، حیدرآباد، مولانا مفتی ڈاکٹر حافظ محمد صابر پاشا قادری کے علاوہ حضرت میر شجاعت علی، جناب شیخ رحمت، جناب شبیر اور دیگر معزز حضرات نے بھی بارگاہ میں حاضری دی اور اپنی عقیدت کا اظہار کیا۔
اس موقع پر مولانا مفتی ڈاکٹر حافظ محمد صابر پاشا قادری نے اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حضرت شاہ محمد مظہر الدین چشتی و قادریؒ جیسی روحانی شخصیات کی حیات و تعلیمات ہمارے لیے اصلاحِ باطن، تزکیۂ نفس، محبتِ رسول ﷺ اور خدمتِ انسانیت کا پیغام رکھتی ہیں۔ اولیائے کرام نے اپنی زندگیوں کے ذریعے دینِ اسلام کی حقیقی روح، اخلاقِ حسنہ اور باہمی محبت و اخوت کا درس دیا۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم ان بزرگوں سے اپنی عقیدت کو محض رسمی تقریبات تک محدود نہ رکھیں بلکہ ان کی تعلیمات کو اپنی عملی زندگی کا حصہ بنائیں اور نئی نسل کو بھی ان کے اخلاق و کردار اور دینی خدمات سے روشناس کروائیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایسے روحانی اجتماعات معاشرے میں دینی بیداری، اخلاقی تربیت اور باہمی اتحاد و محبت کے فروغ کا اہم ذریعہ ہیں۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ حضرت ممدوح کے درجات کو مزید بلند فرمائے، ان کے فیوض و برکات سے امتِ مسلمہ کو مستفید فرمائے اور تمام حاضرین و عقیدت مندوں کو دین و دنیا کی سعادتوں سے نوازے۔ آمین۔



