نیشنل

چیف الیکشن کمشنر کے خلاف احتجاج کے پیش نظر دہلی میں ہائی الرٹ۔ دفعہ 144 نافذ، پولیس کا سخت پہرہ اور سرحدوں پر کڑی نگرانی

نئی دہلی: اپوزیشن نے جمعرات کو اعلان کیا کہ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے تک ان کا احتجاج جاری رہے گا۔ دوسری جانب کاکروچ جنتا پارٹی نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ ہفتے کے روز ایک اور دھرنے اور احتجاجی مظاہرے کے لیے جمع ہوں۔

 

اس صورتِ حال کو دیکھتے ہوئے دہلی پولیس نے سکیورٹی انتظامات سخت کر دیے ہیں۔ حکام اور پولیس نے امن و امان برقرار رکھنے کے لیے کئی اقدامات کیے ہیں۔شہر کی پولیس کی مدد کے لیے مرکزی فورسز کے 23 ہزار اہلکاروں کو طلب کیا گیا ہے۔ نیم فوجی دستوں کی پانچ خواتین کمپنیاں ڈیوٹی پر تعینات رہیں گی شراب کی دکانیں دو دن کے لیے بند رہیں گی اور وسطی دہلی کے ہوٹلوں کو کمروں کی بکنگ محدود کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔

 

کاکروچ جنتا پارٹی اور آل انڈیا اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن نے ہفتے کے روز جنتر منتر پر مشترکہ طور پر احتجاجی مظاہرے کی اپیل کی ہے۔ توقع ہے کہ کئی اپوزیشن جماعتیں بھی اس میں شامل ہوں گی۔ تاہم، دہلی پولیس نے بھارتیہ شہری سرکشا سنہتا کی دفعہ 163 کے تحت نافذ پابندیوں کا حوالہ دیتے ہوئے اس احتجاج کی اجازت دینے سے انکار کر دیا ہے۔

 

حکام نے بتایا کہ دہلی پولیس کے انٹیلی جنس یونٹ کا اندازہ ہے کہ پڑوسی ریاستوں سے آنے والے افراد سمیت 50 ہزار سے زائد لوگ شہر میں جمع ہو سکتے ہیں۔ حکام کے مطابق سکیورٹی انتظامات کا مقصد مظاہرین کو جنتر منتر یا وسطی دہلی کے حساس علاقوں تک پہنچنے سے روکنا ہے۔

 

2020 میں شمال مشرقی دہلی میں ہونے والے فسادات کے بعد کسی احتجاج کے دوران امن و امان برقرار رکھنے کے لیے دارالحکومت میں مرکزی فورسز کی یہ اب تک کی سب سے بڑی تعیناتیوں میں سے ایک ہے۔ وزارتِ داخلہ نے 8 سے 12 اکتوبر تک دہلی پولیس کی مدد کے لیے مرکزی مسلح پولیس فورسز کی 221 کمپنیاں فراہم کی ہیں جن میں تقریباً 23 ہزار اہلکار شامل ہیں۔

 

جموں و کشمیر، مغربی بنگال اور چھتیس گڑھ سے سینٹرل ریزرو پولیس فورس کی کمپنیاں بلائی جا رہی ہیں۔ حکام نے بتایا کہ اضافی فورسز دہلی پولیس کو احتجاجی مظاہروں سے نمٹنے اہم سرکاری عمارتوں کی حفاظت کرنے اور وسطی دہلی میں امن و امان برقرار رکھنے میں مدد فراہم کریں گی۔

 

خواتین مظاہرین کی بڑی تعداد میں شرکت کے خدشے کے پیشِ نظر دہلی پولیس ہجوم کو قابو میں رکھنے میں مدد کے لیے نیم فوجی دستوں کی مزید 450 سے 500 خواتین اہلکاروں کو بھی تعینات کرے گی۔ اس طرح تعینات کیے جانے والے مرکزی مسلح پولیس فورسز کے اہلکاروں کی مجموعی تعداد 26 ہزار ہو جائے گی۔

 

دہلی پولیس کی خواتین اہلکاروں کے علاوہ نیم فوجی دستوں کی اضافی خواتین اہلکار بھی تعینات کی جائیں گی۔ پولیس کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ گزشتہ احتجاجی مظاہروں میں بڑی تعداد میں خواتین شریک ہوئی تھیں۔ گزشتہ چند دنوں سے جاری مظاہروں میں بھی خواتین کی نمایاں تعداد شرکت کر رہی ہے اسی لیے پولیس کا اندازہ ہے کہ 10 اکتوبر کو ہونے والے احتجاج میں بھی خواتین کی بڑی تعداد موجود ہوگی۔

 

فی الحال، نئی دہلی ضلع میں واقع جنتر منتر کے علاقے میں دہلی پولیس کے 5 ہزار اہلکار تعینات ہیں۔ حکام کے مطابق اس تعداد کو بڑھا کر 15 ہزار تک کیا جا سکتا ہے۔ جنتر منتر اور پارلیمنٹ کی جانب جانے والی سڑکوں پر کئی سطحوں پر رکاوٹیں (بیریکیڈز) لگائی جا رہی ہیں۔

 

راج گھاٹ پر بھی پابندیاں نافذ کر دی گئی ہیں۔حکومت کو لکھے گئے ایک خط میں پولیس نے محکمۂ آبکاری سے یہ درخواست بھی کی ہے کہ شراب فروخت کرنے والوں کو جمعہ اور ہفتے کے روز اپنی دکانیں بند رکھنے کی ہدایت دی جائے۔

 

پولیس نے اس درخواست میں احتجاج کے دوران امن و امان کی صورتِ حال خراب ہونے کے خدشے کا حوالہ دیا ہے۔پولیس کے ایک سینئر افسر نے بتایا کہ پولیس طلبہ کو یہ اطلاع دینے کی بھی کوشش کر رہی ہے کہ 10 اکتوبر کو نئی دہلی ضلع میں کسی بھی قسم کا اجتماع غیر قانونی ہوگا۔

 

دہلی کی سرحدی چوکیوں پر بھی سخت نگرانی کی جا رہی ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button