فحش ویڈیوس وائرل کرنے کی دھمکی دے کر بلیک میلنگ، حیدرآباد میں بزرگ شخص سے 18 لاکھ روپے وصول

حیدرآباد: سائبر مجرموں نے سوشل میڈیا پر فحش ویڈیوز وائرل کرنے کی دھمکی دے کر ایک 66 سالہ بزرگ شخص سے 18 لاکھ روپے وصول کر لیے۔
یہ واقعہ کشائی گوڑہ پولیس اسٹیشن کے حدود میں پیش آیا۔ پولیس کے مطابق اے ایس راؤ نگر میں واقع بینک آف بڑودہ کے ایک ریٹائرڈ ملازم جس کی عمر 66 سال ہے، نے جمعرات کے روز اپنے اکاؤنٹ سے نامعلوم افراد کے اکاؤنٹ میں 2 لاکھ روپے منتقل کیے۔
بزرگ شخص کی گھبراہٹ کو دیکھتے ہوئے بینک مینیجر نے ایل بی نگر کے سائبر انسپکٹر سندیپ کو اطلاع دی۔اطلاع ملنے پر پولیس ٹیم جس میں ڈیٹیکٹیو انسپکٹر وینکٹیشورلو، سب انسپکٹر ترون اور کانسٹیبل راجو شامل تھے، بینک پہنچی اور مینیجر سے متاثرہ شخص کا پتہ حاصل کیا۔ اس کے بعد پولیس اہلکار بزرگ شخص کے گھر گئے
اور واقعے کی تفصیلات معلوم کیں۔متاثرہ شخص نے پولیس کو بتایا کہ رواں ماہ کی 5 تاریخ کو ایک نامعلوم خاتون نے فیس بک کے ذریعے اسے فحش ویڈیو کی کال کی جب بزرگ شخص نے یہ ویڈیو کال وصول کی تو سائبر مجرموں نے اس کی اسکرین ریکارڈنگ کرکے ویڈیو بنا لی۔بعد ازاں ملزمین نے دھمکی دی کہ وہ بزرگ شخص کی فحش ویڈیوز سوشل میڈیا پر پوسٹ کر دیں گے۔
سائبر مجرموں نے دعویٰ کیا کہ وہ متاثرہ شخص کی ویڈیوز پہلے ہی یوٹیوب، ٹوئٹر اور انسٹاگرام پر اپ لوڈ کر چکے ہیں۔ انہوں نے ویڈیوز ہٹانے کے لیے 30 لاکھ روپے کا مطالبہ کیا۔ملزمین نے خود کو پولیس اہلکار ظاہر کرتے ہوئے بزرگ شخص کو ’’ڈیجیٹل گرفتاری‘‘ (Digital Arrest) کا خوف بھی دلایا اور انہیں شدید ذہنی دباؤ میں مبتلا کر دیا۔
دھمکیوں سے خوف زدہ ہو کر متاثرہ شخص نے 5 تاریخ سے جمعرات تک مختلف قسطوں میں مجموعی طور پر 18 لاکھ روپے ملزمان کے بینک اکاؤنٹس میں منتقل کر دیے۔پولیس نے متاثرہ شخص کو سائبر فراڈ اور ڈیجیٹل گرفتاری کے نام پر ہونے والی دھوکہ دہی کے بارے میں آگاہ کیا اور اسے حوصلہ دیا۔پولیس نے مشورہ دیا کہ وہ سائبر مجرموں سے مزید کوئی رابطہ نہ کرے ان کی فون کالز یا پیغامات کا جواب نہ دے
اور ان کے کسی بھی مطالبے کے سامنے نہ جھکے۔تفتیش کے دوران پولیس کو معلوم ہوا کہ متاثرہ شخص کے بینک اکاؤنٹ میں 80 لاکھ روپے کے علاوہ دیگر فکسڈ ڈپازٹس بھی موجود ہیں۔ پولیس نے مزید رقم منتقل ہونے سے روکنے کے لیے اقدامات کیے۔اس کے علاوہ جمعرات کے روز منتقل کیے گئے 2 لاکھ روپے بھی سائبر مجرموں تک پہنچنے سے روک دیے گئے۔
متاثرہ شخص کی شکایت پر پولیس نے مقدمہ درج کرکے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ مشتبہ مالی لین دین کی تفصیلات نیشنل سائبر کرائم رپورٹنگ پورٹل پر بھی درج کرکے شکایت درج کرائی گئی ہے۔



