جرائم و حادثات

نکاح کے صرف 12 گھنٹے بعد دلہا کی خودکشی، شادی کی خوشیاں ماتم میں تبدیل

میرٹھ: اترپردیش کے میرٹھ ضلع کے  اُلدھن گاوں میں نکاح کی خوشیاں اس وقت ماتم میں تبدیل ہوگئیں، جب 26 سالہ نوجوان نے نکاح کے محض 12 گھنٹے بعد مبینہ طور پر خودکشی کرلی۔ چہارشنبہ کی صبح گاؤں کے قریب آم کے باغ میں ایک درخت سے اس کی نعش لٹکتی ہوئی پائی گئی۔ متوفی کی شناخت گاؤں اُلدھن کے رہنے والے یونس ولد نواب قریشی کی حیثیت سے کی گئی ہے۔

 

اطلاعات کے مطابق، یونس دہلی میں چکن سپلائی کی دکان چلاتا تھا۔ افراد خاندان کے مطابق، منگل کی دوپہر اس کی بارات میرٹھ کے گاؤں پاولی خاص گئی تھی، جہاں انجم کے ساتھ اس کا نکاح انجام پایا۔ رات تقریباً 10 بجے دلہا اور دلہن بارات کے ساتھ گاؤں واپس پہنچے۔ گھر واپسی پر شادی کی خوشی میں آتش بازی بھی کی گئی۔ بعد ازاں یونس اپنی اہلیہ کے ساتھ کمرے میں چلا گیا۔ بتایا گیا کہ اس نے اہلیہ کا مہر بھی ادا کردیا تھا اور رات تک سب کچھ معمول کے مطابق تھا۔

 

چہارشنبہ کی صبح یونس گھر سے نکلا اور گاؤں کے قریب بہرام پور کے رہنے والے تیج ویر سنگھ کے آم کے باغ میں پہنچا، جہاں اس نے مبینہ طور پر درخت سے رسی کا پھندا لگا کر خودکشی کرلی۔ کھیتوں کی جانب جانے والے ایک کسان نے درخت سے لٹکتی لاش دیکھی اور گاؤں والوں کو اطلاع دی۔ کچھ ہی دیر میں موقع پر لوگوں کی بھیڑ جمع ہوگئی اور افراد خاندان بھی پہنچ گئے۔

 

اطلاع ملنے پر خرکھودا پولیس موقع پر پہنچی اور نعش کو درخت سے اتروایا۔ پولیس نے پنچ نامہ کی کارروائی کے بعد نعش افراد خاندان کے حوالے کردی۔ افراد خاندان نے پوسٹ مارٹم اور مزید قانونی کارروائی سے انکار کردیا ہے۔ پولیس کے مطابق، اس سلسلے میں اب تک کوئی تحریری شکایت موصول نہیں ہوئی۔

 

یونس کی خودکشی کی وجہ تاحال واضح نہیں ہوسکی ہے۔ اس واقعہ سے خاندان میں کہرام مچا ہوا ہے، جبکہ رشتہ داروں اور واقف کاروں کی آمد کا سلسلہ جاری ہے۔  یونس کی تدفین جمعرات کو عمل میں لائی گئی۔

 

سی او کِٹھور وشواجیوتی رائے نے بتایا کہ اطلاع ملنے پر پولیس موقع پر پہنچی تھی اور نعش کو پوسٹ مارٹم کے لیے بھیجنے کی تیاری کی گئی، تاہم اہل خانہ نے پوسٹ مارٹم اور دیگر قانونی کارروائی سے انکار کردیا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button