نیشنل

مہاراشٹرا: 2 لاکھ 70 ہزار ووٹروں کی عمر 100 سال سے زیادہ درج

ممبئی : مہاراشٹر امیں اسپیشل انٹینسیو ریویژن یعنی ووٹر لسٹ کی خصوصی گہری نظرثانی کے تحت تیار کی گئی ابتدائی ووٹر لسٹ میں 2,70,313 ووٹروں کی عمریں 101 سے 150 سال کے درمیان درج ہو گئیں۔ ’دی انڈین ایکسپریس‘ کی رپورٹ کے مطابق اس کی وجہ ایک تکنیکی خرابی بتائی گئی

 

جس کے باعث ان تمام ووٹروں کی تاریخِ پیدائش میں سال 1900 درج ہو گیا تھا۔ریاست کے چیف الیکٹورل آفیسر کے دفتر کی جانب سے یہ معاملہ اٹھائے جانے کے ایک ماہ سے زیادہ عرصے بعد منگل کے روز الیکشن کمیشن آف انڈیا نے اس غلطی کو درست کر دیا۔

 

ان میں سب سے زیادہ 2,37,974 معاملے یعنی تقریباً 88 فیصد، ضلع ناسک کے تین اسمبلی حلقوں کلون (ایس ٹی)، چاندوڑ اور دیولالی (ایس سی) میں سامنے آئے۔ باقی 32,339 معاملے ریاست کے دیگر علاقوں میں پائے گئے۔اس غلطی کی اصل وجہ معلوم کرنے کے لیے چیف الیکٹورل آفیسر کے دفتر نے

 

الیکشن کمیشن کے آئی ٹی ڈویژن سے درخواست کی کہ ایس آئی آر سے پہلے کی ووٹر لسٹ میں درج تاریخِ پیدائش اور عمر، نیز ایس آئی آر کے لیے بھرے گئے اندراجی فارموں میں موجود تاریخِ پیدائش کی معلومات ایکسل فارمیٹ میں فراہم کی جائیں۔چیف الیکٹورل آفیسر یہ معلوم کرنے کی کوشش کر رہے تھے کہ یہ غلطی ایس آئی آر شروع ہونے سے پہلے ہوئی تھی

 

یا نظرثانی کے عمل کے دوران پیش آئی۔معلومات حاصل کرنے کے لیے متعلقہ دفتر نے 2 ستمبر اور پھر 8 ستمبر کو یاد دہانی کرائی۔ اس کے باوجود معلومات فراہم نہیں کی گئیں جس کے بعد چیف الیکٹورل آفیسر ایس چوکالنگم نے 17 ستمبر کو سینئر ڈپٹی الیکشن کمشنر منیش گرگ کو خط لکھا اور درخواست کی کہ آئی ٹی سیکشن کو ہدایت دی جائے کہ وہ بلا تاخیر مطلوبہ معلومات فراہم کرے۔

 

ایس چوکالنگم نے اپنے خط میں لکھا کہ مہاراشٹر کے مختلف اسمبلی حلقوں میں ایس آئی آر 2026 کے تحت تیار کی گئی ابتدائی ووٹر لسٹ میں 2,70,313 ووٹروں کی عمریں 101 سے 150 سال کے درمیان درج کی گئی ہیں۔خط میں مزید کہا گیا کہ بڑی تعداد میں ووٹروں کی عمر 126 سال درج کی گئی تھی۔

 

5 اکتوبر کو ’دی انڈین ایکسپریس‘ نے نئی دہلی میں الیکشن کمیشن کے ترجمان سے سوال کیا کہ معلومات فراہم کرنے میں اتنی تاخیر کیوں ہوئی۔ذرائع کے مطابق چیف الیکٹورل آفیسر کے دفتر کو اسی دن بعد میں جواب موصول ہوا اور مزید یاد دہانی کے بعد 6 اکتوبر کو یہ غلطی درست کر دی گئی۔

 

الیکشن کمیشن کے حکام نے بتایا کہ تکنیکی خرابی کے باعث بڑی تعداد میں ووٹروں کے سالِ پیدائش میں 1900 درج ہو گیا تھا۔ حکام کے مطابق اس مسئلے کو سسٹم کے ذریعے درست کر دیا گیا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button