تلنگانہ

کوڑنگل کے پلساپور میں قدیم قبرستان اور چلہ مبارک منہدم کرنے کا الزام – کوڑنگل کے سابق ڈپٹی سرپنچ غوثن وجودی کی سخت مذمت

کوڑنگل کے پلساپور میں قدیم قبرستان اور چلہ مبارک منہدم کرنے کا الزام، غوثن وجودی کی سخت مذمت

رات کی تاریکی میں پولیس کی موجودگی میں انہدام کا دعویٰ، قبرستان و چلہ مبارک کی فوری بحالی اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ

 

کوڑنگل، 13 اکتوبر (پریس نوٹ): سابق ڈپٹی سرپنچ کوڑنگل  ایس ایم غوثن وجودی نے ضلع وقارآباد  تلنگانہ کے پلساپور گاؤں میں ایک قدیم قبرستان اور چلہ مبارک کو منہدم کئے جانے کی سخت مذمت کرتے ہوئے حکومت تلنگانہ سے فوری کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

 

انہوں نے اپنے اخباری بیان میں الزام عائد کیا کہ پیر اور منگل کی درمیانی شب ایک سے دو بجے کے درمیان کوڑنگل شہر سے تقریباً تین کلومیٹر دور لب سڑک واقع قدیم قبرستان اور چلہ مبارک کو پولیس کی موجودگی میں منہدم کرکے وہاں سڑک تعمیر کردی گئی۔ انہوں نے اس کارروائی کو غیر قانونی اور وقف قانون کی صریح خلاف ورزی قرار دیا۔

 

غوثن وجودی نے کہا کہ تقریباً ایک سال قبل کوڑنگل میں بھی تین قبرستانوں، دو چلوں، ایک درگاہ شریف اور عاشور خانے کو منہدم کئے جانے کا واقعہ پیش آیا تھا۔ ان کے مطابق اس وقت چیف منسٹر ریونت ریڈی نے مسلمانوں کو یقین دلایا تھا کہ درگاہ کو اسی مقام پر دوبارہ تعمیر کیا جائے گا، قبرستانوں کے اطراف باؤنڈری وال تعمیر کی جائے گی اور متبادل زمین بھی فراہم کی جائے گی، تاہم ایک سال گزرنے کے باوجود ان وعدوں پر عمل نہیں کیا گیا۔

 

انہوں نے کہا کہ پلساپور میں پیش آنے والے تازہ واقعہ سے مسلمانوں میں تشویش پائی جاتی ہے۔ انہوں نے حکومت تلنگانہ، ضلع کلکٹر اور وقف بورڈ سے مطالبہ کیا کہ واقعہ کی فوری تحقیقات کرائی جائیں، ذمہ دار عہدیداروں کے خلاف کارروائی کی جائے اور قبرستان و چلہ مبارک کو اسی مقام پر بحال کیا جائے۔

 

غوثن وجودی نے انتباہ دیا کہ اگر متاثرین کو انصاف فراہم نہیں کیا گیا تو شہریان کوڑنگل کی جانب سے سونیا گاندھی، راہول گاندھی، پرینکا گاندھی اور کانگریس صدر ملکارجن کھرگے سے رجوع ہوکر اپنی شکایت پیش کی جائے گی۔

متعلقہ خبریں

Back to top button