نیٹ امتحان کے پیپر لیک معاملہ میں بی جے پی یوتھ لیڈر گرفتار
جئے پور: ملک بھر میں طبی تعلیمی اداروں میں داخلوں کے لیے منعقدہ نیٹ امتحان کے پیپر لیک معاملہ کی سی بی آئی تحقیقات کے دوران راجستھان سے تعلق رکھنے والے دو بھائیوں کو گرفتار کرلیا گیا ہے، جن میں ایک مقامی بی جے پی یوتھ لیڈر بھی شامل ہے۔
سی بی آئی کے مطابق گرفتار شدگان کی شناخت دنیش بیوال اور اس کے بھائی منگی لال بیوال کے طور پر ہوئی ہے۔ تحقیقات میں انکشاف ہوا کہ دونوں نے ہریانہ کے ایک شخص سے NEET-2026 سے متعلق 120 سوالات پر مشتمل ’’گیس پیپر‘‘ حاصل کیا تھا، جسے انہوں نے مبینہ طور پر 15 لاکھ روپے میں خریدا۔ بعد ازاں اس گیس پیپر کو سیکر کے متعدد طلبہ کو فروخت کیے جانے کا بھی پتہ چلا ہے۔
سی بی آئی نے دونوں بھائیوں کو جے پور ضلع کے جموا رام گڑھ علاقے سے گرفتار کیا اور پوچھ گچھ کے لیے دہلی منتقل کردیا۔ راجستھان اسپیشل آپریشنس گروپ کے ایک سینئر پولیس عہدیدار کے مطابق گزشتہ سال دنیش بیوال کے خاندان کے پانچ افراد کے نیٹ امتحان میں کامیاب ہونے کے معاملہ کی بھی جانچ کی جارہی ہے۔
ادھر گرفتار شدہ دنیش بیوال مقامی بی جے پی یوتھ ونگ کا سرگرم لیڈر بتایا جارہا ہے۔ اس کے فیس بک پروفائل پر کئی بی جے پی قائدین کے ساتھ تصاویر موجود ہیں، جن میں 2021 کے راجستھان وزیر تعلیم مدن دلاور اور مقامی بی جے پی ایم ایل اے مہندر پال مینا کے ساتھ لی گئی تصاویر بھی شامل ہیں۔ تین دن قبل دنیش کی سالگرہ کے موقع پر بی جے پی ایم ایل اے مہندر پال مینا نے فیس بک پر تصویر شیئر کرتے ہوئے مبارکباد بھی پیش کی تھی۔
اس گرفتاری کے بعد راجستھان کی سیاست میں ہلچل مچ گئی ہے۔ کانگریس نے حکمراں بی جے پی پر شدید تنقید کرتے ہوئے الزام لگایا کہ نوجوانوں کے مستقبل سے کھیلنے والے عناصر کو سیاسی تحفظ فراہم کیا جارہا ہے۔ سابق چیف منسٹر اشوک گھلنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ ملک کے نوجوانوں کے مستقبل کو تباہ کرنے والوں کو بی جے پی بچانے کی کوشش کررہی ہے۔



