آر بی آئی کے ریپو ریٹ میں اضافہ ، قرض لینے والوں کی جیب پر بوجھ؛ ہوم لون کی EMI میں ہوگا اضافہ

حیدراباد – ریزرو بینک آف انڈیا (آر بی آئی) نے اہم شرح سود میں 25 بیسس پوائنٹس کا اضافہ کرتے ہوئے قرض لینے والوں کو جھٹکا دیا ہے۔ ساتھ ہی مرکزی بینک نے اشارہ دیا ہے کہ مستقبل قریب میں شرح سود میں کمی کا امکان نہیں ہے
۔ تقریباً ساڑھے تین سال بعد شرح سود میں اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد ریپو ریٹ 5.50 فیصد ہوگیا ہے۔ تازہ فیصلے کے نتیجے میں ریپو ریٹ سے منسلک ہوم اور وہیکل لون مہنگے ہوسکتے ہیں اور قرض لینے والوں کی ماہانہ قسط یعنی EMI میں بھی اضافہ ہوسکتا ہے۔
اس اضافے کا اثر خاص طور پر ان لوگوں پر پڑے گا جنہوں نے فلوٹنگ انٹرسٹ ریٹ پر قرض لیا ہے۔ بینک ریپو ریٹ میں اضافے کا بوجھ مختلف طریقوں سے صارفین پر منتقل کرتے ہیں۔ بعض صورتوں میں EMI بڑھ جاتی ہے، جبکہ بعض حالات میں ماہانہ قسط برقرار رکھتے ہوئے قرض کی مدت بڑھا دی جاتی ہے۔ اس کا اثر قرض کی رقم، شرح سود اور مدت کے حساب سے مختلف ہوتا ہے۔
مثال کے طور پر، اگر کسی شخص نے 30 سال کے لیے 50 لاکھ روپے کا ہوم لون لیا ہے اور سرکاری بینک میں شرح سود 7.25 فیصد ہے، تو ریپو ریٹ میں اضافے کے بعد شرح سود 7.50 فیصد ہوسکتی ہے۔ اس صورت میں ماہانہ EMI تقریباً 34,109 روپے سے بڑھ کر 34,961 روپے ہوجائے گی۔ یعنی ہر ماہ تقریباً 852 روپے اضافی ادا کرنے پڑسکتے ہیں۔
اسی طرح اگر 50 لاکھ روپے کا قرض 30 سال کے لیے کسی نجی بینک سے 7.75 فیصد کی شرح پر لیا گیا ہو، تو شرح سود میں اضافے کے بعد ماہانہ EMI تقریباً 35,821 روپے سے بڑھ کر 36,685 روپے ہوسکتی ہے۔ یعنی قرض لینے والے کو ہر ماہ تقریباً 867 روپے زیادہ ادا کرنا پڑسکتے ہیں۔
ماہانہ بنیاد پر یہ رقم معمولی محسوس ہوسکتی ہے، لیکن طویل مدت میں قرض لینے والے پر اس کا بڑا مالی بوجھ پڑ سکتا ہے۔ مثال کے طور پر اگر قرض لیے ہوئے صرف ایک سال ہوا ہے تو مزید 29 سال تک EMI ادا کرنی ہوگی۔ اس طرح اضافی سود کی رقم مجموعی طور پر تقریباً 3 لاکھ روپے تک بڑھ سکتی ہے۔
قرض لینے والوں کو سب سے پہلے یہ معلوم کرنا چاہیے کہ ان کا قرض فلوٹنگ ریٹ سے منسلک ہے یا نہیں۔ اس کے بعد یہ بھی چیک کریں کہ بینک نے ریپو ریٹ میں اضافے کا اثر کس طرح منتقل کیا ہے۔ آیا EMI میں اضافہ کیا گیا ہے یا قرض کی مدت بڑھائی گئی ہے، اس کی جانچ ضروری ہے۔ اگر EMI یا قرض کی مدت میں کوئی غیر متوقع تبدیلی نظر آئے تو فوری طور پر بینک سے رابطہ کرنا چاہیے۔



