30 ہزار روپے میں نابالغ لڑکی کو جسم فروشی کے اڈہ پر فروخت کردیا گیا، حیدرآباد میں شرمناک واقعہ۔ ملزمین گرفتار

حیدرآباد: حیدرآباد کی ٹولی چوکی پولیس نے کم عمر لڑکی کو جسم فروشی کے اڈہ پر فروخت کردینے کے معاملہ کی تحقیقات کرتے ہوئے 8 ملزمین کو گرفتارکرلیا جن میں خواتین بھی شامل ہیں۔
پولیس کے مطابق اس معاملے میں شیخ عاطف، صبیحہ بیگم، محمد حاجی میاں، عفرین عرف ثنا، سمرین بیگم، محمد ندیم، محمد کیف الدین اور علی بن اکرم کو گرفتار کیا گیا ہے۔ ان تمام ملزمین کو 9 اکتوبر 2026 کو گرفتار کرنے کے بعد عدالت میں پیش کیا گیا۔
پولیس کی تفصیلات کے مطابق 2 ستمبر 2026 کو ایک کم عمر لڑکی کو مبینہ طور پر عاطف نے اپنے آٹو رکشہ نمبر TS 30 T 8350 میں ٹولی چوکی سے اغوا کیا اور منصوبے کے تحت اسے عطا پورلے گیا۔ وہاں اس نے لڑکی کو ثنا اور سمرین نامی خواتین کے حوالے کردیا۔
الزام ہے کہ ان دونوں خواتین نے لڑکی کو اچھے کھانے اور رہائش کا لالچ دیا اور بعد میں اسے زبردستی صبیحہ بیگم کے حوالے کردیا جو عطاپورمیں پلر نمبر 200 کے قریب جسم فروشی کا اڈہ چلانے کی مبینہ طور پر ذمہ دار تھی۔پولیس کے مطابق صبیحہ بیگم نے لڑکی کو حوالے کرنے کے عوض 30 ہزار روپے ادا کیے۔
الزام ہے کہ اس رقم کو عاطف، ثنا اور سمرین نے آپس میں تقسیم کرلیا۔ اس کے بعد صبیحہ بیگم نے مبینہ طور پر لڑکی کو جسم فروشی پر مجبور کیا ۔جب لڑکی نے وہاں سے جانے کی خواہش ظاہر کی تو صبیحہ بیگم نے مبینہ طور پر اسے بتایا کہ عاطف، ثنا اور سمرین نے رقم لے کر اسے جسم فروشی کے لیے اس کے حوالے کیا تھا۔
پولیس کے مطابق دیگر تین ملزمین، محمد ندیم، محمد کیف الدین اور علی بن اکرم، مبینہ طور پر گاہکوں کو وہاں لانے اور جسم فروشی کے کاروبار میں سہولت فراہم کرنے کا کام کرتے تھے۔پولیس کے مطابق 5 اکتوبر 2026 کو لڑکی کسی طرح وہاں سے فرار ہوکر اپنے گھر پہنچ گئی۔
اس نے اپنے اہل خانہ کو واقعے کی تفصیلات بتائیں جس کے بعد پولیس اسٹیشن میں شکایت درج کرائی گئی اور قانونی کارروائی کی درخواست کی گئی۔پولیس کا کہنا ہے کہ ملزمین کا مبینہ مقصد کم عمر لڑکیوں کی اسمگلنگ اور ان کا جنسی استحصال کرکے غیر قانونی طور پر رقم حاصل کرنا تھا۔
معاملے میں ملزمین کے انفرادی کردار اور مالی لین دین سے متعلق مزید تفصیلات تحقیقات اور عدالتی کارروائی کے تابع ہیں۔



