چچازاد بھائی بنا قاتل – سوئمنگ پول میں نوجوان کو پانی میں ڈبو دیا ؛ تڑپتی موت نے سب کو ہلا دیا
سنبھل: اترپردیش کے سنبھل ضلع میں ایک سوئمنگ پول میں نوجوان کو اس کے چچازاد بھائی نے مبینہ طور پر پانی میں ڈبو کر ہلاک کردیا۔ اس دل دہلا دینے والے واقعہ کی سی سی ٹی وی فوٹیج بھی سامنے آگئی ہے، جس میں صاف دیکھا جاسکتا ہے کہ نوجوان کے سر کو پوری طاقت سے پانی میں دبایا گیا جبکہ وہ تقریباً دو منٹ تک زندگی کیلئے تڑپتا رہا۔ بعد ازاں اس کی نعش پول کی تہہ میں چلی گئی۔
واقعہ نخاسہ علاقہ کے سلارپور کلاں گاؤں میں پیش آیا۔ ابتدا میں متوفی کے ارکان خاندان نے قتل کا الزام عائد کیا، تاہم بعد میں دونوں خاندانوں کے درمیان سمجھوتہ ہوگیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ گھر والوں نے پوسٹ مارٹم کرانے سے انکار کردیا اور کوئی تحریری شکایت بھی درج نہیں کرائی، اسی لئے کوئی قانونی کارروائی نہیں کی گئی۔
تفصیلات کے مطابق پپلی رامپور کے رہنے والے رئیس خانگی ملازم ہیں اور ان کے سات بچوں میں 18 سالہ سہیل بھی شامل تھا۔ پیر کی دوپہر سہیل اپنے چچازاد بھائی کے ساتھ سلارپور کلاں کے سوئمنگ پول میں نہانے گیا تھا۔ تقریباً ڈھائی بجے دونوں پول میں موجود تھے کہ اچانک چچازاد بھائی نے سہیل کا سر پانی میں دبادیا۔ ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ سہیل مسلسل باہر نکلنے کی کوشش کرتا رہا، مگر ملزم اسے نیچے دباتا رہا اور اِدھر اُدھر بھی دیکھتا رہا۔
اسی دوران کئی لوگ پول میں نہانے کیلئے کودے، مگر کسی کو صورتحال کا اندازہ نہیں ہوسکا۔ تقریباً دو منٹ بعد ملزم نے سہیل کو چھوڑ دیا۔ سہیل چند سیکنڈ کیلئے پانی کے اوپر آیا اور باہر نکلنے کی کوشش کی، لیکن دوبارہ ڈوب گیا اور اس کی نعش پول کی تہہ میں چلی گئی۔
سوئمنگ پول کے مالک سالم کے مطابق ایک شخص جب پول میں کودا تو اس کے پاؤں لاش سے ٹکرائے، جس کے بعد سہیل کو باہر نکالا گیا۔ گھر والے اسے ہاسپٹل لے گئے جہاں ڈاکٹروں نے مردہ قرار دے دیا۔
بعد ازاں جب گھر والوں کو یاد آیا کہ سہیل کو تیرنا آتا تھا تو انہیں شک ہوا۔ انہوں نے سوئمنگ پول کے سی سی ٹی وی کیمرے چیک کئے تو حقیقت سامنے آگئی اور ویڈیو میں چچازاد بھائی سہیل کو پانی میں ڈبوتا دکھائی دیا۔
فوجداری معاملات کے وکیل دیویندر کمار ساگر نے کہا کہ سی سی ٹی وی فوٹیج سامنے آنے کے بعد پولیس کو فوری طور پر مقدمہ درج کرنا چاہئے تھا۔ ان کے مطابق اگر ویڈیو سے جان بوجھ کر قتل ثابت ہوتا ہے تو یہ قتل کا سنگین جرم ہے، جبکہ لاپرواہی ثابت ہونے پر دفعات تبدیل ہوسکتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اگر ایسے معاملات میں کارروائی نہ کی جائے تو اس سے مجرمانہ ذہنیت کو فروغ ملتا ہے اور ملزم یہ سمجھنے لگتا ہے کہ جرم کرنے کے باوجود اس کا کچھ نہیں بگڑے گا۔
دوسری جانب پولیس اسٹیشن کے انچارج امیش سولنکی نے بتایا کہ دونوں خاندانوں کے درمیان سمجھوتہ ہوگیا تھا، جبکہ ایس پی کرشن کمار بشنوئی کے مطابق گھر والوں نے نہ پوسٹ مارٹم کرایا اور نہ ہی کوئی شکایت درج کروائی، اس لیے پولیس نے کوئی کارروائی نہیں کی۔



