ماں نے آن لائن قسط کی رقم ادا نہیں کی، لون ایپ کے ذمہ داوں نے بیٹی کی فحش تصاویر بنا کر بھیج دیں۔ حیدرآباد میں شرمناک واقعہ
File photo
حیدرآباد: تلگو ریاستوں میں گزشتہ کچھ عرصے سے آن لائن لون ایپ کے ذمہ داروں کی جانب سے ہراسانی کے واقعات روز بروز سنگین ہوتے جا رہے ہیں۔ قرض مقررہ وقت پر ادا نہ کرنے کا بہانہ بنا کر یہ لوگ کم عمر لڑکیوں کی تصاویر کو فحش انداز میں مورف کرکے انہیں بلیک میل کر رہے ہیں۔
حیدرآباد کے مضافاتی علاقے بوڈوپل سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون نے اپنے ایک رشتہ دار کی ضرورت کے لیے ’وردھان‘ نامی آن لائن لون ایپ کے ذریعے کچھ رقم بطور قرض حاصل کی تھی۔ تاہم گزشتہ چند دنوں سے ناگزیر وجوہات کے باعث وہ قرض کی قسط ادا نہیں کر سکی۔اس کے بعد لون ایپ کے نمائندوں نے اسے بار بار فون کرنا شروع کیا اور انتہائی نازیبا زبان استعمال کرتے ہوئے ہراساں کرنے لگے۔
جب ہراسانی میں مسلسل اضافہ ہوا تو خاتون نے ان کے فون نمبرز بلاک کر دیے۔خاتون کی جانب سے کالس بلاک کیے جانے پر لون ایپ کے منتظمین نے مزید سنگین حرکت کی۔ متاثرہ لڑکی کے فون کے رابطوں اور ڈیٹا تک بغیر اجازت کے رسائی حاصل کی گئی اور اس کی نابالغ بیٹی جو کہ دسویں جماعت میں پڑھتی ہے اس کی تصاویر کو فحش تصاویر میں تبدیل کر دیا گیا۔
مورف شدہ تصاویر براہ راست متاثرہ لڑکی کو بھیجی گئیں اور اسے سنگین سطح پر بلیک میل کیا گیا یہ دھمکیاں دی گئیں کہ وہ تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل کر دیں گے اور اگر بقایا قرض کی فوری ادائیگی نہیں کی گئی تو اسے بدنام کر دیا جائے گا۔ منتظمین کی دھمکیوں سے شدید خوفزدہ خاتون نے بالآخر پولیس سے رجوع کیا
اور تحریری شکایت درج کرائی۔ متاثرہ کی شکایت پر پولیس نے مقدمہ درج کر کے تفتیش شروع کر دی۔



