جرائم و حادثات

40 سال سے فرار قتل واقعہ کا مجرم 73 سال کی عمر میں گرفتار۔ ٹیچر کی نوکری حاصل کرنے کا انکشاف

حیدرآباد: قتل کے ایک مقدمے میں عمر قید کی سزا پانے والے شخص نے جیل میں صرف 6 ماہ اور 7 دن گزارے پیرول پر باہر آنے کے بعد وہ دوبارہ جیل نہیں گیا بلکہ 40 سال سے زائد عرصے تک روپوش زندگی گزارتا رہا اس دوران اس نے اپنا نام تبدیل کرکے سرکاری ٹیچر کی ملازمت حاصل کی

 

اور ’’ بیسٹ ٹیچر‘‘ کا ایوارڈ بھی حاصل کیا بالآخر 73 سال کی عمر میں اسے دوبارہ گرفتار کرلیا گیا۔ 1982 میں محبوب آباد میں ایک پان شاپ کے قریب جھگڑے کے دوران تاجر پنڈری کو ترازو کے باٹ سے مار کر قتل کردیا گیا تھا اس معاملے میں ویرانابھی ملزم تھا۔اس مقدمے میں ورنگل کی ایڈیشنل ڈسٹرکٹ کورٹ نے 9 جون 1983 کو اسے عمر قید کی سزا سنائی

 

اس کے بعد ویرانا کو ورنگل سنٹرل جیل میں قیدی نمبر 1567 کے طور پر رکھا گیا۔تاہم عمر قید کی سزا کے دوران اس نے صرف 6 ماہ اور 7 دن جیل میں گزارے۔ 17 دسمبر 1983 کو وہ 30 دن کے پیرول پر جیل سے باہر آیا بعد ازاں پیرول کی مدت 17 مارچ 1984 تک بڑھا دی گئیاسے 18 مارچ کو دوبارہ جیل میں حاضر ہونا تھا لیکن وہ واپس نہیں آیا اور روپوش ہوگیا۔

 

ہائی کورٹ کے ریکارڈ کے مطابق 40 سال اور 58 دن بعد 16 مئی 2024 کو ورنگل سنٹرل جیل کی خصوصی ٹاسک فورس نے اسے گرفتار کرلیا بعد ازاں ورنگل سنٹرل جیل بند ہونے کی وجہ سے اسے چرلہ پلی سنٹرل جیل منتقل کردیا گیا۔عدالت ریکارڈ کے مطابق ویرانا نے اتنے طویل عرصہ تک حکام سے بچنے کے لیے اپنا نام تبدیل کرلیا

 

اور گوڑی واڑہ میں سرکاری ٹیچرکی ملازمت حاصل کرلی وہ 2013 میں ریٹائر ہوا اور اس وقت پنشن بھی حاصل کررہا تھا۔ ملازمت کے دوران اسے ’’بیسٹ‘‘ کا ایوارڈ بھی حاصل ہوا تھا۔حیرت کی بات یہ ہے کہ وہ 2013 سے محبوب آباد ضلع میں ہی مقیم تھا

 

لیکن حکام 2024 تک اسے گرفتار نہیں کرسکے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button