سکندرآباد میں 6 سالہ بچی کا اغوا کے بعد قتل، اپارٹمنٹ کے سیلر سے نعش برآمد

حیدرآباد: سکندرآباد کے علاقہ کاکوتور میں چھ سالہ بچی کے لاپتہ ہونے کا واقعہ المناک انجام کو پہنچا۔ ولا آرکیڈس اپارٹمنٹ کی رہائشی ارولیا موزیس کی نعش اپارٹمنٹ کے سیلر میں پولیس نے برآمد کرلی۔ اس معاملہ میں اسی اپارٹمنٹ میں سکیورٹی گارڈ کے طور پر کام کرنے والے وکرم کو اہم مشتبہ ملزم قرار دیا جارہا ہے۔ پولیس کو شبہ ہے کہ اس نے رقم کے لئے بچی کا اغوا کیا اور بعد ازاں اس کا قتل کردیا۔
بچی کے لاپتہ ہونے کے بعد پولیس نے اغوا کے شبہ میں تحقیقات شروع کیں۔ اپارٹمنٹ کے اطراف نصب سی سی ٹی وی کیمروں کی جانچ کے دوران وکرم کو بچی کے پیچھے جاتے ہوئے دیکھے جانے کی اطلاع ہے۔ تحقیقات میں یہ بھی سامنے آیا کہ واقعہ سے قبل دو دن تک وہ بچی کے گھر کے اطراف مشتبہ حالت میں گھوم رہا تھا
۔ وکرم کے موبائل فون کی لوکیشن سکندرآباد ریلوے اسٹیشن کے اطراف پائے جانے پر پولیس نے تلاش میں شدت پیدا کردی۔ خصوصی ٹیموں نے ولا کالونی، ریلوے اسٹیشن اور اطراف کے لاجس میں تلاشی لی، جبکہ ڈرون کی مدد سے بھی تلاش کی گئی
۔ اس دوران کلب ہاؤس کے قریب ایک سائیکل کی موجودگی کی بنیاد پر جانچ کی گئی تو سیلر میں جمع پانی سے بچی کی نعش برآمد ہوئی۔ پولیس نے نعش کو تحویل میں لے کر پوسٹ مارٹم کے لئے گاندھی ہاسپٹل منتقل کردیا۔
20 لاکھ روپے کے لئے اغوا کا شبہ
پولیس کے ابتدائی اندازے کے مطابق وکرم نے بچی کو اغوا کرکے اس کے والد سے 20 لاکھ روپے وصول کرنے کا منصوبہ بنایا تھا۔ شبہ ہے کہ اس نے بچی کے ہاتھ پاؤں باندھ کر اور منہ میں کپڑا ٹھونس کر گھر والوں کو دھمکانے کا منصوبہ بنایا تھا۔ تاہم، جرم کا انکشاف ہونے اور پکڑے جانے کے خوف سے اس نے بچی کا قتل کرکے نعش سیلر میں پھینک دی۔ پولیس کا کہنا ہے کہ واقعہ کی مکمل تفصیلات تحقیقات کے بعد سامنے آئیں گی۔
دو افراد پولیس کی تحویل میں، اصل ملزم کی تلاش جاری
پولیس اس معاملہ میں دو افراد کو تحویل میں لے کر پوچھ گچھ کررہی ہے، جبکہ فرار وکرم کی گرفتاری کے لئے ملکاجگیری زون پولیس نے خصوصی ٹیمیں تشکیل دی ہیں۔ بولارم پولیس اسٹیشن میں مقدمہ درج کرکے تحقیقات جاری ہیں
۔ بیٹی کی موت پر گھر والے غم سے نڈھال ہیں۔ خاندان کے افراد اور مقامی لوگوں نے مطالبہ کیا ہے کہ ملزم کو جلد گرفتار کرکے سخت سزا دی جائے۔




