جرائم و حادثات

معز الدین کے قتل میں استعمال گاڑی 6 ماہ قبل خریدنے کا انکشاف

حیدرآباد: شہر کے علاقہ مانصاحب ٹینک شانتی نگر میں بے رحمی سے قتل کئے گئے ایڈوکیٹ خواجہ معز الدین قتل کیس میں پولیس نے اہم شواہد حاصل کرلئے ہیں۔ ابتدائی تحقیقات میں انکشاف ہوا ہے کہ اس قتل میں چھ افراد ملوث

 

تھے۔ پولیس نے قتل میں استعمال کی گئی گاڑی کو اسکارپیو کے طور پر شناخت کرتے ہوئے اس کے مالک سے پوچھ تاچھ کی تاہم گاڑی کے مالک نے پولیس کو بتایا کہ اس نے یہ گاڑی چھ ماہ قبل ہی کسی اور افراد کو فروخت کردی تھی

 

لیکن گاڑی خریدنے والے شخص کے بارے میں اسے کوئی معلومات نہیں ہیں۔اس کے بعد پولیس یہ جاننے کی کوشش کررہی ہے کہ یہ گاڑی کس نے خریدی تھی۔ واضح رہے کہ گزشتہ ہفتہ کے دن معروف وکیل خواجہ معین الدین کو نامعلوم

 

افراد نے کار سے ٹکر دے کر قتل کردیا تھا۔ وہ اپنے مکان سے کار میں روانہ ہورہے تھے کہ پیچھے سے تیز رفتاری سے آنے والے حملہ آوروں کی گاڑی نے انھیں ٹکر دے دی تھی۔ اس واقعہ میں معز الدین شدید زخمی ہوگئے تھے، جس پر

 

مقامی افراد نے انہیں فوری طور پر دواخانہ منتقل کیاتاہم علاج کے دوران وہ زخموں سے جانبر نہ ہوسکے۔ واردات کے بعد ملزمین وہاں سے فرار ہوگئے۔ حملہ کے مناظر قریب میں نصب سی سی ٹی وی

 

کیمروں میں قید ہوگئے ہیں۔ پولیس نے اس واقعہ پر مقدمہ درج کرکے تحقیقات کا آغاز کردیا ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button