جرائم و حادثات

حیدرآباد کے ایک خواتین ہاسٹل میں مبینہ طور پر لڑکیوں کے انڈے نکالنے کا ریاکٹ بے نقاب، 10 خواتین زیر حراست

 

حیدرآباد: شہر حیدراباد کے بیگم پیٹ علاقے میں خواتین کے ہاسٹل سے مبینہ طور پر غیر قانونی طریقے سے عورتوں کے جسم سے تولیدی بیضے (Eggs) نکالنے اور انہیں فرٹیلیٹی مراکز کو فراہم کرنے کے معاملے کا انکشاف ہوا ہے۔ پولیس نے جمعرات کی نصف شب اچانک دھاوا کرتے ہوئے تقریباً 10 خواتین کو حراست میں لے لیا۔

 

پرکاش نگر میں واقع امی نیتا گرلز ہاسٹل پر بیگم پیٹ پولیس اور ملکاجگیری اسپیشل آپریشنز ٹیم (ایس او ٹی) نے خفیہ اطلاع کی بنیاد پر مشترکہ کارروائی کی۔ ابتدائی تحقیقات میں شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اس ہاسٹل میں نوجوان خواتین کو رکھ کر ان کے جسم سے طبی طریقۂ کار کے ذریعہ تولیدی بیضے نکالے جاتے تھے اور بعد ازاں انہیں اولاد پیدا کرنے کے علاج (IVF) کے مراکز کو فراہم کیا جاتا تھا۔

 

پولیس کے مطابق یہ مبینہ سرگرمیاں گزشتہ تقریباً ایک سال سے جاری تھیں۔ مختلف ریاستوں سے خواتین کو ہاسٹل لانے، ان کے بیضے حاصل کرنے اور انہیں فرٹیلیٹی مراکز تک پہنچانے میں ملوث افراد کی شناخت کی کوشش کی جا رہی ہے۔ پولیس اس بات کی بھی تحقیقات کر رہی ہے کہ خواتین کو کون لاتا تھا، طبی کارروائیوں کا انتظام کون کرتا تھا اور اس مبینہ کاروبار سے مالی فائدہ کن افراد کو حاصل ہو رہا تھا۔

 

اس معاملے میں تحقیقات کا دائرہ مزید وسیع ہوگیا ہے۔ پولیس کو شبہ ہے کہ ہاسٹل میں بعض مردوں سے اسپرم (مادۂ تولید) کے نمونے بھی حاصل کئے گئے تھے۔ عہدیدار اس پہلو کی بھی جانچ کر رہے ہیں کہ آیا یہ سرگرمیاں بھی اسی مبینہ ریاکٹ کا حصہ تھیں۔

 

ہاسٹل میں بہار، اترپردیش اور اڈیشہ سے تعلق رکھنے والی تقریباً 10 خواتین موجود پائی گئیں، جنہیں پوچھ تاچھ کے لیے حراست میں لیا گیا ہے۔ پولیس اس بات کا پتہ لگانے کی کوشش کر رہی ہے کہ آیا یہ خواتین اپنی مرضی سے یہاں آئی تھیں، انہیں بیضے نکالنے کے عمل کی مکمل معلومات تھیں یا پھر ایجنٹوں کے ذریعہ انہیں ہاسٹل لایا گیا تھا۔

 

پولیس ہاسٹل انتظامیہ، مبینہ ایجنٹوں اور فرٹیلیٹی مراکز کے درمیان روابط کی بھی تحقیقات کر رہی ہے۔ زیر حراست خواتین اور دیگر متعلقہ افراد سے پوچھ تاچھ جاری ہے۔ تحقیقات میں سامنے آنے والے شواہد کی بنیاد پر مزید کارروائی کی جائے گی۔

 

متعلقہ خبریں

Back to top button